جی این این سوشل

پاکستان

مولانا فضل الرحمان کا حکومت سے مستعفی ہوکر دوبارہ الیکشن کرانے کا مطالبہ

حکومت مسلسل گھاٹے کے سورے کئے جا رہی ہے، سربراہ جمعیت علماء اسلام

پر شائع ہوا

کی طرف سے

مولانا فضل الرحمان کا حکومت سے مستعفی ہوکر دوبارہ  الیکشن کرانے کا مطالبہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو مستعفی ہوکر الیکشن کرانے کا مطالبہ کردیا۔

ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک سے پہلے ہم تحریک کا آغاز کر چکے ہیں،ہماری پی ٹی آئی کیساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی،ہم دھاندلی کیخلاف تحریک شروع کر چکے ہیں، دیگر جماعتیں ارادہ رکھتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں حکومت کسی طرح بھی ڈیلیور نہیں کر سکتی،اس وقت انتہائی کمزور حکومت ہے،ہم اپنے پرائے کی سیاست نہیں کرتے،ایسا ہوتا تو ہم حکومت کا حصہ ہوتے،پیپلزپارٹی حکومت کا حصہ ہے لیکن کابینہ میں نہیں،پیپلزپارٹی کو جس دن پریشانی ہوئی، حکومت کیلئے مسئلہ ہوگا۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ قوم ووٹ کو تحفظ فراہم نہیں کریگی تو ہم مسلسل غلامی کی طرف جائیں گے،میرے خیال سے حکومت ہے ہی نہیں،جب اپنے ہی چھوڑ کر چلے جائیں تو ایسے میں ہم اپنے موقف پر کھڑے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ انتہائی کمزور اسمبلی ہے، پیپلزپارٹی حکومتوں بنچوں پر بیٹھی ہوئی ہے، کسانوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، پنجاب کے کسان بہت مظلوم ہیں، جب گندم موجود ہے تو باہر سے گندم کیوں منگوائی، عام کسان کے ساتھ ظلم کیا گیا۔

مولانا کا کہنا ہے کہ جنہوں نے کسانوں کے ساتھ ظلم کیا ان کا محاسبہ کیوں نہیں کیا جارہا، موجودہ حالات میں حکومت کسی طرح ڈیلیورنہیں کرسکتی، افغانستان کے ساتھ بھی جھگڑا جاری ہے، افغانستان براہ راست چین سے تعلقات قائم کر لے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ گھاٹے کے سودے ہم کر رہے ہیں، گزشتہ 7 ماہ سے لوگ چمن بارڈر پر دھرنا دے کر بیٹھے ہیں۔ میرے مدمقابل دونوں افراد وزیراعلیٰ اور گورنر بنے ہیں، کوئی اور ہوتا کون ہے مجھے وزارت عظمیٰ یا وزارت اعلیٰ کی پیشکش کرے، عوام مجھے ووٹ دیں گے تو صدر اور وزیراعظم بنوں گا۔

سربراہ جے یو آئی نے مزید کہا کہ ہمارا بجٹ آئی ایم ایف کے ہاتھ میں ہے انہی لوگوں نے بنانے ہیں، انہی لوگوں کا ہماری فوج تحفظ کر رہی ہے۔

علاقائی

حکومت سے لڑائی نہیں چاہتے مگر تالی 2 ہاتھوں سے بجتی ہے، چیف جسٹس

ہم کسی کی بی ٹیم نہیں، ہم صرف اللہ کو جواب دہ ہیں، پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں منعقدہ تقریب سےخطاب

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت سے لڑائی نہیں چاہتے مگر تالی 2 ہاتھوں سے بجتی ہے، چیف جسٹس

لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ملک شہزاد احمدنے کہا کہ حکومت سے لڑائی نہیں چاہتے مگر تالی 2 ہاتھوں سے بجتی ہے۔

پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں منعقدہ تقریب سےخطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ جج ہونا نوکری نہیں جس میں انسان نوکر ی جانے کا خوف رکھے۔ ججز کو بہت سے مشکل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، نئے ججز بھی مشکل مرحلے سےگزر کر عدالت کا حصہ بنے ہیں۔

چیف جسٹس ملک شہزاد احمد نے کہا کہ گر کوئی عدلیہ کا احترام نہیں کرے گا تو ہم سے بھی توقع نہ رکھے، ہر پاکستانی شہری کو حق ہے کہ اس کو قانونی تحفظ حاصل ہو۔

انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی کی بی ٹیم نہیں، ہم صرف اللہ کو جواب دہ ہیں۔ ان لوگوں سے ہشیار رہیںجو اداروں کو لڑانا چاہتے ہیں۔

انہو ں نے مزید کہا کہ نئے ججز میں خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے۔گزشتہ سال پنجاب میں 8 لاکھ سے زائد کیسز کا اندراج ہوا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

مارخور کا عالمی دن ہمارے بھرپور قدرتی ورثے کی علامت ہے، وزیر اعظم

وزیر اعظم نے کہا کہ مارخور کے اس عالمی دن پر میں تمام پاکستانیوں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کریں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

مارخور کا عالمی دن ہمارے بھرپور قدرتی ورثے کی علامت ہے، وزیر اعظم

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے مارخور کے عالمی دن پر کہا کہ یہ دن ہمارے بھرپور قدرتی ورثے کی علامت ہے۔جمعہ کو پاکستان کے قومی جانور مارخور کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ مارخور اپنے منفرد کارک سکرو کی شکل کے سینگوں کے ساتھ، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لئے ہمارے عزم کی نمائندگی کرتا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ 2 مئی 2024 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلان کے مطابق یہ دن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس دن کو عالمی سطح پر منانے کا فیصلہ جنگلی حیات کے تحفظ میں ہماری قوم کی کوششوں اور کامیابیوں کا اعتراف ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مارخور کی آبادی میں نمایاں اضافہ قدرتی ماحول کے تحفظ کے لئے پاکستان کی لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے، مارخور کے تحفظ کے پروگراموں میں مقامی کمیونٹیز کے تعاون اور سائنسی تحقیق کا کلیدی کردار ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان جنگلی حیوانات اور نباتات کے خطرے سے دوچار انواع میں بین الاقوامی تجارت کے کنونشن کے پرعزم دستخط کنندہ کے طور پر بین الاقوامی تجارت کے کنونشن کیٹگری میں ایک نمایاں درجہ رکھتا ہے،اس حوالے سے کی گئی خصوصی قانون سازی، پاکستان ٹریڈ کنٹرول آف وائلڈ فاؤنا اینڈ فلورا ایکٹ، 2012، ذمہ دارانہ تجارتی طریقوں اور خطرے سے دوچار انواع کی فلاح و بہبود کے لئے ہماری وابستگی کو واضح کرتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مارخور کے اس عالمی دن پر میں تمام پاکستانیوں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔وزیر اعظم نے کہا کہ آئیے نہ صرف مارخور بلکہ ان تمام انواع کے تحفظ کے لئے مل کر کام کریں ۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں مزید کمی

رپورٹ کے مطابق  رواں ہفتے میں 18 اشیاء سستی اور12 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں جبکہ 21 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں  مزید   کمی

ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح مزید 0.34  فیصد کم ہوگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق  رواں ہفتے میں 18 اشیاء سستی اور12 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں جبکہ 21 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق ملک میں مہنگائی کی مجموعی سالانہ شرح 21.31 فیصد پر آگئی ہے ، اس ہفتے میں لہسن 7.87، چکن 5.92، آٹا 4.66، پیاز 1.99 اور انڈوں کی قیمت میں 1.22 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، اسی طرح  ایل پی جی 3.23 اور جلانے والی لکڑی کی قیمت میں بھی 0.04 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ اسی ہفتے کچھ اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے جن میں بیف 0.49 اور چنے کی دال 0.42 فیصد مہنگی ہوئی، جبکہ  چائے، مٹن، گڑ، دہی، دودھ اور سگریٹس بھی مہنگے ہوئے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll