جی این این سوشل

پاکستان

عید قربان: جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں

قربانی کے دن نزدیک آتے ہی چھریاں چاقو تیز کرنے والوں کی بھی چاندی ہو گئی ہے جہاں شہریوں سے منہ مانگی قیمتیں وصول کی جارہی ہیں

پر شائع ہوا

کی طرف سے

عید قربان: جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں
عید قربان: جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں

عید قربان میں 2روز باقی رہ گئے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں منڈیاں تو سج گئیں لیکن ان منڈیوں میں خریداروں کا تناسب بہت کم نظر آتا ہے، منڈیوں میں جانور تو بہت ہیں لیکن خریدار کم ہیں۔

 عید میں بہت تھوڑے دن رہ جانے کے باوجود زیادہ رش نہیں۔ منڈی میں خریداروں کے کم ہونے کی وجہ جانورں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں ہیں جس سے خریدار پریشان ہیں جب کہ بیوپاری منڈی میں آنے والے اخراجات اور جانوروں کے مہنگے چارے کا رونا روتے نظر آرہے ہیں۔

مہنگائی کے باعث ابھی گاہک بکروں ، دنبوں اور بیلوں کے آسمان سے باتیں کرتے نرخ پوچھ کر واپس چلے جاتے ہیں اور اس طرح زیادہ تر لوگ عید سے ایک روز قبل دوبارہ منڈی مویشیاں کا رخ کریں گے۔

اجتماعی قربانی کرنے والے افراد اور اداروں کی طرف سے بکنگ کا سلسلہ جاری ہے جو اس کی روشنی میں ہی جانوروں کی خریداری کریں گے۔

دوسری جانب قربانی کے دن نزدیک آتے ہی چھریاں چاقو تیز کرنے والوں کی بھی چاندی ہو گئی ہے جہاں شہریوں سے منہ مانگی قیمتیں وصول کی جارہی ہیں۔ 

پاکستان

اسلام آباد پولیس میں بھرتیوں کیلئے 40 ہزار امید وار اسلام آباد میں موجود

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ میدواروں کیلئے ایمبولینسز اور ڈاکٹرز کی سہولت بھی موجود ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسلام آباد پولیس میں بھرتیوں کیلئے 40 ہزار امید وار اسلام آباد میں موجود

اسلام آباد : اسلام آباد پولیس میں بھرتیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ 

تفصیلات کے مطابق 40 ہزار سے زائد امید وار اس وقت اسلام آباد پولیس کا ٹیسٹ دینے اسلام آباد موجود ہیں ۔ 

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ میدواروں کیلئے ایمبولینسز اور ڈاکٹرز کی سہولت بھی موجود ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے ۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ذمہ داری سے نکلنے کا فیصلہ

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ذمہ داری سے نکلنے کا فیصلہ

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ذمہ داری سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہے،وزیراعظم شہبازشریف نےقیمتیں مقرر کرنے کا حکومتی اختیارختم کرنے کی ہدایت کردی۔

ذرائع کے مطابق قیمتیں بڑھانے کےنتیجے میں حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے،قیمتیں کم ہونے کی صورت میں حکومت کو مطلوبہ عوامی ستائش نہیں ملتی۔جس پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو مرحلہ وار قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار دینے کی تیاری کرلی گئی ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر پیٹرولیم نے اہم اجلاس کل طلب کرلیا۔چئیرمین اوگرا کو قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کے اثرات اور لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا حتمی فریم ورک وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔

پیٹرولیم ڈیلرز نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو قمتیں مقرر کرنے کااختیار دینے کی مخالفت کی تھی۔ ان کاکہناہے کہ کھلا اختیار ملنے پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب ناجائز منافع خوری کا خدشہ ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، جسٹس اطہر من اللہ

کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب جنرل ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا، سپریم کورٹ جج

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، جسٹس اطہر من اللہ

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا ہے کہ چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب جنرل ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا

نیویارک بار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میں ٹی وی چینل کا نام لینا نہیں چاہ رہاجس نے عدم اعتماد کے وقت ایسا ماحول بنایا جیسے مارشل لاء لگنے والا ہے، میں چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں۔ 

انہوں نے کہا کہ کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا، کاش عدالتیں 12 اکتوبر1999  کوکھلی ہوتیں جب مشرف نے منتخب وزیراعظم کوباہرپھینکا،اسلام آباد ہائی کورٹ بھی رات کو کھولی گئی کیونکہ ٹی وی چینل نے ایسا ماحول بنا دیا تھا کہ مارشل لاء لگنے والا ہے۔ کسی نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کو ہٹانےکی کوشش کی ہوتی تویہ امتحان اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہوتا کہ وہ آئین کی بالادستی کےلیےکھڑی ہوتی ہے یا نہیں۔ 

جسٹس اطہر نے مزید کہا کہ جو لوگ 2022 تک میرے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے وہ اچانک تبدیل ہوگئے، آج پروپیگنڈا وہ کررہے ہیں جنہوں نے اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ سے فائدہ اٹھایا تھا، اس وقت انہیں ملک کی کوئی ہائیکورٹ ریلیف نہیں دے رہی تھی، یہ جج کا اصل امتحان ہوتا ہے جس سے جج اور عدالت پر عوام کا اعتماد بڑھتا ہے، تنقید سے جج کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll