Advertisement
پاکستان

فل کورٹ اجلاس میں نئی پیش رفت

خط میں یہ کہنا جاری رکھا گیا کہ ججوں کے لیے موجودہ ضابطہ اخلاق اس بات کی رہنمائی کرنے سے قاصر ہے کہ انٹیلی جنس ایجنٹوں کی جانب سے عدالتی آزادی کو مجروح کرنے پر ججوں کو کس طرح ردعمل دینا چاہیے

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Mar 28th 2024, 3:24 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
فل کورٹ اجلاس میں نئی پیش رفت

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان  قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے خط کے معاملے پر فل کورٹ اجلاس طلب کرلیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے عدالتی معاملات میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کے خط کے بعد فل کورٹ اجلاس طلب کر لیا۔


چیف جسٹس قاضی فائز نے اس حوالے سے اٹارنی جنرل آف پاکستان (اے جی پی) منصور عثمان اعوان سے بھی مشاورت کی جس کے بعد فل کورٹ میٹنگ بلائی گئی ہے۔


دوسری جانب صحافیوں سے گفتگو میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ ججز کے خط کا معاملہ سنگین ہے اور اس کی تحقیقات ہونی چاہیے'۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز IHC کے 6 ججوں نے SJC کو ججوں کے کام میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مبینہ مداخلت اور دباؤ کے حوالے سے خط لکھا تھا۔

اسے جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، جسٹس ارباب محمد طاہر اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سمن رفٹ امتیاز نے لکھا۔


خط میں کہا گیا ہے کہ ہم IHC کے جج کی حیثیت سے ججوں کے کام میں خفیہ ایجنسیوں سمیت ایگزیکٹو ممبران کی مداخلت اور ججوں پر دباؤ ڈالنے کے حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل سے رہنمائی چاہتے ہیں۔

یہ معاملہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے نتیجے میں سامنے آیا جس میں سپریم کورٹ کی جانب سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی سال 2018 میں برطرفی کو کالعدم اور غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ریٹائرڈ تصور کیا جائے گا۔ خط

خط میں یہ کہنا جاری رکھا گیا کہ ججوں کے لیے موجودہ ضابطہ اخلاق اس بات کی رہنمائی کرنے سے قاصر ہے کہ انٹیلی جنس ایجنٹوں کی جانب سے عدالتی آزادی کو مجروح کرنے پر ججوں کو کس طرح ردعمل دینا چاہیے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اس بات کی تحقیقات کے لیے بہت اہم ہے کہ آیا عدالت کے کام میں مداخلت کی پالیسی ہے۔ ریاست کی طرف سے عدلیہ اب بھی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے نافذ ہو رہی ہے۔

ججز کی جانب سے لکھے گئے خط میں خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے اسلام آباد کی عدلیہ کو درپیش دھمکیوں کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

Advertisement