جی این این سوشل

دنیا

قطر ایئرویز کی فلائٹ میں شدید جھٹکوں کی وجہ سے 12 افراد زخمی

تاہم طیارے کو ڈبلن ایئرپورٹ پر باحفاظت اتار لیا گیا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

قطر ایئرویز کی فلائٹ میں شدید جھٹکوں کی وجہ سے 12 افراد زخمی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

دوحہ سے آئرلینڈ جانے والی قطر ایئرویز کی فلائٹ میں شدید جھٹکوں اور ہچکولوں کی وجہ سے 12 افراد زخمی ہو گئے تاہم طیارے کو باحفاظت ایئرپورٹ اتار لیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ ایک ایسے موقع پر پیش آیا جب ایک ہفتہ قبل ہی لندن سے آنے والی سنگاپور ایئر لائنز کی فلائٹ میں شدید جھٹکوں کی وجہ سے ایک شخص ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے اور پرواز کا رخ بنکاک کی جانب موڑ دیا گیا۔

آج پیش آنے والے حادثے کے حوالے سے ڈبلن ایئرپورٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ترکیہ سے گزرتے ہوئے قطر ایئرویز کی فلائٹ کیو آر۔017 میں شدید جھٹکے آئے جس سے چھ مسافر اور عملے کے چھ افراد زخمی ہوگئے۔

فلائٹ لینڈ ہونے کے بعد زیئرا کرافٹ کا ایمرجنسی سروسز نے معائنہ کیا جبکہ ڈبلن ایئرپورٹ کی ٹیم مسافروں اور عملے کو مکمل سپورٹ فراہم کررہی ہے۔

گزشتہ منگل کو سنگاپور ایئرلائن پر پیش آنے والے حادثے میں ایک شخص ہلاک اور 100 سے زائد مسافر زخمی ہو گئے تھے جبکہ ہوائی جہاز نے بنکاک میں ایمرجنسی لینڈنگ کی تھی اور اب بھی کچھ مریضوں کا بنکاک میں علاج جاری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دوران پرواز مسافر اکثر اپنے سیلٹ بیلٹ کے حوالے سے انتہائی غیرذمے داری کا ثبوت دیتے ہوئے انہیں لگانے سے گریز کرتے ہیں جس کی وجہ سے جہاز میں جھٹکے یا ہچکولے آنے کے نتیجے میں ان کے انجری کا شکار ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

دنیا

آرمینیا نے بھی فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کر لیا

غزہ کی تباہ کن انسانی صورتحال بین الاقوامی سیاسی ایجنڈے کے اہم مسائل میں سے ایک ہے اور اس کے فوری حل کی ضرورت ہے، وزارت خارجہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آرمینیا نے بھی فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کر لیا

3 یورپی ممالک اسپین، سلووینیا اور آئرلینڈ کے بعد آرمینیا نے بھی یکم جون سے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

آرمینیا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ کی تباہ کن انسانی صورتحال بین الاقوامی سیاسی ایجنڈے کے اہم مسائل میں سے ایک ہے اور اس کے فوری حل کی ضرورت ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جمہوریہ آرمینیا شہروں کو نشانہ بنانے، شہریوں کے خلاف تشدد کی سختی سے مذمت اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے مطابق غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔

وزارت نے حماس کی جانب سے سویلین افراد کی قید پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ان کی رہائی کے لیے بین الاقوامی برادری کے مطالبات کے ساتھ، فلسطینی اتھارٹی کے ایک سینئر اہلکار حسین الشیخ نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔

اس بیان کے آخر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا حقائق، بین الاقوامی قوانین، اقوام کی خودمختاری اور پرامن بقائے باہمی سے وابستگی کی تصدیق کرتے ہوئے جمہوریہ آرمینیا فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 3 یورپی ممالک اسپین، سلووینیا اور آئرلینڈ بھی فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

دورانِ عدت نکاح کیس، خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا مسترد

شکایت دائر کرنے سے قبل خاورمانیکا 5 سال 11 ماہ خاموش رہے، وکیل عمران خان

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

دورانِ عدت نکاح کیس، خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا مسترد

دورانِ عدت نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کر دی۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عدت میں نکاح کیس میں اپیلوں پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ، بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل اور خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز میں خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ جس پر جج افضل مجوکا نے وکیل سے کہا کہ اس کیس کی سماعت ملتوی نہیں ہو سکتی، 25 جون کو مرکزی اپیلوں پر سماعت ہے، تب تک لازمی دلائل فائنل کرنا ہیں۔

بعد ازاں جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل سے استفسار کیا کہ دو سوالوں کے جواب دے دیں، اس کیس میں سزا مختصر نہیں ہے ، اس لیے مختصر دورانیے کی سزا سے متعلق عدالت کی معاونت کریں، سپریم کورٹ کی دو ججمنٹس ہیں ان میں سے ایک آپ کے حق میں ہے اور ایک آپ کے خلاف تو آپ کس ججمنٹ کو فالو کریں گے ؟

اس پر عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہماری مخالفت میں کوئی بھی ججمنٹ موجود نہیں ہے، جج افضل مجوکا کا کہنا تھا کہ آپ کے خلاف ایک ججمنٹ موجود ہے، وکیل نے بتایا کہ جو اعلیٰ عدلیہ سے بعد میں فیصلہ آیا اس پر عدالت عمل کرے گی، 1985 کی آئینی ترمیم کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے اپنے دلائل جاری کرتے ہوئے بتایا کہ شریعت کورٹ کے دائرہ اختیار میں دیا گیا فیصلہ فائنل اتھارٹی ہے ، شریعت کورٹ کے قیام سے پہلے کے فیصلوں کا حوالہ نہیں دیا جاسکتا ، یہ نہیں ہوسکتا کہ تقی عثمانی نے فیصلہ لکھا ہے تو اسے سائڈ پر رکھ دیں ، اسلام میں ایک اصول ہے کہ عورت کی ذاتی زندگی میں نہیں جھانکنا، خاتون کے بیان کو حتمی مانا جائے گا، عدت کے 39 دن گزر گئے تو اس کے بعد میں ہم نہیں جھانکیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے میں عورت پر کوئی بھی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی ، اعلیٰ عدلیہ نے سارا قصور پراسیکیوشن پر ڈالا کہ انہوں نے عورت کا بیان نہیں لیا، عدالت نے اس بنیاد پر مقدمہ خارج کردیا تھا کہ عدت کے 39 دن گزر گئے۔

اس پر جج افضل مجوکا نے کہا کہ اس عدالت کی جانب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط نہیں کہا جا سکتا ہے، وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلم فیملی لاء میں عدت کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ، چیئرمین یونین کونسل کو طلاق کا نوٹس جانے کے بعد 90 دن گزرنے چاہئیں ، اس کیس میں ہر کوئی مان رہا کہ طلاق تو بہرحال ہوگئی ہے، عدت کا تصور شرعی ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ فراڈ کون کررہا ہے؟ کس کے ساتھ کررہا؟ دو فریقین موجود ہیں جن میں سے ایک فراڈ ہوگا، جج افضل مجوکا نے دریافت کیا کہ 496 بی میں تو سزا نہیں ہوئی؟

سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ 496بی ختم کردیا گیا تھا، سزا کی بات نہیں، فردجرم بھی 496 بی میں عائد نہیں ہوا، 496 بی میں دو گواہان ہونے لازم ہیں جو سامنے نہیں آئے، خاور مانیکا کے مطابق 14 نومبر 2017 میں تین بار تحریری طلاق دی گئی، ہمارے مطابق اپریل 2017 میں بشریٰ بی بی، خاور مانیکا کی طلاق ہوئی، بشریٰ بی بی طلاق کے بعد اپنی والدہ کے گھر چلی گئیں، چار ماہ وہاں رہیں، بشریٰ بی بی کو دوران ٹرائل اپنا مؤقف سامنے نہیں رکھنے دیا گیا۔

عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ پورا مقدمہ شادی کے ایونٹ پر بنایا گیا ہے، اگر سیکشن 7 کی خلاف ورزی ہوتی بھی تب بھی کرمنل کیس نہیں چلایا جا سکتا ہے، جب چیئرمین یونین کونسل کو نوٹس نہیں ہوا تو طلاق کا آئیڈیا نہیں لگایا جا سکتا کہ کب ہوئی، ان کے مطابق 14 نومبر 2017 کو ہوئی اور ہمارا مؤقف ہے کہ طلاق اپریل 2017 کو ہوئی، ایک لمحے کے لیے کہانی 14 نومبر سے شروع کر لیتے ہیں ، 14 نومبر کو اگر دی ہے طلاق تو 90 دن والا تعلق ختم ہوتا ہے کیونکہ چیئرمین یونین کونسل کو نوٹس نہیں ہوئے، فیملی لا کے سیکشن 7 میں عدت کا کوئی ذکر نہیں ہے ، سپریم کورٹ نے 90 دنوں کا شادی سے تعلق ختم کردیا، نوٹس کا جواز ہی نہیں، عدالت نے دیکھنا ہے اسلامی شریعت عدت کے حوالے سے کیا کہتی ہے؟ شہنشاہ عالمگیر کے دور کے فتوے کو شریعت عدالت نے اپنا حصہ بنایا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر مرکزی اپیل پر فیصلہ کرنا ہو تو سزا معطلی پر فیصلہ نہ بھی کریں تو مسئلہ نہیں ہوتا، اس کیس میں ہائی کورٹ نے ڈائریکشن دی ہے کہ سزا معطلی اور مرکزی اپیلوں پر ٹائم فریم کے مطابق فیصلہ دینا ہے، شوہر کی وفات کے بعد عورت کو وراثت کی محرومی سے بچانے کے لیے عدالت نے عدت کا دورانیہ 90 دن ثابت کرنے کا فیصلہ کیا۔

سلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے کہ قانون کا مقصد عورت کو سہارا دینا ہے، میں سزا معطلی کے ساتھ ساتھ اپیل پر بھی معاونت کرنا چاہوں گا، مجھے معلوم ہے آئندہ پندرہ روز میں عدالت نے سزا معطلی کی اپیل پر فیصلہ کرناہے۔بعد ازاں سلمان اکرم راجا نے مفتی سعید کے انٹرویو کی کاپی بذریعہ یو ایس بی عدالت میں جمع کروا دی۔

وکیل نے کہا کہ مفتی سعید نے اقرار کیا کہ نجی نیوز چینل کو انٹرویو دیا، یکم فروری کو گواہی شروع ہوئی، دو فروری کو ٹرائل کورٹ نے فیصلہ سنادیا۔

جج افضل مجوکا نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 2 روز میں فیصلہ دے دیا؟ وکیل نے بتایا کہ ہم 14، 14 گھنٹے دو روز کھڑے رہے، ٹرائل کورٹ نے کہا آج ہی سب کریں، ٹرائل کورٹ نے کہا گواہ، دلائل، سب آج کریں، فیصلہ سنانا ہے، رات 12 بجے تک اڈیالہ جیل میں کھڑے رہے، ٹرائل کورٹ کا اعلان جنگ تھاکہ 3 فروری کو ہی فیصلہ سنانا ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ آپ نے کبھی کسی وکیل کو کہا ہےکہ رات 11 بجے دلائل دیں؟

اس کے بعد خاور مانیکا کا انٹرویو کو کمرہ عدالت میں چلایا گیا۔عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ انٹرویو میں اینکر نے بھی سابقہ کا لفظ استعمال کیا، خاور مانیکا نے بھی سابقہ اہلیہ کہا، ٹرائل کورٹ میں خاورمانیکا نے جھوٹ بولاکہ انٹرویو دیتے وقت بشریٰ بی بی سابقہ اہلیہ نہیں تھیں، خاورمانیکا ایک جھوٹا شخص ہے، عدالت میں جھوٹ بولا۔

اس پر وکیل شکایت کنندہ زاہد آصف چوہدری نے کہا کہ خاورمانیکا کے ساتھ ذاتیات پر نہ اتریں، خاورمانیکا کہیں جھوٹے ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

وکیل عمران خان نے بتایا کہ خاورمانیکا نے انٹرویو میں بانی پی ٹی آئی کو دعائیں دیں اور کہا روحانی تعلق تھا، شکایت دائر کرنے سے قبل خاورمانیکا 5 سال 11 ماہ خاموش رہے، خاور مانیکا کو گرفتار کیا گیا، 4 ماہ جیل رہے، 14 نومبر کو جیل سے باہر آئے، 25 نومبر کو شکایت دائر کی، جو لوگ چِلے پر جاتے ہیں ہمیں معلوم ہے ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے، میں مفتی سعید کا جھوٹ بھی عدالت کے سامنے لانا چاہتا ہوں، مفتی سعید کے لیے میرے پاس جھوٹ کے علاوہ اور کوئی شائستہ لفظ نہیں۔

بعد ازاں بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ میں نے اڈیالہ جیل جانا ہے، سماعت سوموار تک ملتوی کرنی ہے تو میں سوموار کو دلائل دوں گا، آج سلمان اکرم راجا اپنے دلائل دے رہے ہیں۔

اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ سوموار کو سماعت کرنا ممکن نہیں ہے، منگل کو سماعت کریں گے۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ہمارا نظام انصاف انتہائی فرسودہ ہے، وفاقی وزیر قانون

جب سے ہماری حکومت آئی ہے ہم ان مسائل کے حل کی کوشش میں لگے ہیں، اعظم نذیر تارڑ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ہمارا نظام انصاف انتہائی فرسودہ ہے، وفاقی وزیر قانون

فاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ہمارا نظام انصاف انتہائی فرسودہ ہے خصوصا فوج داری مقدمات کو تو کوئی پرسان حال ہی نہیں ہے۔ جب سے ہماری حکومت آئی ہے ہم ان مسائل کے حل کی کوشش میں لگے ہیں۔فرسودہ نظام انصاف کو تبدیل کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے راولپنڈی میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے کردار ادا کریں گے، فرسودہ نظام انصاف میں تبدیلی کے لیے بار کونسل سے بھی تجاویز لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جنگی بنیادوں پر فوجداری قوانین پر کام کیا، فرسودہ نظام انصاف میں بہت سی اصلاحات ہونا ہیں اور سب کی ذمہ داری ہے کہ فرسودہ نظام انصاف کو تبدیل کریں۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اٹک کچہری میں وکلا کا قتل ہمارے لیے ٹیسٹ کیس اور حکومت کیلئے چیلنج ہے،انصاف ہوگا بھی اور ہوتا ہوا نظر آئے گا، ہم کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کریں گے چاہے وہ ملزم ہے،وکلا کے قتل میں ملوث ملزم گرفتار ہوچکا ہے۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ عدلیہ سے گزارش کروں گا انصاف تول کر کریں، عدلیہ وکلا کو گلے سے لگا کر رکھے، وکلا دہشتگرد نہیں ہیں،فساد پیدا کرنے والے نہیں ہیں، وکلا پر دہشتگردی کے پرچے درج کرانا عدلیہ کے شایان شان نہیں، جب تک میں ہوں،وکلا پر اب دہشتگردی کا مقدمہ نہیں ہوا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll