خط میں یہ کہنا جاری رکھا گیا کہ ججوں کے لیے موجودہ ضابطہ اخلاق اس بات کی رہنمائی کرنے سے قاصر ہے کہ انٹیلی جنس ایجنٹوں کی جانب سے عدالتی آزادی کو مجروح کرنے پر ججوں کو کس طرح ردعمل دینا چاہیے


اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے خط کے معاملے پر فل کورٹ اجلاس طلب کرلیا۔
چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے عدالتی معاملات میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کے خط کے بعد فل کورٹ اجلاس طلب کر لیا۔
چیف جسٹس قاضی فائز نے اس حوالے سے اٹارنی جنرل آف پاکستان (اے جی پی) منصور عثمان اعوان سے بھی مشاورت کی جس کے بعد فل کورٹ میٹنگ بلائی گئی ہے۔
دوسری جانب صحافیوں سے گفتگو میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ ججز کے خط کا معاملہ سنگین ہے اور اس کی تحقیقات ہونی چاہیے'۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز IHC کے 6 ججوں نے SJC کو ججوں کے کام میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مبینہ مداخلت اور دباؤ کے حوالے سے خط لکھا تھا۔
اسے جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، جسٹس ارباب محمد طاہر اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سمن رفٹ امتیاز نے لکھا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ہم IHC کے جج کی حیثیت سے ججوں کے کام میں خفیہ ایجنسیوں سمیت ایگزیکٹو ممبران کی مداخلت اور ججوں پر دباؤ ڈالنے کے حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل سے رہنمائی چاہتے ہیں۔
یہ معاملہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے نتیجے میں سامنے آیا جس میں سپریم کورٹ کی جانب سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی سال 2018 میں برطرفی کو کالعدم اور غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ریٹائرڈ تصور کیا جائے گا۔ خط
خط میں یہ کہنا جاری رکھا گیا کہ ججوں کے لیے موجودہ ضابطہ اخلاق اس بات کی رہنمائی کرنے سے قاصر ہے کہ انٹیلی جنس ایجنٹوں کی جانب سے عدالتی آزادی کو مجروح کرنے پر ججوں کو کس طرح ردعمل دینا چاہیے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اس بات کی تحقیقات کے لیے بہت اہم ہے کہ آیا عدالت کے کام میں مداخلت کی پالیسی ہے۔ ریاست کی طرف سے عدلیہ اب بھی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے نافذ ہو رہی ہے۔
ججز کی جانب سے لکھے گئے خط میں خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے اسلام آباد کی عدلیہ کو درپیش دھمکیوں کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

سونا مسلسل دوسرے روز ہزاروں روپے مہنگا، نئی قیمت کیا ہو گئی؟
- 4 hours ago

اسحاق ڈارکا سعودی وزیر خارجہ سے ا ٹیلیفونک رابطہ،امریکہ،ایران مذاکرات کا خیرمقدم
- 2 hours ago

اسحا ق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ،خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال
- 7 hours ago

حکومت معاشی استحکام کے مرحلے سے نکل کر اب پائیدار معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے،وزیر خزانہ
- 7 hours ago

ایران،امریکا امن معاہدہ 24 گھنٹوں میں حتمی شکل اختیار کرلے گا،وزیراعظم
- 6 hours ago

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کا اعلان ہو گیا،تقریبات 6 روز تک جاری رہیں گی
- 3 hours ago

چیئرمین یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد کی پنجاب یونیورسٹی کے فلم اینڈ براڈکاسٹنگ ڈیپارٹمنٹ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی
- 2 hours ago

لاہور چیمبر میں برآمدات کے فروغ سمیت ایکسپورٹرز کے مسائل کے حل کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد
- 4 hours ago

برصغیر کےعظیم گلوکار، شہنشاہ غزل استاد مہدی حسن کو مداحوں سے بچھڑے14 برس بیت گئے
- 3 hours ago

آسام میں بھارتی فضائیہ کا ایک او ر جنگی طیارہ گر کر تباہ،ائیر فورس کی تصدیق
- 7 hours ago

اسلام آباد ڈیکلریشن سے عالمی امن قائم ہو رہا ہے، پاکستان نے تیسری عالمی جنگ روکی یہ اعزاز کی بات ہے،طاہر اشرفی
- 7 hours ago

شہباز شریف سے قطر کے وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا
- 2 hours ago






.jpg&w=3840&q=75)
.webp&w=3840&q=75)



