Advertisement

بھارتی حکومت نےمسلمانوں کےخلاف 2019 کے امتیازی شہریت قانون پر عملدرآمد کا اعلان

بھارتی پارلیمنٹ نے2019 میں اس قانون کی منظوری دی تھی

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Mar 13th 2024, 7:56 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
بھارتی حکومت نےمسلمانوں کےخلاف 2019 کے امتیازی شہریت قانون پر عملدرآمد کا اعلان

بھارتی حکومت نےمسلمانوں کےخلاف 2019 کے امتیازی شہریت قانون پر عملدرآمد کا اعلان کیا ہے۔

اس ایکٹ کے تحت اکتیس دسمبر 2014 سے پہلے بنیادی طور پر افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے بھارت آنے والے ہندووں،پارسیوں، سکھوں، بد ھ مت اور جین مذہب کے ماننےوالوں اور عیسائیوں کو شہریت کا اہل قرار دیا گیا ہے اور مسلمانوں کو قطعی نظرانداز کیا گیا ہے جن کی تینوں ممالک میں واضح اکثریت ہے۔

بھارتی پارلیمنٹ نے2019 میں اس قانون کی منظوری دی تھی تاہم مودی حکومت نے دارالحکومت نئی دلی اور ملک بھر میں شدید احتجاجی مظاہرے شروع ہونے کی وجہ سے اس قانون پر عملدرآمد روک دیا تھا۔

Advertisement