جی این این سوشل

علاقائی

پنجاب اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

زلزلے کی شدت 4.2تھی اور زلزلے کا مرکز سبی سے 177کلو میٹر شمال مشرق میں تھا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پنجاب اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے
پنجاب اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

پنجاب اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گے ہیں۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق کوہلو، بارکھان، فورٹ منرو اور ڈیرہ بگٹی میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔ زلزلے کی شدت 4.2تھی اور زلزلے کا مرکز سبی سے 177کلو میٹر شمال مشرق میں تھا۔زلزلے کی گہرائی 149 کلو میٹر تھی۔

واضح رہے کہ اس میں کوئی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی اس زلزلے کے جھٹکوں سے لوگوں میں کافی خوف وحراس پایا گیا ہےاور لوگ کلمہ کا ورد کرتے گھروں سے باہر نکل آئے ۔

پاکستان

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی معظم جتوئی مبینہ طور پر اغواء

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے باوجود کہ کسی کو بھی نہیں اٹھایا جائے گا پھر بھی ناقابل تصور اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی معظم جتوئی  مبینہ طور پر  اغواء

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے مظفر گڑھ کے حلقے سے رکن قومی اسمبلی معظم جتوئی کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) اپنے ایک ٹویٹ میں بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے باوجود کہ کسی کو بھی نہیں اٹھایا جائے گا پھر بھی ناقابل تصور اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

معظم جتوئی کو آج صبح مظفر گڑھ میں ان کے گھر سے اغوا کیا گیا ہے تاہم ان کے مطابق معظم جتوئی پہلے ہی سپریم کورٹ کی روشنی میں تحریک انصاف میں شمولیت کے لیے اپنا بیان حلفی جمع کرا چکے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم ایسے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور رکن قومی اسمبلی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ہم ایسے اغوا سے متعلق عدالت کو آگاہ رکھیں گے اور انہیں امید ہے کہ عدالت اس پر کارروائی کرے گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

علمائے کرام کا جماعت اسلامی کے دھرنے کی حمایت کا اعلان

پاکستان کو پولیس اسٹیٹ بنا دیا گیا ہے، پنجاب حکومت اپنے مخالفین کے خلاف پولیس کا استعمال کر رہی ہے، امیر جماعت اسلامی لاہور

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

علمائے کرام کا جماعت اسلامی کے دھرنے کی حمایت کا اعلان

لاہور : علمائے کرام نے 26 جولائی کو اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے دھرنے کی حمایت اور اس میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔

منصورہ لاہور میں علما کرام کے ایک نمائندہ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پنجاب جاوید قصوری نے کہا کہ اجلاس میں طے کیا گیا ہے کہ جمعہ کو لاہور سمیت پنجاب بھر میں عوام الناس کو مہنگائی اور بجلی کے بلوں کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کے لیے عذاب بن گئی ہے، بجٹ کا 52 فیصد سود کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے جبکہ حکمران اپنی عیاشیاں ختم نہیں کر رہے ہیں اور سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے، بجلی کے بلوں میں 48 فیصد ٹیکس شامل ہے۔

جاوید قصوری نے کہا کہ دھرنے کا مقصد حکومت سے سودی نظام کا خاتمہ، آئی ایم ایف کی غلامی سے انکار اور بجلی کے بلوں میں ٹیکسز کی واپسی کا مطالبہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دھرنا 25 کروڑ عوام کی آواز ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دھرنے میں علما کرام سمیت معاشرے کے تمام طبقات شرکت کریں گے۔ 26 جولائی کو دھرنا شروع ہوگا اور حکومت کو مطالبات سننے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

امیر جماعت اسلامی لاہور نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو پولیس اسٹیٹ بنا دیا گیا ہے، پنجاب حکومت اپنے مخالفین کے خلاف پولیس کا استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پارٹی کو جب چاہے اور جو چاہے کرنے کی اجازت ہے لیکن جب کوئی عوام کے حقوق کی بات کرتا ہے تو اس پر دفعہ 144 نافذ کر دی جاتی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

 خیبر پختونخوا حکومت ایک لاکھ خاندانوں کو مفت سولر سسٹم فراہم کرے گی

 حکومت صوبے میں بجلی کی قلت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

 خیبر پختونخوا حکومت ایک لاکھ خاندانوں کو مفت سولر سسٹم فراہم کرے گی

پشاور:خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے ایک لاکھ غریب خاندانوں کو مفت سولر سسٹم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد لوڈشیڈنگ سے نجات اور بجلی کے اخراجات میں کمی لانا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ حکومت صوبے میں بجلی کی قلت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سولر سسٹم فراہم کرنا ایک اہم قدم ہے جو ہمیں نہ صرف لوگوں کو سستی اور قابل اعتماد بجلی فراہم کرنے میں مدد کرے گا بلکہ ماحولیات کو بھی بچانے میں مدد کرے گا۔

ذرائع کے مطابق یہ سولر سسٹم 2 کے وی کی صلاحیت کے حامل ہوں گے اور ان میں سولر پینلز، انورٹر، وائرنگ کا سامان، بلبس اور پنکھے شامل ہوں گے۔ انہیں صوبے کے منتخب اضلاع میں غریب خاندانوں کو مفت میں تقسیم کیا جائے گا۔

اس اقدام سے صوبے میں بجلی کی طلب میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ، یہ سولر سسٹم خاندانوں کو بجلی کے اخراجات میں بھی بچت فراہم کریں گے۔

یہ منصوبہ خیبر پختونخوا حکومت کے قابل تجدید توانائی کے حصول کے عزم کا ایک حصہ ہے۔ حکومت نے پہلے ہی صوبے میں متعدد وائنڈ اور ہائیڈرو پاور پراجیکٹس شروع کیے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll