Advertisement

مصر کا بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اسرائیل کے خلاف مقدمے میں فریق بننے کا فیصلہ

آئی سی جے میں اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کی جانب سے نسل کشی کے مقدمے کی حمایت کے لیے باضابطہ فریق بننے کی تیاری کر رہے ہیں، مصری وزیر خارجہ

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر May 13th 2024, 7:56 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
مصر کا بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اسرائیل  کے خلاف مقدمے میں  فریق بننے کا فیصلہ

جنوبی افریقہ کی جانب سے بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں فلسطینی نسل کشی کے خلاف مقدمے میں مصر بھی فریق بن گیا

مصر نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) میں اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کی جانب سے نسل کشی کے مقدمے کی حمایت کے لیے باضابطہ فریق بننے کی تیاری کر رہا ہے۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق مصری وزارتِ خارجہ نےکہا ہے کہ یہ اقدام غزہ کی پٹی میں فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی حملوں کی بڑھتی ہوئی شدت اور دائرہ کار کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ منظم اسرائیلی طریقوں اور حملوں کے درمیان کیا گیا جنہوں نے لوگوں کو بالآخر نقلِ مکانی اور اپنی زمین چھوڑنے پر مجبور کیا ہے جس سے ایک بے مثال انسانی بحران پیدا ہوا ہے۔

مصر کی جانب سے یہ اعلان اس بات کے بعد کیا گیا جب اسرائیل نے گزشتہ ہفتے مصر کی سرحد سے متصل رفح کے مشرقی علاقوں میں داخل ہو کر بین الاقوامی مخالفت کی نفی کی اور قریبی گزرگاہ پر قبضہ کر لیا جو محصور فلسطینی علاقے میں امداد کی ترسیل کے لیے اہم راستہ ہے۔

مصر نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ضرورت مندوں تک امداد پہنچے اور یہ کہ اسرائیلی افواج فلسطینی عوام کے خلاف کسی قسم کی خلاف ورزی کا ارتکاب نہیں کر رہیں۔

مصر نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور بااثر ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کروانے اور رفح میں فوجی کارروائیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔یاد رہے کہ اس سے قبل ترکیہ اور کولمبیا نے اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کے مقدمے میں شامل ہونے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی تھی۔

جنوبی افریقہ نے جنوری میں عالمی عدالت سے یہ اعلان کرنے کو کہا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا تھا اور وہ اسرائیل کو پٹی میں اپنی فوجی مہم روکنے کا حکم دے۔

آئی سی جے جسے عالمی عدالت بھی کہا جاتا ہے، نے اس کے بجائے اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ ایسی کارروائیوں سے باز رہے جو نسل کشی کے کنونشن کے تحت آ سکتی ہوں اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی افواج غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی کوئی کارروائی نہ کریں۔

Advertisement
Advertisement