جی این این سوشل

جرم

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس مقابلہ، 3 کار چور ہلاک

کار چوروں کے داخل ہونے کی اطلاع پر پولیس نے ناکہ بندی کر رکھی تھی،ساتھی خاتون کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس مقابلہ، 3 کار چور ہلاک
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس مقابلہ، 3 کار چور ہلاک

اسلام آباد میں پولیس مقابلے کے دوران 3 کار چور ہلاک ہوگئے جبکہ ساتھی خاتون کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ کی حدود کشمیر چوک کے قریب پولیس اور ملزموں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 3 کار چور مارے گئے جبکہ ساتھی خاتون کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس کے مطابق 4 رکنی کار چوروں کا گروہ مری سے اسلام آباد داخل ہو رہا تھا، کار چوروں کے داخل ہونے کی اطلاع پر پولیس نے ناکہ بندی کر رکھی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کار سوار چوروں نے پولیس کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کر دی ، جوابی فائرنگ سے تین کار چور موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ساتھی زخمی خاتون کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان سے لاہور سے چوری کی گئی گاڑی، اسلحہ اور متعدد نمبرز پلیٹس برآمد کر لی گئی ہیں۔

پاکستان

پی ٹی آئی رہنماء رؤف حسن 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

عدالت نے تحریک انصاف کے دیگر کارکنان کو بھی 2 روزہ جسمانی ریمارنڈ منظور کر لیا جبکہ 2 خواتین کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی رہنماء رؤف حسن 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے تحریک انصاف کےمرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حوالے کر دیا۔

عدالت نے تحریک انصاف کے دیگر کارکنان کو بھی 2 روزہ جسمانی ریمارنڈ منظور کر لیا جبکہ 2 خواتین کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

یاد رہے کہ آج رؤف حسن و دیگر ورکرز کو جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

سماعت کے آغاز پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) پراسیکیوٹر نے استدعا کی ہمیں سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ڈیوائسز کی ریکوری کرنی ہے جس کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔

وکیل تحریک انصاف لطیف کھوسہ نے استدعا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا آفس سیل کردیا تھا، ہائی کورٹ میں کیس ہے، فل کورٹ کے 11 ججز نے کہا کہ تحریک انصاف سیاسی جماعت تھی اور رہے گی، سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کہا ہے جبکہ حکومت تحریک انصاف کو دہشتگرد قرار دے رہی ہے۔

وکیل صفائی نے بتایا کہ ماضی میں بینظیر بھٹو، ذوالفقار بھٹو، فاطمہ جناح کو بھی غدار کہا گیا، عمران خان کو غدار کہا جارہ ہے مگر کسی کو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کا حق نہیں، حکومت تحریک انصاف پر پابندی لگانے کی کوشش کررہی ہے۔

وکیل لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ رؤف حسن کا میڈیا سیل سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے، مخصوص نشستوں کی امیدوار خواتین تھیں انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا، تحریک انصاف پر پریشر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، اب نظریں عدلیہ پر ہیں کہ کیا انصاف کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں؟

اس موقع پر وکیل صفائی لطیف کھوسہ نے رؤف حسن کے خلاف درج مقدمہ کی کاپی فراہم کرنے کی استدعا کردی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دہشتگردی کا ایک نیا لفظ متعارف کروا دیا گیا ہے اور ڈیجیٹل دہشتگردی کا لفظ اب تحریک انصاف پر مسلّط کرنے لگے ہیں، تحریک انصاف کے لاہور اور اسلام آباد میں سینٹرل دفاتر سیل ہیں، اب رؤف حسن کو ڈیجیٹل دہشتگردی میں ملوث کرنے کی کوشش کررہے۔

انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکار تحریک انصاف کا تمام ریکارڈ لے گئے ہیں، الیکشن کمیشن میں آج سماعت تھی مگر ہمارے امیدواروں کا ریکارڈ لے گئے ہیں۔

اس موقع پر رؤف حسن کے خلاف درج مقدمہ کی کاپی پی ٹی آئی وکلا کو فراہم کردی گئیں۔

وکیل علی بخاری نے روسٹرم پر آکر بتایا کہ مقدمے میں تحریر شدہ وقت پر وقوعہ ہوا ہی نہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایک ملزم کے کہنے پر مقدمے میں رؤف حسن کو نامزد کیا گیا، تحریک انصاف کے گرفتار کارکنان کی ڈیوائسزز، موبائل ایف آئی اے کے پاس ہیں، واٹر چلر بھی تحریک انصاف کے دفتر سے اٹھا کر لے گئے ہیں، ایسا معلوم ہورہا ہے جیسے بھارت نے حملہ کردیا اور سب کچھ ساتھ لے گئے۔

لطیف کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ رہا ہونے والے تحریک انصاف کے کارکنان کو خالی ہاتھ چھوڑا گیا ہے۔

بعد ازاں ایف آئی اے نے رؤف حسن کے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی جبکہ وکیل صفائی نے رؤف حسن و دیگر کارکنان کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کی۔

وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا کرنے کا کبھی کسی سیکیورٹی ایجنسی نے تحریک انصاف کے خلاف مؤقف اختیار نہیں کیا، تحریک انصاف اور عمران خان سے زیادہ محب وطن کوئی نہیں،وکیل صفائی علی بخاری نے کہا کہ رؤف حسن کا سوشل میڈیا سے کوئی تعلق ہی نہیں، تحریک انصاف کا کیا اسٹیٹس ہے؟ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کوئی ایسا سوال نہیں بنتا، روف حسن کو اغوا کیا گیا، قاتلانہ حملہ بھی حال ہی میں کیا گیا۔

وکیل نے بتایا کہ رؤف حسن کینسر کے مریض رہ چکے ہیں، ایک پڑھی لکھی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں، ایف آئی اے نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کیا تفتیش کی؟ کچھ بھی نہیں۔

وکیل صفائی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب کوئی ثبوت ہی نہیں تو 10 دن کا ریمانڈ مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا موبائل فون استعمال کرنا جرم ہے؟ کیا رؤف حسن نے کچھ ٹویٹ کیا؟ رؤف حسن سے کوئی بم برآمد نہیں ہونا، سوشل میڈیا کی بات ہورہی، سب کو معلوم ہے کیس کی کیا حیثیت ہے، صرف ذلیل کرنا مقصد ہے۔

بعدازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے رؤف حسن کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا، دیگر تحریک انصاف کے مرد کارکنان کا بھی 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا جبکہ 2 خواتین کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن کو اسلام آباد پولیس نے تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ سے گرفتار کیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

کراچی: ہاکس بے میں ایک ہی خاندان کے 2 افراد ڈوب کر ہلاک

خاندان کے ارکان سمندر میں نہا رہے تھے جب اچانک تیز لہروں نے انہیں بہا لیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کراچی: ہاکس بے میں ایک ہی خاندان کے 2 افراد ڈوب کر ہلاک

کراچی: کراچی کے مقبول تفریحی مقام ہاکس بے میں ایک خاندان کے 6 افراد نہاتے ہوئے ڈوب گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے 4 افراد کو بچا لیا، لیکن 2 افراد کی لاشیں نکالی جا سکیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ آج شام کو پیش آیا جب لیاقت آباد سے تعلق رکھنے والا ایک خاندان ہاکس بے میں پکنک منانے آیا تھا۔ خاندان کے ارکان سمندر میں نہا رہے تھے جب اچانک تیز لہروں نے انہیں بہا لیا۔

مقامی افراد نے اس واقعے کی اطلاع ریسکیو اہلکاروں کو دی، جنہوں نے فوری طور پر آپریشن شروع کر دیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے 4 افراد کو بچا لیا، لیکن 2 افراد کی جاں کی بازی ہار گئے۔

جاں بحق ہونے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔

پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ڈوبنے والے تمام افراد ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ایف پی سی سی آئی کا آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

آئی پی پی معاہدوں کے تحت، پاکستان اربوں روپے ان کمپنیوں کو ادا کرتا ہے جو بجلی پیدا نہیں کرتیں، گوہر اعجاز

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ایف پی سی سی آئی کا آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف  سپریم کورٹ  جانے کا  فیصلہ

سابق نگران وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ ایف پی سی سی آئی نے آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ٹویٹ میں انہوں ںے کہا ہے کہ چیمبرز آف کامرس نے آئی پی پیز کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ ہے، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) پاکستان کی کاروباری برادری کی اعلیٰ نمائندہ ہے، ایف پی سی سی آئی معزز سپریم کورٹ میں باضاطہ طور پر پٹیشن دائر کرے گی کہ وہ اس ناقابل برداشت صورتحال میں مداخلت کرے جو ہر پاکستانی کے حق زندگی کو متاثر کرتی ہے۔

گوہر اعجاز نے کہا کہ آئی پی پی معاہدوں کے تحت، پاکستان اربوں روپے ان کمپنیوں کو ادا کرتا ہے جو بجلی پیدا نہیں کرتیں، مہنگی بجلی تمام پاکستانیوں کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہے, بجلی کی زیادہ قیمت شہریوں کو غربت میں دھکیل رہی ہے اور کاروباروں کو دیوالیہ کر رہی ہے.

ان کا کہنا تھا کہ 2020ء میں سابقہ عبوری توانائی کے وزیر محمد علی نے ایک تفصیلی رپورٹ لکھی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ حکومتی نااہلی اور آئی پی پی کی غلط بیانیوں کی وجہ سے سینکڑوں اربوں کا نقصان ہو رہا ہے، وہ رپورٹ آج تک مکمل طور پر نافذ نہیں کی گئی، کیوں؟ حکومت نے اس رپورٹ میں مطالبہ کردہ فرانزک آڈٹ کا حکم کیوں نہیں دیا؟،

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ 240 ملین پاکستانیوں کی بقا زیادہ اہم ہے یا 40 خاندانوں کے لیے یقینی منافع، ہمارا ملک تمام وسائل سے مالا مال ہے ہمیں خوشحالی کے لیے صرف بدانتظامی کا خاتمہ چاہیے، بجلی پاکستان کی صنعتوں کے لیے سب سے اہم مسئلہ ہے اور یہ براہ راست 240 ملین لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔

سابق وزیر تجارت کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان چند برس میں ایک ہی غلطیاں دوبارہ نہیں برداشت کر سکتا صرف اس لیے کہ نئے ’’سرمایہ کاروں‘‘ کا ایک گروپ کچھ نہ کرنے کے عوض پیسہ کمانا چاہتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll