جی این این سوشل

پاکستان

سنیٹر سرفراز بگٹی اور پرنس عمر احمد زئی سینیٹ کی سیٹ سے مستعفی

سنیٹر سرفراز بگٹی نے اپنا استعفی چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو پیش کردیا، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سنیٹر سرفراز بگٹی کا استعفی منظور کرلیا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

سنیٹر سرفراز بگٹی اور پرنس عمر احمد زئی سینیٹ کی سیٹ سے مستعفی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

بلوچستان عوامی پارٹی کی جانب سے سینیٹر منتخب ہونے والے سنیٹر سرفراز بگٹی اور پرنس عمر احمد زئی نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا۔ 

دوسری جانب بلوچستان عوامی پارٹی کی سینیٹر پرنس عمر احمد زئی سینیٹ کی نشست سے مستعفی ہوگئے- سینیٹر پرنس عمر احمد زئی  نے اپنا استعفی چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو پیش کردیا۔

یاد رہے کہ سنیٹر سرفراز بگٹی نے اپنا استعفی چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو پیش کردیا، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سنیٹر سرفراز بگٹی کا استعفی منظور کرلیا.

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سینیٹر پرنس عمر احمد زئی کا استعفی منظور کرلیا- سینیٹر پرنس عمر احمد زئی بلوچستان اسمبلی میں بطور ایم پی اے حلف لیں گے۔

پاکستان

کالعدم ٹی ٹی پی کی بزدلی اور موقع پرستی بے نقاب

ٹی ٹی پی کے رہنما دوغلے ہیں کیونکہ وہ کبھی بھی اپنے جنگجوؤں کی آگے سے قیادت نہیں کرتے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کالعدم ٹی ٹی پی کی بزدلی اور موقع پرستی  بے نقاب

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے رہنما دوغلے، موقع پرست، بزدل اور دھوکے باز ہیں۔ وہ ان خصلتوں کو پاکستان میں اپنے ناپاک عزائم کے لیے معصوم لوگوں کو پیادوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

ٹی ٹی پی کے رہنما دوغلے ہیں کیونکہ وہ اپنے نام نہاد مقصد کا پرچار تو کرتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی اپنے جنگجوؤں کی آگے سے قیادت نہیں کرتے، ان کی  مکمل قیادت جن میں مفتی نور ولی محسود، منگل باغ، محمد خراسانی، فقیر محمد شامل ہیں ، سبافغانستان میں مقیم ہے جبکہ ان کے جنگجو پاکستان میں ایک لاحاصل جنگ لڑ رہے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ ان میں سے کئی کمانڈر افغانستان کے اندر مارے جا چکے ہیں۔ مثال کے طور پر عمر خالد خراسانی، مفتی حسن سواتی، حافظ دولت خان، ملا فضل اللہ، عتیق الرحمان عرف ٹیپو گل مروت اور عمر منصور افغانستان میں نامعلوم حملہ آوروں کےہاتھوں قتل ہوئے۔ اپنے جنگجوؤں کی قیادت کرنےسے گریز کرتےریے اور بالآخر اقتدار اور پیسے کی خاطر اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں افغانستان کےاندر محفوظ اور آرام دہ ٹھکانوں میں مارے گئے۔

وہ موقع پرست اور چالاک ہیں کیونکہ وہ افغانستان میں آرام دہ زندگی گزارتے ہیں، لیکن اپنے بہکائے ہوئے ہرکاروں کو پاکستان میں سخت اور خوفناک حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے جہاں بالآخر ان دہشت گردوں کو سکیورٹی فورسز نے ختم کر دیا ہے۔

پاکستان کی حکومت کے ساتھ حالیہ مفاہمتی عمل بھی اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے جہاں ٹی ٹی پی کے رہنماؤں نے مفاہمتی عمل کی آڑ میں پاکستان میں اپنے قدم بڑھا کر موقع پرستی کا مظاہرہ کیا۔

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کے فتویٰ کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے افغانستان میں نام نہاد جہاد کے لیے غریب افغان شہریوں کو نشانہ بنانے اور آمادہ کرنے کے ذریعے ان کی ہیرا پھیری اور فریب کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کی تازہ مثال افغانستان کے صوبہ پکتیکا کا رہنے والا دہشت گرد ملک الدین مصباح ہے جو حال ہی میں شمالی وزیرستان کے غلام خان بارڈر سے پاکستان میں دراندازی کے دوران مارے گئے 7 حملہ آوروں میں شامل تھا۔

ٹی ٹی پی کے رہنما اپنے غیر ملکی آقاؤں سے مدد حاصل کرتے ہیں اور پاکستان میں اپنے مسلمان بھائیوں کا خون بہانے کے لیے ان کی کٹھ پتلیوں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ پیسے کی خاطر وہ مسلمان ہونے کی مذہبی، اخلاقی اور اخلاقی اقدار کو بھول چکے ہیں اور وحشیوں کا روپ دھار رہے ہیں جو اپنے غیر ملکی آقاؤں کے کہنے پر مسلمانوں کے خلاف وحشیانہ طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، ٹی ٹی پی کے ارکان اور ان کے خاندانوں کو طالبان سے باقاعدہ امداد ملتی ہے اور یہ کہ افغان حکام مبینہ طور پر ٹی ٹی پی رہنما نور ولی محسود کو ماہانہ $50,500 ڈالر فراہم کرتے تھے۔

ٹی ٹی پی کے رہنما اپنے ان بہکائے ہوئے دہشتگرد ہرکاروں کااستحصال کرتے ہیں جنہیں ٹشو پیپرز کے طور پر استعمال کرنے کے بعد ضائع یا پھینک دیا جاتا ہے۔

غریب اور معصوم لوگوں کو خودکش حملوں کے لیے برین واش کیا جاتا ہے لیکن خود لیڈران اور ان کے رشتہ دار کبھی بھی لڑائی/خودکش حملوں میں حصہ نہیں لیتے۔

ٹی ٹی پی کے رہنما پاکستان کے مذہبی، اخلاقی، اخلاقی اور ثقافتی اقدار سے پوری طرح غافل ہیں اور مذہبی جوڑ توڑ، جبر، دھمکی اور خوف کے ہتھکنڈوں کے ذریعے معصوم لوگوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ پاکستانی عوام ٹی ٹی پی کے خود غرضانہ مقاصد اور ان کے "فسادی ایجنڈے" سے بخوبی واقف ہیں۔

پاکستانی عوام کی حمایت سے سیکیورٹی فورسز اپنی لگن اور عزم کے ذریعے پاکستان سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کر دیں گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پولیس کےشعبے میں خواتین کی تعداد بڑھا نا چاہتے ہیں، مریم نواز

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی پولیس کی وردی پہنےپاسنگ آئوٹ پریڈ میں شرکت

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پولیس کےشعبے میں خواتین کی تعداد بڑھا نا چاہتے ہیں، مریم نواز

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ ہم پولیس کے شعبے میں خواتین کی تعداد بڑھاناچاہتے ہیں۔ 
چوہنگ پولیس ٹریننگ کالج میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاسنگ آؤٹ پریڈ میں شرکت کرنا باعث فخر ہے، پولیس کےشعبے میں خواتین کی تعداد بڑھا کر نصف کرنا چاہتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پولیس کی وردی پہنے پولیس ٹریننگ سینٹر کالج چوہنگ پہنچیں جہاں انہوں نے پاس آؤٹ ہونے والی خواتین پولیس اہلکاروں کو مبارکباد دی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سب کو سلام پیش کرتی ہوں، مجھے خوشی ہوئی کہ پہلی سوارڈ آف آنر ایک خواتین پولیس افسر کو ملی، مجھے آپ سب پر فخر ہے، جب سے میں نے وزیر اعلیٰ کا حلف لیا تب سے میں اس تقریب کا انتظار کر رہی تھی۔
مریم نواز نے کہا کہ خوشی ہوئی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں 530 خواتین شریک ہیں، پولیس میں خواتین اہلکاروں کو ڈیوٹی پر دیکھ کر خوشی ہوئی، آج پہلی بار یونیفارم پہنا تو اندازہ ہوا یہ کتنی بڑی ذمہ داری ہے، پولیس کے شعبے میں خدمات انجام دینے والی خواتین پر فخر ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ مظلوم کی داد رسی کریں اور ظالم کو اس کے انجام تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 7 ہزار خواتین پولیس اہلکار ہیں، پولیس میں خواتین کی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں، لیڈی پولیس اہلکار سپر ہیومن ہیں، خواتین نرم دل ہوتی ہیں اس لئے معاف کر دیتی ہیں، ظالم کیلئے آپ کے دل میں کوئی نرمی نہیں ہونی چاہیے۔
وزیراعلیٰ پنجاب  کا کہنا تھا کہ میرے دل میں انتقام کا کوئی جذبہ نہیں، وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر کسی کے خلاف فیصلہ کرنا ہو تو دل پر پتھر رکھ کر کرتی ہوں، وزیراعلیٰ کی کرسی میرے لئے آسان نہیں تھی، مجھے یہاں آگ کا دریا عبور کر کے پہنچنا پڑا۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

وفاقی وزیر صنعت و پیداوار کی یوریا کھاد درآمد کرنے کی سفارش

کھاد کی قلت سے بچنے کیلئےیوریا کھاد فوری درآمد کا معاملہ ای سی سی کے اجلاس میں پیش کیا جائے،رانا تنویر حسین کی ہدایت

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وفاقی وزیر صنعت و پیداوار کی یوریا کھاد درآمد کرنے کی سفارش

وفاقی وزیر صنعت و پیداوار راناتنویرحسین نے یوریا کھاد درآمد کرنے کی سفارش کر دی۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر صنعت وپیداوار رانا تنویر حسین نے ہدایت کی ہے کہ کھاد کی قلت سے بچنے کےلئے2 لاکھ میٹرک ٹن یوریا کھاد فوری درآمد کا معاملہ ای سی سی کے اجلاس میں پیش کیا جائے،خریف سیزن میں یوریا کھاد کی مانگ گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.6 فیصد زیادہ ہے۔
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے فرٹیلائزر ریویو کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئےکیا۔ انہوں نے کہاکہ قلت سے بچنے کے لیے 2 لاکھ میٹرک ٹن یوریا کھاد فوری درآمد کا معاملہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا جائےکیونکہ خریف سیزن میں یوریا کھاد کی مانگ گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.6 فیصد زیادہ ہے۔
اس حوالے سے وزارت صنعت و پیداوار نے یوریا کھاد کی قیمت اور سپلائی کو مستحکم کرنے کے لیےبڑا فیصلہ کرتے ہوئے فرٹیلائزر ریویو کمیٹی کے ذریعے خریف سیزن کے لیے یوریا کھاد کی درآمد کی سفارش کی ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا کہ درآمد کا مقصد ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے،درآمد سے پاکستان کے کسانوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔ 
انہوں نے کہا کہ یوریا کھاد کی بروقت درآمد سے قیمت میں نمایاں کمی آئے گی،مقامی یوریا کھاد کی مارکیٹ مستحکم ہو گی،کسانوں کو خریف سیزن میں یوریا کھاد بلا تعطل میسر ہوگی، وفاقی وزیر رانا تنویر نے کہاکہ تمام مقامی یوریا فرٹیلائزر پلانٹس بھی پوری صلاحیت کے ساتھ فعال رہیں گے۔ 
رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت کسانوں کے فائدے کے لیے فرٹیلائزر انڈسٹری کو گیس کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے۔ترجمان وزارت صنعت و پیداوار نے کہا کہ یوریا کھاد کی درآمد کا حتمی فیصلہ اقتصادی رابطہ کمیٹی آئندہ اجلاس میں کرے گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll