دونوں منصوبوں کیلئے 53 کڑور 50 لاکھ ڈالر کی فنانسنگ فراہم کی جائے گی،اعلامیہ جاری


عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پاکستان میں سماجی تحفظ اورلائیوسٹاک کے دومنصوبوں کیلئے 535 ملین ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دیدی ہے۔
عالمی بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق کرائسزریزلئنٹ سوشل پروٹیکشن (سی آر آئی ایس پی) پروگرام کے لیے اضافی مالی معاونت کا مقصد ملک کے سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط کرنا اور غریب اور معاشی طورپرکمزور گھرانوں کو مستحکم بناناہے۔
اسی طرح سندھ لائیو اسٹاک اینڈ ایکوا کلچر سیکٹرز ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ جدید موسمیاتی اور مسابقتی نظام کو فروغ دے گا جس سے سندھ میں مویشیوں اور آبی زراعت کے شعبوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے پروڈیوسرز کو فائدہ پہنچے گا۔
پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹرناجی بن حساین نے بتایاکہ آفات سے نمٹنے کے لیے لچک وموزونیت پیدا کرنا اہمیت کاحامل ہے جس کے تحت سماجی تحفظ،معاشی ترقی اور بحالی میں معاونت کرنے والے شعبوں کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
انہوں نے کہاکہ جدید موسمیاتی سمارٹ ٹیکنالوجی اور ہنگامی منصوبہ بندی کے ذریعے موسمیاتی موزونیت کو یقینی بنانابھی ضروری ہے۔ سی آر آئی ایس پی کے لیے 400ملین ڈالرکی اضافی فنانسنگ کی جائیگی جس سے پاکستان میں سماجی تحفظ کے نظام کو پالیسی اور ترسیل کے نظام کی بنیادوں سے آراستہ کرنے کی جاری کوششوں کو تقویت ملے گی۔
یہ پروگرام قومی کیش ٹرانسفر پروگرام کی تاثیر، کوریج اور وفاقی وصوبائی رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانے کے لیے طویل مدتی پالیسی اقدامات پر توجہ مرکوز کرے گا۔
پراجیکٹ کے ٹاسک ٹیم لیڈر امجد ظفر خان نے کہا کہ اپنے آغاز سے لے کر اب تک سی آر آئی ایس پی نے 9 ملین سے زائد خاندانوں کو باقاعدہ حفاظتی نیٹ سپورٹ کے ساتھ اہم نتائج حاصل کیے ہیں اور حالیہ سیلاب کے دوران 2.8 ملین خاندانوں تک فوری طور پر پہنچنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
اسی طرح سندھ لائیو اسٹاک اینڈ ایکوا کلچر سیکٹرز ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ کے تحت 135ملین ڈالر کی معالی معاونت فراہم کی جائیگی جس سے موسمیاتی لحاظ سے موزوں پیداوار، قدر میں اضافے، اور منڈیوں تک جامع رسائی کو فروغ دینے میں مددملے گی ۔
اس پروگرام کااطلاق مرحلہ وار طریقہ استعمال کرتے ہوئے سندھ کے تمام اضلاع کا احاطہ کرے گا۔پروگرام سے 940,000کاشت کار خاندانوں کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جن میں 930,000 مویشی پالنے والے گھرانے اور 10,000 آبی زراعت کے پیداوارکنندگان شامل ہیں۔
منصوبے میں خواتین کسانوں کی شرکت کو یقینی بنانے اور صنفی فرق کو کم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں: وفاقی حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا 'فیصلہ'
- 2 دن قبل

اسلامی تعاون تنظیم کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقے پر حوثی حملوں کی شدید مذمت
- 15 گھنٹے قبل

پاکستان ہاکی فیڈریشن کا بھارت میں مینز ایشین چیمپئنز ٹرافی کھیلنے سے انکار
- 15 گھنٹے قبل
پی ٹی آئی کے 24 ارکین اسمبلی بشمول سہیل آفریدی کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم
- 3 دن قبل

غزہ میں اسرائیلی حملوں سے متاثرہ عمارت منہدم، 5 بچوں سمیت 16 افراد شہید
- 20 گھنٹے قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں پھر گراوٹ
- 2 دن قبل

ریڈ لائن کی شوٹنگ کا آغاز، ستارے سیٹ پر پہنچ گئے
- 2 دن قبل

لبنانی وزیر داخلہ کی علاقائی امن کیلئے پاکستان کی خدمات کی تعریف
- 3 دن قبل

'مجھے دھمکیاں دی گئی ہیں'، میر رضا کیس میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ کا انکشاف
- 3 دن قبل

فیلڈ مارشل کا قومی سلامتی و استحکام میں ٹیکنالوجی پر مبنی جدت کی اہمیت پر زور
- 15 گھنٹے قبل

جمائما گولڈ اسمتھ نے معروف کاروباری شخصیت سے دوسری شادی کرلی
- 3 دن قبل
مکہ معاہدے پر حملے کا جواب تینوں ممالک طے کریں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
- ایک دن قبل








