جی این این سوشل

تجارت

ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں ہوشربا اضافہ

فی تولہ سونا 1600 روپے اضافے کے بعد فی تولہ سونا 2 لاکھ 42 ہزار 900 روپے کا ہوگی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں ہوشربا اضافہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہو گیا ۔

ملک میں فی تولہ سونا 1600 روپے مہنگا ہوگیا ، فی تولہ سونا 2 لاکھ 42 ہزار 900 روپے کا ہوگیا۔

10 گرام سونے کی قیمت میں 1372 روپے کے بعد 10 گرام سونےکی قیمت2 لاکھ 8 ہزار 248 روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔

جبکہ عالمی مارکیٹ میں 28 ڈالر کے اضافے سے فی اونس سونا 2363 ڈالرہوگیا ۔

پاکستان

اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کا مرکزی دفتر  ایک بار  پھر سیل کر دیا

آفس کو فائر اینڈ لائف سیفٹی انتظامات نہ ہونے کے باعث سیل کیا گیا ، میٹرو پولیٹن کارپوریشن

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کا مرکزی دفتر  ایک بار  پھر سیل کر دیا

اسلام آباد انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کا مرکزی دفتر  ایک بار  پھر سیل کر دیا۔ 

تحریک انصاف کے دفتر کو میٹرو پولیٹن کارپوریشن اسلام آبادکی جانب سے سیل کیا گیا ہے۔

میٹرو پولیٹن کارپوریشن حکام کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آفس میں فائر اینڈ لائف سیفٹی انتظامات نہ ہونے کے باعث سیل کیا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس نے کل پی ٹی آئی کے  مرکزی سیکرٹریٹ سے سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن سمیت دیگر کارکنان کو گرفتار کیا تھا جنہیں آج ایف آئی اے نے عدالت میں پیش کرکے ان کا ریمانڈ لیا۔ 

یاد رہے کہ 2 ماہ قبل بھی سی ڈی اے نے انسداد تجاوزات آپریشن کرتے ہوئے پی ٹی آئی سیکرٹریٹ کا ایک حصہ گراکر دفتر سیل کردیا تھا مگر پھر  اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم  پر سیکرٹریٹ کو دوبارہ کھولنےکی اجازت دی گئی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

ناران :  2 سیاح فوٹو بنواتے ہوئے گلیشیئر گرنے سے جاں بحق

مقامی افراد نے لاشوں کو نکال کر ناران بی ایچ یو پہنچا دیا، جہاں سے لاشوں کو ایمبولینس کے ذریعے راجن پور روانہ کر دیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ناران :  2 سیاح فوٹو بنواتے ہوئے گلیشیئر گرنے سے جاں بحق

مانسہرہ: مانسہرہ کے تفریحی مقام ناران میں آج ایک گلیشیئر کا ٹکڑا گرنے سے دو سیاح جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا۔

پولیس کے مطابق راجن پور سے تعلق رکھنے والی ایک فیملی ناران میں جھیل روڈ پر گھوم رہی تھی۔ 22 سالہ مہران اور اس کی 13 سالہ بھتیجی گلیشیئر کے نیچے تصاویر بنوا رہے تھے کہ اچانک گلیشیئر کا ایک وزنی ٹکڑا ٹوٹ کر ان کے اوپر آ گیا۔

مہران اور اس کی بھتیجی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ ان کے ساتھ موجود ایک اور رکن خاندان زخمی ہو گیا۔ زخمی شخص کو ناران کے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

مقامی افراد نے لاشوں کو نکال کر ناران بی ایچ یو پہنچا دیا، جہاں سے لاشوں کو ایمبولینس کے ذریعے راجن پور روانہ کر دیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ پر سیاحوں کو گلیشیئر سے دور رہنے کی ہدایات کا بورڈ بھی لگا دیا گیا تھا، لیکن سیاحوں نے ہدایات پر عمل نہیں کیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال ناران میں اس طرح کا ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں برف کا ایک ٹکڑا گرنے سے کراچی کی دو خواتین جاں بحق ہو گئی تھیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ایف پی سی سی آئی کا آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

آئی پی پی معاہدوں کے تحت، پاکستان اربوں روپے ان کمپنیوں کو ادا کرتا ہے جو بجلی پیدا نہیں کرتیں، گوہر اعجاز

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ایف پی سی سی آئی کا آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف  سپریم کورٹ  جانے کا  فیصلہ

سابق نگران وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ ایف پی سی سی آئی نے آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ٹویٹ میں انہوں ںے کہا ہے کہ چیمبرز آف کامرس نے آئی پی پیز کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ ہے، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) پاکستان کی کاروباری برادری کی اعلیٰ نمائندہ ہے، ایف پی سی سی آئی معزز سپریم کورٹ میں باضاطہ طور پر پٹیشن دائر کرے گی کہ وہ اس ناقابل برداشت صورتحال میں مداخلت کرے جو ہر پاکستانی کے حق زندگی کو متاثر کرتی ہے۔

گوہر اعجاز نے کہا کہ آئی پی پی معاہدوں کے تحت، پاکستان اربوں روپے ان کمپنیوں کو ادا کرتا ہے جو بجلی پیدا نہیں کرتیں، مہنگی بجلی تمام پاکستانیوں کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہے, بجلی کی زیادہ قیمت شہریوں کو غربت میں دھکیل رہی ہے اور کاروباروں کو دیوالیہ کر رہی ہے.

ان کا کہنا تھا کہ 2020ء میں سابقہ عبوری توانائی کے وزیر محمد علی نے ایک تفصیلی رپورٹ لکھی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ حکومتی نااہلی اور آئی پی پی کی غلط بیانیوں کی وجہ سے سینکڑوں اربوں کا نقصان ہو رہا ہے، وہ رپورٹ آج تک مکمل طور پر نافذ نہیں کی گئی، کیوں؟ حکومت نے اس رپورٹ میں مطالبہ کردہ فرانزک آڈٹ کا حکم کیوں نہیں دیا؟،

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ 240 ملین پاکستانیوں کی بقا زیادہ اہم ہے یا 40 خاندانوں کے لیے یقینی منافع، ہمارا ملک تمام وسائل سے مالا مال ہے ہمیں خوشحالی کے لیے صرف بدانتظامی کا خاتمہ چاہیے، بجلی پاکستان کی صنعتوں کے لیے سب سے اہم مسئلہ ہے اور یہ براہ راست 240 ملین لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔

سابق وزیر تجارت کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان چند برس میں ایک ہی غلطیاں دوبارہ نہیں برداشت کر سکتا صرف اس لیے کہ نئے ’’سرمایہ کاروں‘‘ کا ایک گروپ کچھ نہ کرنے کے عوض پیسہ کمانا چاہتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll