جی این این سوشل

تجارت

ملک بھر میں دو روز مسلسل اضافے کے بعد  سونے کی قیمت میں معمولی کمی

فی تولہ سونے کی قیمت میں 600 روپے کی کمی کے بعد قیمت 2 لاکھ 45 ہزار ہوگئی ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ملک بھر میں دو روز مسلسل اضافے کے بعد   سونے کی قیمت میں معمولی کمی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

دو روز مسلسل اضافے کے بعد  ملک بھر میں سونے کی قیمت میں معمولی کمی دیکھی گئی۔

پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 600 روپے کی کمی ہوئی ہے جس کے بعد سونے کی قیمت 2 لاکھ 45 ہزار ہوگئی ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کا بھاؤ 514 روپے کم ہوکر 2 لاکھ ایک ہزار 48 روپے کا ہوگیا ہے۔

دوسری جانب عالمی صرافہ بازار میں سونا 6 ڈالر کم ہونے کے بعد فی اونس 2384 ڈالر کا ہوگیا ہے۔

تجارت

کوشش ہوگی اگلے آئی ایم ایف پروگرام کو آخری بنائیں، وزیر خزانہ

پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کوتیزی سے آگے بڑھایاجائےگا، محمد اورنگزیب

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کوشش ہوگی اگلے آئی ایم ایف پروگرام کو آخری بنائیں، وزیر خزانہ

وزیرخزانہ و سینیٹرمحمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کوشش ہوگی اگلے آئی ایم ایف پروگرام کو آخری بنائیں، حکومت ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنا چاہتی ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ کہ حکومت نے نکات پر عملدرآمد کا آغاز کردیاہے، بجٹ سےمتعلق تجاویز کاخیرمقدم کرتے ہیں، حکومت ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجٹیلائزیشن کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے، پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کوتیزی سے آگے بڑھایاجائےگا۔ قیمتوں میں بگاڑ پیدا کرنے والی سبسڈی کا خاتمہ کیا جائےگا، حکومت ٹیکس ٹوجی ڈی پی کو 13فیصد بڑھانے کیلئے پرعزم ہے، زراعت،تعلیم اور صحت کے شعبے حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومتی اخراجات میں سادگی اور کفایت شعاری لائیں گے، دودھ، سٹیشنری، ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز سمیت بعض ضروری اشیاء پر ٹیکس استثنا برقرار رکھا جائے گا، قومی سلامتی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، حکومت قومی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری وسائل کی فراہمی کو یقینی بنائے گی، اقتصادی مسائل کے حل، معیشت کی ترقی اور معاشی استحکام کیلئے قومی اتفاق رائے ضروری ہے، تمام شراکت داروں کو مل کر ملکی مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے صحت،زراعت اور دیگر شعبوں میں ہر ممکن حد تک ریلیف دیا، سٹیشنری کیلئے ٹیکس استثنی برقرار رکھاگیا ہے،حکومت ٹیکس ٹی جی ڈی پی 13فیصد تک بڑھانے کیلئے پرُعزم ہے، ایف بی آر نے مشکل حالات کے باوجود ٹیکس آمدن میں30فیصداضافہ کیا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ بجٹ میں ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن اور اصلاحات کیلئے7ارب مختص کیے، وقت آگیا ہے جو دکاندار تاجر دوست سکیم کا حصہ نہیں بنے ان کے خلاف کارروائی کی جائے، پاکستان میں دوست ممالک کی سرمایہ کاری کے حوالے سے مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔

وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ نیشنل سکیورٹی ہماری اہم ترین ترجیح ہے، ہماری مسلح افواج دہشتگردوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہیں، حکومت جامع منصوبے کے ذریعے چینی باشندوں کی سکیورٹی کو یقینی بنارہی ہے، سی پیک فیز2پر عملدرآمد تیز کرنے کیلئے حکومت اقدامات اٹھارہی ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ وزیر خزانہ کوشش کریں گے اگلے آئی ایم ایف پروگرام کو پاکستان کا آخری پروگرام بنائیں گے، چھوٹے اور درمیانے پیمانے کی صنعت کو ترقی دیکر برآمدات میں اضافہ کریں گے، اشرافیہ اور ملکی وسائل کا استحصال کرنے والوں کی مراعات کو ختم کیاجائےگا۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

روس کے آرمی چیف اور سابق وزیر دفاع کی وارنٹ گرفتاری جاری

عالمی عدالت انصاف نے وارنٹ یوکرین پر حملوں کی پاداش میں جاری کئے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

روس کے آرمی چیف اور سابق وزیر دفاع کی وارنٹ گرفتاری جاری

عالمی عدالت انصاف نے روس کے آرمی چیف اور سابق وزیر دفاع کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے،وارنٹ یوکرین پر حملوں کی پاداش میں جاری کئے گئے،جو مبینہ جنگی جرائم کے مرتکب ہیں۔

آئی سی سی کے وارنٹ یوکرین جنگ کے حوالے سے عدالت کی کارروائیوں کے سلسلے میں تازہ ترین ہیں، جن میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کی گرفتاری کا وارنٹ بھی شامل ہے۔یہ وارنٹ پیر کو جاری کیے گئے لیکن منگل کو عام کیے گئے۔

آئی سی سی نے ایک بیان میں کہا کہ ان دونوں افراد پر شہریوں پر حملوں کی ہدایت دینے اور ضرورت سے زیادہ حادثاتی نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ یوکرین میں انسانیت کے خلاف جرم کے "غیر انسانی کارروائیوں" کا الزام ہے۔

آئی سی سی کے ججوں نے کہا کہ "اس بات پر یقین کرنے کے لیے شواہد موجود ہیں کہ یہ دونوں مشتبہ افراد روسی مسلح افواج کی طرف سے یوکرین کے انفراسٹرکچر کے خلاف 10 اکتوبر 2022 سے 9 مارچ 2023 تک کیے گئے میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔"

یوکرین نے اس اہم فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایوان صدر کے چیف آف اسٹاف اینڈری یرمک نے کہا کہ ہر ایک کو اپنے کئے کا جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔

واضح رہے کہ آئی سی سی کے پاس گرفتاری کے وارنٹ کو نافذ کرنے کے لیے اپنی پولیس فورس نہیں ہے۔ یہ اپنے 124 ممبران کے انصاف کے نظام پر انحصار کرتا ہے۔اصولی طور پر، وارنٹ کے تحت کسی کو بھی گرفتاری کے خوف سے آئی سی سی کے رکن ملک کا سفر کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔

پوٹن خود بیرون ملک سفر کر چکے ہیں، خاص طور پر کرغزستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، جو کہ آئی سی سی کے رکن ممالک نہیں ہیں۔

تاہم، انہوں نے جنوبی افریقہ میں برکس (برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ) کی میٹنگ کو نظر انداز کیا، جس سے وارنٹ پر عمل درآمد کی توقع کی جا سکتی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

یہ ملک کسی آپریشن کا متحمل نہیں ہوسکتا، بیرسٹر گوہر

جب انصاف وقت پر نہ ہو اور دیر سے ملے تو یہ بھی ناانصافی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

یہ ملک کسی آپریشن کا متحمل نہیں ہوسکتا، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ استحکام کیلئے یہ ملک کسی آپریشن کا متحمل نہیں ہوسکتا، استحکام کیلئے پارلیمان میں اُن لوگوں کو ہونا چاہئے جو اسکے حق دار ہیں۔

الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر جب انصاف وقت پر نہ ہو اور دیر سے ملے تو یہ بھی ناانصافی ہے، ریحانہ ڈار کی جگہ فارم 47 والوں کو بٹھا دیا گیا، عمران خان کی رہائی کا فی الفور مطالبہ کرتے ہیں، رہا ہونے کے بعد ہماری خواتین کو دوبارہ گرفتار کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ آج بجٹ کے اسپیشل سیشن میں پارلیمنٹ سے لے کر الیکشن کمیشن تک واک کی، خان صاحب اور بشریٰ بی بی سمیت ہماری بہنوں کی رہائی کے لیے واک کی گئی، ہماری بہنوں کو ایک بار رہائی کے بعد دوبارہ سے گرفتار کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، احتجاج تب تک جاری رہے گا جب تک ہمارے لوگوں کو رہائی نہیں ملتی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام پر کسی بھی قسم کا آپریشن نامنظور ہے، ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں سارا کا سارا نزلہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام پر گرانے کی کوشش ہے، شہباز شریف کہتا ہے ہمیں سرمایہ کاری کے لیے آپریشن چاہیے بتائیں خیبرپختونخوا میں کتنی صنعتیں ہیں؟ سرمایہ کاری اس لیے نہیں آرہی کیونکہ ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔

بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ یہ صرف 180 پارلیمنٹرینز کی واک نہیں 3 کروڑ ووٹرز کی واک ہے، عوام کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے ہم نے فوجی آپریشن کی مخالفت کی، کوئی بھی فیصلہ ہو اس مسئلے کو ایوان میں لایا جائے، حکومت ہچکچاہٹ کا شکار ہے یہ ملک استحکام کے لیے آپریشن کا متحمل نہیں ہوسکتا، استحکام کے لیے اس ایوان میں ان لوگوں کو ہونا چاہیے جن کا حق ہے۔

اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ واحد پارٹی پی ٹی آئی ہے جس میں ڈیڑھ سال میں تین بار انٹرا پارٹی الیکشن ہوئے، عوامی نیشنل پارٹی کا الیکشن ہی نہیں ہوا اس کو 20 ہزار جرمانہ کیا گیا،ایک ملک میں دو قوانین نہیں چلنے دیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll