Advertisement
پاکستان

چیف جسٹس کا فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار

سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ پڑھ کر سنائی

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر May 7th 2024, 1:56 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
چیف جسٹس  کا  فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار

چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار  کرتے ہوئے کہا کہ فیض آباد دھرنا فیصلے پر عمل درآمد کرلیا جاتا تو 9 مئی کے واقعات شاید نہ ہوتے۔

سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کر رہا ہے۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ پڑھ کر سنائی ، سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کو آخر میں سنیں گے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا الیکشن کمیشن نے رپورٹ جمع کرائی ہے آپ نے وہ رپورٹ دیکھی ہے؟ 

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ابھی الیکشن کمیشن کی رپورٹ نہیں دیکھی۔ قاضی فائز عیسی نے کہا کہ آپ تب تک رپورٹ کا جائزہ لے لیں، اس کیس کو آخر میں سنتے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا ، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ دھرنا انکوائری کمیشن کے سربراہ بھی عدالت میں موجود ہیں، عدالت کا رپورٹ سے متعلق کوئی سوال ہو تو کمیشن کے سربراہ سے پوچھا جاسکتا ہے۔

سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ پڑھ کر سنائی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کمیشن کہہ رہا ہے قانون موجود ہیں ان پر عمل کرلیں، بہت شکریہ، یہ کہنے کیلئے کیا ہمیں کمیشن بنانے کی ضرورت تھی؟ اگر 2019 والے فیصلے پر عمل کرتے تو 9 مئی کا واقعہ بھی شاید نہ ہوتا۔

Advertisement
Advertisement