مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کا حق تھا جو دوسری جماعتوں کو دی گئیں، بیرسٹر گوہر
چیئرمین پی ٹی آئی کا مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر در عمل


پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کا حق تھا جو دوسری جماعتوں کو دیدی گئیں
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کےباہر میڈیا سے گفتگو میں فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل کو جوائن کیا، جس پر یہ مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کا حق تھا جو دوسری جماعتوں کو دیدی گئیں، سپریم کورٹ نے حکم دیاہے کہ 78 ممبران جو اسمبلی میں جا چکے ہیں وہ آئندہ کسی بھی قانون سازی میں ووٹ کا استعمال نہیں کریں گے،یہ ہمارے موقف کی تائید ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہماری 11 اقلیتی اور 67 خواتین کی ٹوٹل 78 نشستیں دوسری جماعتوں میں بانٹ دی تھیں ہم نے ہمیشہ یہی کہا کہ ہمارے ساتھ غیر آئینی غیر قانونی سلوک ہورہا کسی بھی سیاسی جماعت کو آئین کے مطابق اس کی جیتی گئی سیٹوں سے زیادہ سیٹیں نہیں مل سکتیں قومی اسمبلی پنجاب اور سندھ اسمبلی میں الیکشن کمیشن نے ہماری سیٹیں باقی جماعتوں کو دے دیں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کا حکم معطل کر دیا اور حکم دیا جو یہ ممبران(پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں پر) آئے وہ آئندہ کسی قانون سازی میں حصہ نہیں لیں گے آج سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا کہ یہ 78 ممبران کسی کو ووٹ دینے کے قابل نہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف عدلیہ کو آزاد دیکھنا چاہتی ہے ہم آئین میں ترمیم کرکے کسی جج کی ایکسٹینشن کے حامی نہیں ہم شروع سے کہتے آرہے کسی خاص شخص کے لیے قانون سازی نہیں ہونی چاہیے کسی بھی جج کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں ہونی چاہیے
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب ، سندھ اور قومی اسمبلی میں ویمن اقلیتی نمائندوں نے حلف لیا تھا ، جبکہ ہمارا یہی موقف تھا کہ سپریم کورٹ فیصلہ کرنے دیں، اس لیے خیبر پختونخوا میں مخصوص نشستوں پر ووٹ نہیں لیا گیا تھا،آج سپریم کورٹ نے حکم جاری کر تے ہوئے الیکشن کمیشن کا یکم مارچ کا حکم اور پشاور ہائیکورٹ کے لارجر بینچ کا حکم معطل کر دیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکم دیاہے کہ 78 ممبران جو اسمبلی میں جا چکے ہیں وہ آئندہ کسی بھی قانون سازی میں ووٹ کا استعمال نہیں کریں گے ، یہ ہمارے موقف کی تائید ہے ، جس دن قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا ہم نے حلف اٹھانے سے پہلے یہ پوائنٹ آوٹ کیا تھا کہ یہ پارلیمنٹ ان لوگوں سے مکمل کی جائے جن کا حق بنتا ہے ، پھر صدر کے الیکشن کے وقت بھی کہا کہ یہ جو صاحبان آئے ہیں جنہوں نے مخصوص نشستوں پر حلف اٹھایا ہے ، یہ ووٹ نہیں دے سکتے، جب تک فیصلہ نہیں آتا، آپ صدارتی الیکشن نہ کروائیں، آج سپریم کورٹ نے فیصلہ کر لیا کہ 78 ممبران کسی طرح ووٹ دینے کے حقدار نہیں ہے ۔
گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ حکومت آئین میں ترمیم کرنے جارہی تھی وہ اپنی دو تہائی اکثریت ان سیٹوں کی بنیاد پر دکھا رہی تھی اس کا سدباب ہو گیاہے، اب حکومت ناکام ہو گی اور وہ دو تہائی اکثریت سے محروم ہے ، ہم پہلے دن سے کہہ رہے تھے ، سپریم کورٹ سے استدعا کر رہے تھے، ہماری قومی اسمبلی میں 180 نشتیں ہیں، وہ بھی ہمیں ملیں گی،عمران خان کے جو کیسز پنڈنگ ہیں ، سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ اس کو بھی سنیں اور قانون اور آئین کے مطابق فیصلہ کر یں۔
شوہرکا ڈرامائی انداز میں قتل، خاتون نے کیا منفرد چال چلی؟
- ایک دن قبل

سابق وزیراعظم کے قافلے پر حملہ، قریبی ساتھی جان کی بازی ہار گیا
- 2 گھنٹے قبل
.jpeg&w=3840&q=75)
بہترین کارکردگی پر شیخوپورہ پولیس کے سات افسران کو اعزازات سے نوازا گیا
- 2 دن قبل

چوبیس سالہ پاکستانی حسینہ عالمی مقابلہ حسن میں شرکت کریں گی
- ایک دن قبل

حکومت نے آج سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نیا فارمولہ پیش کر دیا
- ایک گھنٹہ قبل
حکومت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کامیاب، مظفر آباد کی طرف مارچ مؤخر
- ایک دن قبل

پی ایس ڈی ایف کا چینی اداروں سے عالمی معیار کی فنی تربیت کا معاہدہ
- ایک دن قبل
نئی تاریخ رقم: الیکٹرک گاڑیوں کی بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی
- 5 گھنٹے قبل

قومی کرکٹر پر دھوکا دہی اور ہراسانی کے الزامات، اداکارہ نے خاموشی توڑ دی
- ایک دن قبل

ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں اچانک بڑی کمی
- 3 گھنٹے قبل
فلم ’ستلج‘ کے لئے دلجیت دوسانجھ نے کتنا معاوضہ لیا؟ حیران کن انکشاف
- ایک دن قبل
مشہوربھارتی اداکار کی تیسری اہلیہ کا مذہب سامنے آگیا
- 4 گھنٹے قبل



.jpeg&w=3840&q=75)
