لند ن : نو بل پرائز یافتہ ملالہ یوسفزئی نے فیشن میگزین " برٹش ووگ " کو انٹرویو دیا ہے، انہوں نے کہا ہےکہ یونیورسٹی جانے کے بعد آخرکار نے انہیں اپنے لئے کچھ وقت نکالا ہے۔

معروف فیشن میگزین " برٹش ووگ " کو انٹریو دیتے ہوئے 23 سالہ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ "میں یونیورسٹی میں کسی بھی قسم کی سرگرمی کیلئے پرجوش تھی۔ بے شک وہ میک ڈونلڈز جا کر یا اپنے دوستوں کے ساتھ پوکر کھیل کر یا کسی تقریب میں جا کر ہو۔
یونیورسٹی میں گزارے اپنے وقت پر گفتگو کرتے ہوئے "میں ہر لمحے سے لطف اندوز ہوئی کیونکہ میں نے پہلے یہ سب نہیں دیکھا تھا۔"
ملالہ یوسف زئی کو 15 سال کی عمر میں طالبان نے پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے حصول کی مہم چلانے کی وجہ سے سر میں گولی ماری تھی۔
انہوں نے کہا کہ وہ واقعتا اپنی عمر کے لوگوں کی صحبت میں نہیں تھیں کیونکہ میں اس واقعے سے صحت یاب ہو رہی تھیں اور دنیا بھر کا سفر کررہی تھیں ،کیونکہ اس دوران ایک کتاب شائع کرنا اور ایک دستاویزی فلم بنانا اور بہت ساری باتیں ہو رہی تھیں۔

ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ ان کی شہرت نے برمنگھم میں اسکول کی تعلیم کو متاثر کیا تھا جہاں وہ پاکستان چھوڑنے کے بعد تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔
انہوں نے کہا ، "لوگ مجھ سے ایسی چیزیں پوچھتے جیسے ، 'جب آپ ایما واٹسن ، یا انجلینا جولی یا اوباما سے ملیں تو آپ کو کیسا لگتا تھا؟'
"اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کیا کہوں، یہ عجیب بات ہے ، کیوں کہ آپ اس ملالہ کو اسکول کی عمارت کے باہر چھوڑنا چاہتے ہیں ، آپ صرف ایک طالب علم اور دوست بننا چاہتے ہیں۔
ملالہ یوسف زئی جنہیں سرخ ہیڈ سکارف میں " برٹش ووگ " میگزین کے کور پر فیچر کیا گیا تھا ، نے ثقافتی طور پر اپنے لباس کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا ، "یہ ہمارے لئے پشتونوں کی ثقافتی علامت ہے ، لہذا یہ نمائندگی کرتی ہے کہ میں کہاں سے آئی ہوں۔"
"اور مسلمان لڑکیاں یا پشتون لڑکیاں یا پاکستانی لڑکیاں ، جب ہم اپنے روایتی لباس پہنتی ہیں تو ، ہمیں مظلوم ، یا بے آواز ، یا مردوں کی سرپرستی کے تحت زندگی گزارنے والا سمجھا جاتا ہے۔
"میں ہر ایک کو بتانا چاہتی ہوں کہ آپ اپنی ثقافت کے اندر اپنی آواز بن سکتے ہیں ، اور آپ کو اپنی ثقافت میں مساوات مل سکتی ہے۔"

ملالہ یوسفزئی 2014 میں اب تک کی سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ ہیں ، جنہوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے حصول کیلئے مہم چلا کر قابل قدر تعریف حاصل کی تھی۔
ملالہ یوسفرزئی نے گذشتہ سال آکسفورڈ یونیورسٹی میں فلسفہ ، سیاست اور معاشیات کی ڈگری مکمل کی تھی۔

خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کی منظوری
- 35 minutes ago
.webp&w=3840&q=75)
اے آئی کی گورننس ،اخلاقی استعمال اور عوامی شعبے کی رہنمائی کیلئے پالیسی پر کام کیا جا رہا ہے ،شزا فاطمہ
- 19 hours ago

زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے ملکی معیشت میں اہم ستون کا درجہ رکھتے ہیں، وزیراعظم
- 19 hours ago

سونا مسلسل چوتھے روز ہزاروں روپے سستا ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- an hour ago

دشمن کو انجام تک پہنچائے بغیر جنگ بند نہیں کریں گے،اہداف کے حصول تک لڑائی جاری رہے گی،ایرانی جنرل
- a day ago

بھارتی فضائیہ میں اڑتے تابوت سر درد بن گئے،ایک اور لڑاکا طیارہ گر کر تباہ،دونوں پائلٹ جاں بحق
- an hour ago

کوئی اور نہیں اپنا پسندیدہ میں خود ہوں، موسیقی کو نہیں چھوڑ سکتا وہ میرے ساتھ رہے گی،چاہت فتح علی خان
- 20 minutes ago

وزیر اعلی سہیل آفریدی کی ایرانی قونصل خانہ آمد، سپریم لیڈر کے انتقال پر اظہار تعزیت
- 19 hours ago

دوسرا سیمی فائنل: سنجوسمسن کی جارحانہ بلے بازی،بھارت کا انگلینڈ کو 254 رنز کا بڑا ہدف
- 21 hours ago
پنجاب میں جعلی ادویات کی فروخت، ڈرگ کنٹرول بورڈ نے 5 ادویات سے متعلق الرٹ جاری کردیا
- a day ago

ایران جنگ:وزیراعظم کے ملائیشیا اور انڈویشیا کے سربراہان سے رابطے،علاقائی وعالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
- 21 hours ago

بیتھل کی اسنچری رائیگاں، انگلینڈ کو سننسی خیز مقابلے کے بعد7 رنز سے شکست، بھارت میں فائنل میں پہنچ گیا
- 17 hours ago









.jpg&w=3840&q=75)


