جی این این سوشل

تجارت

ملک میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ

فی تولہ سونے کی قیمت 800روپے کے اضافے سے 2 لاکھ 41 ہزار 500روپے ہو گئی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ملک میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت آج پھر بڑھ گئی۔

دوسری جانب مقامی صرافہ مارکیٹوں میں جمعہ کے روز 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 800روپے کے اضافے سے 2 لاکھ 41 ہزار 500روپے اور فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 686 روپے کے اضافے سے 2 لاکھ 7 ہزار 47  روپے کی سطح پر آگئی۔

سونے کی قیمت میں اضافے کے برعکس ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 2750روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی بغیر کسی تبدیلی کے 2357.68روپے کی سطح پر مستحکم رہی۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 8ڈالر کے اضافے سے 2323ڈالر کی سطح پر آ گئی۔

پاکستان

جسٹس (ر) مقبول باقر نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی

ذاتی مصروفیات کی وجہ سے ایڈہاک جج کا عہدہ قبول نہیں کرسکتا، مقبول باقر

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

جسٹس (ر) مقبول باقر نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مشیر عالم کے بعد جسٹس (ر) مقبول باقر نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی۔

سابق نگران وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر کا کہنا تھا کہ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے ایڈہاک جج کا عہدہ قبول نہیں کرسکتا۔ ایڈہاک جج بننا قانونی عمل ہے اس میں کوئی عیب نہیں۔

واضح رہے کہ 16 جولائی کو سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مشیر عالم نے ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی، اپنے فیصلے سے جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ کر آگاہ کردیا۔

سابق جسٹس مشیر عالم نے جوڈیشل کمیشن کے نام خط میں لکھا تھا کہ اللہ نے انھیں ان کی حیثیت سے زیادہ عزت دی ہے، ایڈہاک جج کی نامزدگی کے بعد سوشل میڈیا پر جو مہم شروع کی گئی، اس سے شدید مایوسی ہوئی ہے۔ وہ موجودہ حالات میں بطور ایڈہاک جج کام کرنے سے معذرت چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ایڈہاک ججز کی تقرری کے لیے 4 ریٹائرڈ ججز کے نام تجویز کیے تھے، ان ججز میں جسٹس ریٹائرڈ مشیر عالم کا نام بھی شامل تھا، دیگر ججز میں جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر ، جسٹس ریٹائرڈ مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس ریٹائرڈ طارق مسعود کے نام شامل ہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 19 جولائی کو طلب کر رکھا ہے۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قید کے دوران ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

عمران خان نے ستمبر 2023ء سے جولائی 2024ء تک کل 1635 افراد سے ملاقاتیں کیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قید کے دوران ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قید کے دوران ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں، عمران خان نے ستمبر 2023ء سے جولائی 2024ء تک کل 1635 افراد سے ملاقاتیں کیں۔

اڈیالہ جیل سے جاری اعداد و شمار کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے کمرہ ملاقات میں 454 ملاقاتیں ہوئیں، ملاقاتوں میں 88 وکلاء، 223 سیاسی دوست، 119 فیملی اور 14 اسپیشل ڈاکٹر شامل ہیں۔

جیل ذرائع کے مطابق اڈیالہ میں قائم عدالت میں بانی پی ٹی آئی سے 1181 ملاقاتیں ہوئیں جن میں وکلاء سے 591، فیملی سے 273 اور 317 میڈیا نمائندوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔

رپورٹس کے مطابق بانی چیئرمین نے اپنے بیٹوں سے واٹس ایپ پر 13 بار بات کی، ان ملاقاتوں کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
  
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

جیل ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی واٹس ایپ کے ذریعے بیٹوں سے 13 کالز کرائی گئیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

چین نے  امریکا کیساتھ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق مذاکرات روک دیئے

چین نے مذاکرات کی تعطل کی وجہ امریکا کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کو قرار دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چین نے  امریکا کیساتھ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق مذاکرات روک دیئے

چین نے امریکا کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق مذاکرات روک دیے ہیں۔

چین نے مذاکرات کی تعطل کی وجہ امریکا کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کو قرار دیا ہے۔ چین تائیوان کو اپنا صوبہ سمجھتا ہے اور اسے ہتھیاروں کی فروخت کو اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھتا ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت اس کے خود دفاع کے حق کے تحت ہے۔ امریکہ تائیوان کے ساتھ غیر رسمی تعلقات رکھتا ہے اور اسے چین سے الگ ایک آزاد جزیرہ سمجھتا ہے۔

مذاکرات کی تعطل کا دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ چین نے پہلے ہی تائیوان کے خلاف فوجی مشقیں تیز کر دی ہیں اور اس نے امریکا کو تائیوان کو مزید ہتھیار نہ بیچنے کی وارننگ دی ہے۔

مذاکرات کی تعطل کا وسیع پیمانے پر جوہری عدم پھیلاؤ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ امریکہ اور چین دنیا کے دو بڑے جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیان جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول اور عدم پھیلاؤ پر تعاون دنیا بھر میں جوہری سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ مذاکرات کب دوبارہ شروع ہوں گے۔ دونوں ممالک کو اپنے اختلافات کو حل کرنے اور بات چیت کے لیے واپس آنے کا ایک راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہوگی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll