جی این این سوشل

تجارت

آئی ایم ایف کی پاکستان کے معاشی فیصلوں کی تعریف

حکومت کے ساتھ نئے قرض پروگرام کے سلسلے میں بات چیت کے لیے آئی ایم ایف وفد کے جون کے آخری ہفتے میں پاکستان آنے کا امکان ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

آئی ایم ایف کی پاکستان کے  معاشی فیصلوں کی تعریف
آئی ایم ایف کی پاکستان کے معاشی فیصلوں کی تعریف

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) نے بجٹ کے معاملے میں حکومت کی تعریف کرتے ہوئے سخت معاشی فیصلوں کو خوش آئند قرار دے دیا۔ حکومت کے ساتھ نئے قرض پروگرام کے سلسلے میں بات چیت کے لیے آئی ایم ایف وفد کے جون کے آخری ہفتے میں پاکستان آنے کا امکان ہے۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچول مذاکرات کے دوران عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے پاکستان کے وفاقی بجٹ میں سخت معاشی فیصلوں کو خوش آئند قرار دیا گیا اور آئی ایم ایف نے حکومت اور سیاسی جماعتوں کے مثبت کردار کی بھی تعریف کردی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے نے معیشت کی بہتری کے لیے ٹیکس چھوٹ کو محدود کرنے کے اقدام کو سراہا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت کے ساتھ نئے قرض پروگرام کے سلسلے میں بات چیت کے لیے آئی ایم ایف وفد کے جون کے آخری ہفتے میں پاکستان آنے کا امکان ہے، آئی ایم ایف کو آئندہ مالی سال کا بجٹ 28 یا 29 جون تک منظور ہونے کی توقع ہے۔

پاکستان

پی ٹی آئی رہنماء رؤف حسن 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

عدالت نے تحریک انصاف کے دیگر کارکنان کو بھی 2 روزہ جسمانی ریمارنڈ منظور کر لیا جبکہ 2 خواتین کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی رہنماء رؤف حسن 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے تحریک انصاف کےمرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حوالے کر دیا۔

عدالت نے تحریک انصاف کے دیگر کارکنان کو بھی 2 روزہ جسمانی ریمارنڈ منظور کر لیا جبکہ 2 خواتین کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

یاد رہے کہ آج رؤف حسن و دیگر ورکرز کو جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

سماعت کے آغاز پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) پراسیکیوٹر نے استدعا کی ہمیں سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ڈیوائسز کی ریکوری کرنی ہے جس کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔

وکیل تحریک انصاف لطیف کھوسہ نے استدعا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا آفس سیل کردیا تھا، ہائی کورٹ میں کیس ہے، فل کورٹ کے 11 ججز نے کہا کہ تحریک انصاف سیاسی جماعت تھی اور رہے گی، سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کہا ہے جبکہ حکومت تحریک انصاف کو دہشتگرد قرار دے رہی ہے۔

وکیل صفائی نے بتایا کہ ماضی میں بینظیر بھٹو، ذوالفقار بھٹو، فاطمہ جناح کو بھی غدار کہا گیا، عمران خان کو غدار کہا جارہ ہے مگر کسی کو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کا حق نہیں، حکومت تحریک انصاف پر پابندی لگانے کی کوشش کررہی ہے۔

وکیل لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ رؤف حسن کا میڈیا سیل سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے، مخصوص نشستوں کی امیدوار خواتین تھیں انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا، تحریک انصاف پر پریشر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، اب نظریں عدلیہ پر ہیں کہ کیا انصاف کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں؟

اس موقع پر وکیل صفائی لطیف کھوسہ نے رؤف حسن کے خلاف درج مقدمہ کی کاپی فراہم کرنے کی استدعا کردی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دہشتگردی کا ایک نیا لفظ متعارف کروا دیا گیا ہے اور ڈیجیٹل دہشتگردی کا لفظ اب تحریک انصاف پر مسلّط کرنے لگے ہیں، تحریک انصاف کے لاہور اور اسلام آباد میں سینٹرل دفاتر سیل ہیں، اب رؤف حسن کو ڈیجیٹل دہشتگردی میں ملوث کرنے کی کوشش کررہے۔

انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکار تحریک انصاف کا تمام ریکارڈ لے گئے ہیں، الیکشن کمیشن میں آج سماعت تھی مگر ہمارے امیدواروں کا ریکارڈ لے گئے ہیں۔

اس موقع پر رؤف حسن کے خلاف درج مقدمہ کی کاپی پی ٹی آئی وکلا کو فراہم کردی گئیں۔

وکیل علی بخاری نے روسٹرم پر آکر بتایا کہ مقدمے میں تحریر شدہ وقت پر وقوعہ ہوا ہی نہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایک ملزم کے کہنے پر مقدمے میں رؤف حسن کو نامزد کیا گیا، تحریک انصاف کے گرفتار کارکنان کی ڈیوائسزز، موبائل ایف آئی اے کے پاس ہیں، واٹر چلر بھی تحریک انصاف کے دفتر سے اٹھا کر لے گئے ہیں، ایسا معلوم ہورہا ہے جیسے بھارت نے حملہ کردیا اور سب کچھ ساتھ لے گئے۔

لطیف کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ رہا ہونے والے تحریک انصاف کے کارکنان کو خالی ہاتھ چھوڑا گیا ہے۔

بعد ازاں ایف آئی اے نے رؤف حسن کے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی جبکہ وکیل صفائی نے رؤف حسن و دیگر کارکنان کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کی۔

وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا کرنے کا کبھی کسی سیکیورٹی ایجنسی نے تحریک انصاف کے خلاف مؤقف اختیار نہیں کیا، تحریک انصاف اور عمران خان سے زیادہ محب وطن کوئی نہیں،وکیل صفائی علی بخاری نے کہا کہ رؤف حسن کا سوشل میڈیا سے کوئی تعلق ہی نہیں، تحریک انصاف کا کیا اسٹیٹس ہے؟ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کوئی ایسا سوال نہیں بنتا، روف حسن کو اغوا کیا گیا، قاتلانہ حملہ بھی حال ہی میں کیا گیا۔

وکیل نے بتایا کہ رؤف حسن کینسر کے مریض رہ چکے ہیں، ایک پڑھی لکھی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں، ایف آئی اے نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کیا تفتیش کی؟ کچھ بھی نہیں۔

وکیل صفائی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب کوئی ثبوت ہی نہیں تو 10 دن کا ریمانڈ مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا موبائل فون استعمال کرنا جرم ہے؟ کیا رؤف حسن نے کچھ ٹویٹ کیا؟ رؤف حسن سے کوئی بم برآمد نہیں ہونا، سوشل میڈیا کی بات ہورہی، سب کو معلوم ہے کیس کی کیا حیثیت ہے، صرف ذلیل کرنا مقصد ہے۔

بعدازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے رؤف حسن کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا، دیگر تحریک انصاف کے مرد کارکنان کا بھی 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا جبکہ 2 خواتین کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن کو اسلام آباد پولیس نے تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ سے گرفتار کیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

حماس سمیت مختلف فلسطینی دھڑوں کا اختلافات ختم کرنے پر اتفاق

فلسطینی جماعتوں نے مذاکرت کے اختتام پر اختلافات ختم کرکے فلسطین کی بہبود و آزادی کے لیے مل کر کام کرنے کا اعلان کیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حماس سمیت مختلف فلسطینی دھڑوں کا اختلافات ختم کرنے پر اتفاق

چین میں ہونے والے مذاکرات میں الفتح اور حماس سمیت مختلف فلسطینی دھڑوں نے اختلافات ختم کرنے پر اتفاق کرلیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق چین کے تعاون سے ہونے والے مذاکرات میں فلسطینی اتھارٹی کی حکمران جماعت الفتح اورحماس سمیت مختلف فلسطینی جماعتوں نے حصہ لیا اور مذاکرت کے اختتام پر اختلافات ختم کرکے فلسطین کی بہبود و آزادی کے لیے مل کر کام کرنے کا اعلان کیا۔

 رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیجنگ میں الفتح اور حماس سمیت 14 مختلف سیاسی و مزاحمتی دھڑوں کے رہنماؤں میں مذاکرات 21 سے 23 جولائی تک جاری رہے جس کے بعد فلسطینی کاز کیلئے مل کر کام کرنے کی قرارداد پر سب نے دستخط کیے۔

عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی دھڑوں نے چینی وزیرخارجہ اور چینی میڈیا کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی۔

غزہ پر حکومت کرنے والی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اور فلسطین کے مغربی کنارے پر حکومت کرنے والی الفتح سال 2006 کے انتخابات سے ہی ایک دوسرے کی سخت مخالف رہی ہیں۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

این ٹی ڈی سی کا 12 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ پر وضاحتی بیان

حیسکو ریجن میں 12گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی وجہ صرف این ٹی ڈی سی کو قرار دینا درست نہیں:ترجمان 

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

این ٹی ڈی سی کا 12 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ پر وضاحتی بیان

لاہور:نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے ترجمان نے 22 جولائی کو حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے علاقوں میں بجلی کی حالیہ طویل بندش کے بارے میں وضاحت کی ہے۔

ترجمان این ٹی ڈی سی کے مطابق حیسکو ریجن میں اضافی لوڈ مینجمنٹ کے اقدامات نیپرا گرڈ کوڈ 2023 کے مطابق کیے گئے۔ یہ اقدامات 21 جولائی بروز ہفتہ اور 22 جولائی بروز اتوار کی درمیانی شب پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر کیے گئے۔

ترجمان این ٹی ڈی سی نے زور دے کر کہا کہ 12 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ کوصرف این ٹی ڈی سی سے منسوب کرنے کا دعویٰ مبالغہ آرائی پر مبنی تھا اور یہ صورتحال کی درست وضاحت نہیں تھی۔

ترجمان نے کہا کہ ان اقدامات کی بنیادی وجہ گھارو اور جھمپیر ونڈ کلسٹرز میں واقع 36 ونڈ فارمز سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی تھی۔ یہ ونڈ فارمز 1,845 میگاواٹ کی مشترکہ پیداواری استعداد کے ساتھ این ٹی ڈی سی کے 500 کے وی جامشورو گرڈ سٹیشن کو بجلی فراہم کرتے ہیں۔ ہوا کی غیر معمولی طور پر کم رفتار کے نتیجے میں ونڈ فارمز سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی جس کے نتیجے میں جامشورو گرڈ سٹیشن کے ٹرانسفارمرز پر بہت زیادہ بوجھ پڑا۔

اہم آلات کی حفاظت کی کوشش میں این ٹی ڈی سی نے اضافی لوڈ شیڈنگ کیلئے حیسکو حکام کے ساتھ رابطہ کیا تاہم اتوار کی صبح تک ہوا کی رفتار معمول پر آ گئی جس کے بعد بجلی کی پیداوار بڑھنے پر حیسکو کے علاقوںمیں اضافی لوڈ شیڈنگ کی ضرورت نہیں رہی۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ لوڈ شیڈنگ کا اصل دورانیہ 12 گھنٹے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھا۔ترجمان این ٹی ڈی سی کے مطابق 4 گھنٹے تک تقریباً 75 میگاواٹ اور 6 گھنٹے تک 142 میگاواٹ کا شارٹ فال رہا جس کے نتیجے میں حیسکو کی جانب سے مختلف 11 کے وی فیڈرز پر اوسطاً ایک گھنٹہ لوڈشیڈنگ کی گئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll