جی این این سوشل

دنیا

امریکی صدر جوبائیڈن کا عید الاضحیٰ کے موقع پر پیغام

امریکہ کی حمایت سے تیار کی گئی جنگ بندی تجویز پر عمل کیا جانا چاہیے، بائیڈن

پر شائع ہوا

کی طرف سے

امریکی  صدر جوبائیڈن کا عید الاضحیٰ کے موقع پر پیغام
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے مسلمانوں کے مذہبی تہوار عید الاضحیٰ کے موقع پر جاری کیے گئے پیغام میں اس امر پر زور دیا ہے کہ امریکہ کی حمایت سے تیار کی گئی جنگ بندی تجویز پر عمل کیا جانا چاہیے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ٹویٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ اس جنگ بندی تجویز پر عمل سے ہی شہریوں کے جنگی مصائب سے نکلنے میں مدد دی جا سکتی ہے کیونکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کی خوف ناکی سے بچ سکتے ہیں۔

جوبائیڈن نے مزید کہا اس جنگ میں بہت سے معصوم لوگ مارے جا چکے ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں بچے بھی شامل ہیں۔ بہت سے لوگوں کو اپنے گھروں کو چھوڑنا پڑا ہے۔ ان کی درد غیر معمولی ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اسرائیل کی طرف سے حماس کو پیش کیا گیا تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی منصوبہ تشدد کے خاتمے کا بہترین راستہ ہے۔ اس کی سلامتی کونسل نے بھی تائید کی ہے۔

تاہم یہ نئی بات ہے کہ امریکی صدر اپنے پیش کردہ یا خود سے منسوب کیے گئے جنگ بندی منصوبے کو اسرائیل کی طرف سے حماس کو پیش کیا گیا منصوبہ قرار دے رہے ہیں۔ اس دوران حماس کی طرف سے پیش کردہ ترامیم کا بھی ذکر کیے بغیر اسی منصوبے کو بہترین راستہ قرار دیا ہے۔

اپنے پیغام میں مسلم کمیونٹی کے حقوق کے لیے امریکی کوشش کو اجاگر کیا ، خصوصاً جو مسلمان مظالم کا شکار ہیں۔ ان میں برما اور چین میں ہیں اور ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ میری انتظامیہ اسلامو فوبیا کے خلاف کام کر رہی ہے۔' یاد رہے اسلامو فوبیا مسلم اور اسلام دشمنی کی ایک ملفوف اصطلاح ہے۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ امریکہ میں بھی اور یورپ میں بھی اسلامو فوبیا کا مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

پاکستان

جسٹس (ر) مقبول باقر نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی

ذاتی مصروفیات کی وجہ سے ایڈہاک جج کا عہدہ قبول نہیں کرسکتا، مقبول باقر

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

جسٹس (ر) مقبول باقر نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مشیر عالم کے بعد جسٹس (ر) مقبول باقر نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی۔

سابق نگران وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر کا کہنا تھا کہ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے ایڈہاک جج کا عہدہ قبول نہیں کرسکتا۔ ایڈہاک جج بننا قانونی عمل ہے اس میں کوئی عیب نہیں۔

واضح رہے کہ 16 جولائی کو سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مشیر عالم نے ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی، اپنے فیصلے سے جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ کر آگاہ کردیا۔

سابق جسٹس مشیر عالم نے جوڈیشل کمیشن کے نام خط میں لکھا تھا کہ اللہ نے انھیں ان کی حیثیت سے زیادہ عزت دی ہے، ایڈہاک جج کی نامزدگی کے بعد سوشل میڈیا پر جو مہم شروع کی گئی، اس سے شدید مایوسی ہوئی ہے۔ وہ موجودہ حالات میں بطور ایڈہاک جج کام کرنے سے معذرت چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ایڈہاک ججز کی تقرری کے لیے 4 ریٹائرڈ ججز کے نام تجویز کیے تھے، ان ججز میں جسٹس ریٹائرڈ مشیر عالم کا نام بھی شامل تھا، دیگر ججز میں جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر ، جسٹس ریٹائرڈ مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس ریٹائرڈ طارق مسعود کے نام شامل ہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 19 جولائی کو طلب کر رکھا ہے۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

ڈیموکریٹس کی اکثریت بائیڈن کو انتخابی دوڑ سے باہر دیکھنا چاہتی ہے، سروے

نیا پول بائیڈن کے اس دعوے کی سختی سے تردید کرتا ہے کہ ٹرمپ سے مباحثے کے بعد ڈیموکریٹس کی اکثریت اب بھی ان کی حمایت کرتی ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ڈیموکریٹس کی اکثریت بائیڈن کو انتخابی دوڑ سے باہر دیکھنا چاہتی ہے، سروے

لگ بھگ دو تہائی ڈیموکریٹس نے سروے میں کہ دیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کو صدارتی دوڑ سے دستبردار ہو جانا چاہیے اور ان کی پارٹی کو ایک مختلف امیدوار کھڑا کرنے دینا چاہیے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ نیا پول بائیڈن کے اس دعوے کی سختی سے تردید کرتا ہے کہ ٹرمپ سے مباحثے کے بعد ڈیموکریٹس کی اکثریت اب بھی ان کی حمایت کرتی ہے۔ یاد رہے اس مباحثے کے بعد کچھ بڑے ناموں نے بائیڈن کی حمایت چھوڑ دی ہے۔

اے پی این او آر سی سنٹر فار پبلک افیئر ریسرچ کے ایک نئے سروے کے مطابق 10 میں سے صرف تین ڈیموکریٹس کو بہت زیادہ یقین ہے کہ بائیڈن کے پاس دفتر میں مؤثر طریقے سے خدمت کرنے کی ذہنی صلاحیت موجود ہے۔ یہ فروری میں کئے گئے ایک سروے میں 40 فیصد کی حایت سے تھوڑی کم حمایت ہے۔

یہ نتائج ان چیلنجوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کا سامنا 81 سالہ صدر کو ہے کیونکہ وہ اپنی پارٹی کے اندر سے دوڑ چھوڑنے کے مطالبات کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہے اور ڈیموکریٹس کو یہ باور کرانے کی بھی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دینے کے لیے بہترین امیدوار ہیں۔

یہ رائے شماری اصل میں ٹرمپ پر ہفتہ 13 جولائی کو پنسلوانیا میں قاتلانہ حملے سے پہلے کی گئی تھی۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ٹرمپ پر فائرنگ کے واقعہ نے بائیڈن کے بارے میں لوگوں کے خیالات کو متاثر کیا ہے یا نہیں۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

توشہ خانہ ریفرنس، عمران خان اور بشریٰ بی بی سے تفتیش کا چوتھا مرحلہ مکمل

نیب کی ٹیم نے عمران خان اور بشریٰ بی بی سے چوتھی بار تفتیش کی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

توشہ خانہ ریفرنس،  عمران خان اور  بشریٰ بی بی سے تفتیش کا چوتھا مرحلہ مکمل

توشہ خانہ ریفرنس،قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے تفتیش کا چوتھا مرحلہ مکمل کرلیا، ٹیم نے ملزمان سے توشہ خانہ تحائف کے حوالے سے تفتیش کی۔

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ نئے ریفرنس کی تفتیش کے لیے نیب ٹیم ڈپٹی ڈائریکٹر محسن ہارون کی سربراہی میں اڈیالہ جیل پہنچی، تفتیشی ٹیم میں ڈپٹی ڈائریکٹر مستنصر عباس بھی شامل تھے۔

نیب کی تفتیشی ٹیم گیٹ 5 سے اڈیالہ جیل کے اندر داخل ہوئی اور عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے چوتھی مرتبہ تفتیش کی، جس کے بعد نیب ٹیم اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہوگئی۔

ٹیم نے ملزمان سے توشہ خانہ تحائف کے حوالے سے تفتیش کی، تفتیش میں ملزموں سے تحفے میں ملنے والے جیولری سیٹ سے متعلق چند سوالات کیے گئے۔قومی احتساب بیورو (نیب) کی تفتیشی ٹیم نے عمران خان اور بشریٰ بی بی سے تقریباً ایک گھنٹہ تک تفتیش کی۔

واضح رہے کہ نیب نے ملزمان کا احتساب عدالت سے 8روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر رکھا ہے ۔ ملزمان کو 22جولائی کو دورباہ تفتیشی پیش رفت رپورٹ کے ساتھ دوبارہ عدالت پیش کیا جائے گا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll