جی این این سوشل

پاکستان

وزیر اعلی ٰ خیبر پختونخواہ علی امین نے وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا

وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ صوبے کے 91 ترقیاتی منصوبوں کوپروگرام سے نکالنےسے خیبرپختونخوا متاثرہوگا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

وزیر اعلی ٰ خیبر پختونخواہ علی امین نے وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پبلک سیکٹرڈویلپمنٹ پروگرام سے خیبرپختونخواکے منصوبےنکالنے کے معاملے پروزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ  نے پی ایس ڈی پی کے 91 ترقیاتی منصوبوں سےمتعلق وزیراعظم کوخط لکھ دیا۔ 

وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ صوبے کے 91 ترقیاتی منصوبوں کوپروگرام سے نکالنےسے خیبرپختونخوا متاثرہوگا،  31 مئی کوسالانہ پلان کو آرڈی نیشن کمیٹی کے فیصلوں سے کے پی حکومت کومایوسی ہوئی۔

وزیراعلٰی کے پی کی جانب سے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ قومی اقتصادی کونسل اجلاس میں جاری منصوبوں کو مکمل کرنے کا فیصلہ ہواتھا، 91 منصوبوں کونکالناایس آئی ایف سی، قومی اقتصادی کونسل کےفیصلوں کے خلاف ہے۔

علی امین گنڈا پور کی جانب سے خط میں یہ بھی لکھا گیا کہ یہ منصوبے 1324 ارب روپے سے زیادہ کے ہیں، ترقیاتی منصوبوں کے خاتمے سے صوبے کی محرومیوں میں اضافہ ہوگا، وفاق پی ایس ڈی پی پرنظرثانی کرکے صوبوں کوپروگرام میں مقررہ حصہ دے۔

دنیا

اسرائیلی بمباری سے حماس رہنماکے اہل خانہ سمیت 10 افراد شہید

اسرائیلی فوج نے پناہ گزین سکول پر بھی بمباری کی، جس کے نتیجے میں مزید 16 فلسطینی شہید ہوگئے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسرائیلی بمباری سے حماس رہنماکے اہل خانہ سمیت 10 افراد شہید

اسرائیل طیاروں نے شمالی غزہ میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے گھر پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں ان کی بہن سمیت 10 افراد شہید ہوئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں میں شہید ہونے والوں میں اسماعیل  ہنیہ کے خاندان کے دیگر افراد بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے پناہ گزین سکول پر بھی بمباری کی، جس کے نتیجے میں مزید 16 فلسطینی شہید ہوگئے۔

دوسری جانب صہیونی فوج نے غزہ میں امداد کے منتظر فلسطینیوں پر حملہ کر دیا، جس کے سبب مزید 8 فلسطینی شہید ہوگئے، اسرائیلی فوج نےخان یونس میں غذائی قلت سےدوچار فلسطینیوں کو نشانہ بنایا۔

24گھنٹوں کے دوران 28 فلسطینی اسرائیلی دہشت گردی کا نشانہ بنے، شہدا کی مجموعی تعداد 37ہزار 626 سے تجاوز کر گئی، جبکہ 86 ہزار 98 زخمی افراد زخمی ہیں۔حکام کے مطابق ہزاروں فلسطینی بچے تاحال ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد

وارنٹ کے بغیر لائیو لوکیشن کیسے شیئر کی جا سکتی ہے، جسٹس بابر ستار

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد کردی۔

جسٹس بابرستار نے کہا ہے کہ صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے دیگر ملکوں میں بھی دہشت گری ہے لیکن ان ممالک میں رولز موجود ہیں، اگر کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی فون ٹیپنگ میں معاونت کررہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے، فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے آڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں کو یکجا کرکے سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منوراقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ خفیہ ادارے کی طرف سے مجاز افسر ڈیٹا کی درخواست کرتا ہے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ لائیو کال کو مانیٹر کرسکتے ہیں؟ یہ پٹیشنز تو فون ٹیپنگ سے متعلق ہی ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد 2013 میں نئی پالیسی آئی، وزارتِ داخلہ نے ایک ایس او پی جاری کیا، آئی ایس آئی اور آئی بی براہ راست سروس پرووائیڈرز سے ڈیٹا لے سکتی ہیں جبکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ضرورت پڑنے پر ان ایجنسیز سے ڈیٹا لے سکتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ ایس او پی تو ایک سیکشن افسر نے جاری کیا ہے، متعلقہ اتھارٹی کا ذکر نہیں، وزارتِ داخلہ کے پاس یہ اختیار کیسے ہے اور کس قانون کے تحت یہ ایس او پی جاری کیا گیا؟ جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ وارنٹ کے بغیر لائیو لوکیشن کیسے شیئر کی جا سکتی ہے، حکومت نے کس قانون کے تحت فیصلہ کیا کہ یہ ڈیٹا حاصل کرسکتے ہیں، وزارتِ داخلہ کے ایک سیکشن افسر نے ایس او پی جاری کردیا اور سیکشن افسر کے ایس او پی کے تحت آپ ڈیٹا حاصل کرتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ نے فون ٹیپنگ سے متعلق نہیں بتایا جو چیزیں بتائی ہیں یہ اُن میں نہیں آتا، ابھی اس دستاویز کی قانونی حیثیت بھی دیکھنی ہے، پی ٹی اے کام کرنے کیا میکانزم ہے۔

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی اے کے پاس سرویلینس کا کوئی اختیار نہیں، اور نہ پی ٹی اے فون ٹیپنگ کرتی ہے۔

جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی ڈویژن کے لکھنے پر آپ ڈیٹا ٹیپ کرسکتے ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ میری انڈر اسٹینڈنگ کے مطابق کیبنٹ کی منظوری کے مطابق بعد ایسا ہوسکتا ہے۔

جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا اگر میرے گھر چوری ہوتی ہے تو آپ سی سی ٹی وی فوٹیج کس قانون کے تحت لیں گے، کیا آپ بغیر وارنٹ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرسکتے ہیں، جس پر پولیس کے وکیل نے جواب دیا کہ اگر کسی پرائیویٹ شخص کے پاس فوٹیج ہے تو پولیس اس کو حاصل کرسکتی ہے۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ400 سال پہلے وارنٹ کا تصور کیوں بنایا گیا، کیا آپ نے 11 سالوں میں سی سی ٹی وی کے لیے کوئی وارنٹ نہیں لیا، جس پر پولیس وکیل نے کہا کہ اگر ثبوت ضائع ہونے کا خدشہ ہو تو وارنٹ کی ضرورت نہیں۔

جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد پولیس کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ جب کسی کے گھر جاتے ہیں تو وارنٹ کیوں لیتے ہیں، کیا آپ نے کوئی قانون بنایا ہوا ہے، کس قانون کے تحت سرویلنس ہوتی ہے، قانون بنائیں گے تو لوگوں کو پتہ ہوگا کہ کس قانون کے تحت سرویلنس ہو رہی ہے، یہاں عدالتوں کو نہیں پتہ کیا ہو رہا ہے، صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے، دیگر ملکوں میں بھی دہشت گری ہے لیکن ان ممالک میں رولز موجود ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے قانون بنا ہوا ہے یا نہیں، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ چیمبر میں سماعت رکھ لیں، آپ کو آگاہ کر دیں گے، جسٹس بابر ستار نے کہا کیا میں آپ سے دہشت گردوں سے متعلق پوچھ رہا ہوں، صرف قانون کا پوچھا ہے، کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں ججز کے چیمبر یا وزیراعظم ہاؤس کی ٹیپنگ دشمن ایجنسیاں کرتی ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل مسلسل چیمپر میں سماعت کی استدعا کرتے رہے، جستس بابر ستار نے کہا کہ یہ نیشنل سکیورٹی کا معاملہ نہیں، آپ کی چیمبر سماعت کی درخواست مسترد کرتا ہوں، میں نیشنل سیکیورٹی کے سیکریٹ آپ سے نہیں پوچھ رہا، چیمبر سماعت کا مذاق شروع نہیں کریں گے۔

جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنیز کے وکلا کو روسٹرم پر بلاکر استفسار کیا آپ بتائیں آپ ڈیٹا کیسے فراہم کرتے ہیں، جب آپ کوئی ڈیٹا دیتے ہیں تو اس کا ریکارڈ بھی رکھتے ہوں گے، جو کیبل ڈیٹا لے کر پاکستان آتی ہے آپ کا کسی کے ساتھ معاہدہ ہوگا، کیا آپ کے علاوہ ڈیٹا تک رسائی کسی اور کو ہے؟

ٹیلی کام کمپنی کے وکیل نے کہا کہ کمپنی کے علاوہ کسی کو ڈیٹا تک رسائی نہیں، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا ایجنسیوں کو ٹیلی کام کمپنیوں کی اجازت کے بغیر ڈیٹا تک رسائی ہے؟

وفاقی حکومت نے ٹیلی کام آپریٹرز پر ڈیٹا دینے پر پابندی ختم کرنے کی استدعا کردی، عدالت نے پوچھا کس نے آئی جی کو کہا ہے کہ وارنٹس نہ لیں، کیا پارلیمنٹ بے وقوف تھی جس نے یہ قانون بنا دیا، آپ نے 11 سال میں ایک دفعہ بھی عمل نہیں کیا، ایک قانون ہے 11 سال میں ایک دفعہ بھی کسی نے ڈیٹا لینے کے لیے وارنٹ نہیں لیے۔

وکیل ٹیلی کام کمپنی نے کہا کہ ڈیٹا فراہمی ٹیلی کام آپریٹرز کے لائسنس کے حصول کے لیے پی ٹی اے کی شرط ہے، جس پر جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا جو ڈیٹا لیا جارہا ہوتا ہے اُس سے متعلق آپ کو معلوم ہوتا ہے، وکیل نے جواب دیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو اس متعلق کچھ پتہ نہیں ہوتا، ٹیلی کام آپریٹرز پی ٹی اے کے کہنے پر یہ سسٹم لگاتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پی ٹی اے کی سسٹم لگانے کی ڈائریکشن کی خط وکتابتآڈیو لیکس کیس میں ریکارڈ پر لانی ہے، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ یہ لائسنس کی شرط ہے، پھر بھی کوئی خط و کتابت ہے تو ریکارڈ پر لے آتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ کام زبانی نہیں ہوتا بڑی تفصیلی ڈائریکشن ہوتی ہے، اگر کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی فون ٹیپنگ میں معاونت کر رہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے، فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

جسٹس بابر ستار نے پی ٹی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ایک ایسے سسٹم کی اجازت کیسے دے سکتے جس میں سرویلنس کی جا سکے، سکیشن 57 کے تحت کوئی قانون نہیں بنایا گیا، آپ سے پہلے بھی یہ کیس چلتا رہا ہے، چیئرمین پی ٹی اے جو بتا کر گئے ہیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

سولر پینلز پر کسی قسم کی نئی ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی، وزیر اعظم

کم لاگت اور قابل تجدید شمسی توانائی ہر شہری تک پہنچائیں گے، شہباز شریف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سولر پینلز پر کسی قسم کی نئی ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی، وزیر اعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عام آدمی کے لیے سولر پینلز پر کسی قسم کی نئی ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی، ملک معاشی استحکام کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ عام آدمی کے لیے سولر پینلز پر کسی قسم کی نئی ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی، کم لاگت اور قابل تجدید شمسی توانائی ہر شہری تک پہنچائیں گے، معیشت کو مثبت سمت پرگامزن کرنے کے لیے بھرپورمنصوبہ بندی کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک معاشی استحکام کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے، چھوٹے اور درمیانے پیمانے کی صنعت کو ترقی دے کر ملکی برآمدات میں اضافہ کریں گے، اشرافیہ اور ملکی وسائل کا استحصال کرنے والوں کی مراعات کو ختم کیا جائے گا۔عام آدمی کو معاشی تحفظ اور ترقی کے یکساں مواقع دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے، بجٹ کے دوران وزراء پارلیمان میں حاضری یقینی بنائیں۔

وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل تیزی سے جاری ہے، پری بڈنگ میں دلچسپی کا اظہار کرنے والی کمپنیاں پی آئی اے کی مختلف سائٹس کا دورہ کررہی ہیں، پی آئی اے کی بڈنگ اگست کے پہلے ہفتے میں ہوگی۔

اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے پی آئی اے کی نجکاری کا عمل تیز کرنے اور شفافیت کو اہمیت دینے کی ہدایت کی جبکہ یو این غذائی پروگرام افغانستان کی استدعا پر ایک کنٹینر کی کراچی سے کابل ٹرانزٹ کی اجازت بھی دی گئی۔

اعلامیہ کے مطابق کنٹینر ٹرکوں کے پرزوں پر مشتمل ہوگا، خصوصی اجازت صرف ایک مرتبہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دی گئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll