جی این این سوشل

دنیا

غزہ میں صہیونی جارحیت سے 21 ہزار بچے لاپتہ ہو گئے

مشرق وسطی کیلئے ادارے کے ریجنل ڈائریکٹرجیریمی اسٹونرنے ایک بیان میں کہا کہ غزہ بچوں کیلئے قبرستان بن چکا ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

غزہ میں صہیونی جارحیت سے 21 ہزار بچے لاپتہ ہو گئے
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

الجزیرہ کے مطابق ’سیو دی چلڈرن‘ نے ایک نئے بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں صہیونی جارحیت کے بعد سے تقریباً اکیس ہزار فلسطینی بچے لا پتا ہو چکے ہیں۔

مشرق وسطی کیلئے ادارے کے ریجنل ڈائریکٹرجیریمی اسٹونرنے ایک بیان میں کہا کہ غزہ بچوں کیلئے قبرستان بن چکا ہے۔

انہوں نے زندہ بچ جانے والے لاپتہ بچوں کی تلاش اور مدد کیلئے جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے رہائشی علاقوں پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بمباری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت مزید 15 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، غزہ میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مرکز پر بھی صہیونی افواج نے بم برسائے، جس میں پانی اور خوراک لینے والوں سمیت 8 فلسطینی شہید ہو گئے۔

پاکستان

پی ٹی آئی کا ایڈہاک ججز کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان

تعطیلات کے دوران 4 اہڈہاک ججز کو 3 سال کے لیے سپریم کورٹ لانا بدنیتی پر مبنی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی کا ایڈہاک ججز کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ساتھ تعطیلات کے دوران 4 اہڈہاک ججز کو 3 سال کے لیے سپریم کورٹ لانا بدنیتی پر مبنی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج پارلیمنٹ ہاؤس میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی، جس میں ہمارے اور اتحادی جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ آج پارلیمانی کمیٹی نے اہم فیصلے کیے، سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کو لگانا مناسب نہیں سمجھتے۔ایڈہاک ججز آزاد عدلیہ کے لیے مضر ہے، ہم معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیج رہے ہیں، ججز اس معاملے کو متنازع نہ بنائیں، آج فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ میں لگانے والے ایڈہاک ججز کو لگایا گیا وہ بدنیتی پر مبنی ہے۔

بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ 4 ججز کو ایک ساتھ دوران تعطیلات لایا جا رہا ہے، 3 سال کے لیے ان چار کو لانا بدنیتی پر مبنی ہے۔ سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا، الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کرے، مخصوص نشستوں کےفیصلے پر عمل کرانا سپریم کورٹ کا کام ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرانا چیف جسٹس کی ذمہ داری ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہر صورت اس فیصلے پر عمل درآمد ہو۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کے 70 فیصد عوام کی ترجمان جماعت ہے، پی ٹی آئی پر کوئی بھی پابندی حکومت کے خاتمے کی طرف کاؤنٹ ڈاؤن ہوگا، پی ٹی آئی محب وطن پارٹی تھی، ہے اور رہے گی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا کہ ہمارے اتحادی جماعت کے ساتھیوں نے علامتی مارچ کیا ہے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سمیت تمام افراد کو رہا کیا جائے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف جعلی کیسزکی مذمت کرتے ہیں۔ بشریٰ بی بی پر جعلی کیس کیا گیا جس سے انہیں بری کردیا گیا، نیب ٹیم نے جھوٹے کیسز میں پھر گرفتار کیا جس کی مذمت کرتے ہیں، ہم ان تمام بوگس کیسز کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ ایڈہاک ججز ہمارے کیسز نہ سنیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ عمران خان کے خلاف مضامین لکھتی رہی ہیں، انہوں نے اپنا مائنڈ دیا، چیف جسٹس کو عمران خان سے متعلق کوئی کیس نہیں سننا چاہیئے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ میں ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ چیف الیکشن کمشنر اور اس کے دیگر ممبران فوری مستعفی ہوں ورنہ ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروئی ہونی چاہیئے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے کہا کہ جب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، سپریم کورٹ فیصلے سے مینڈیٹ عوامی نمائندوں کی طرف جارہا ہے۔حکمران ٹولے کے پاس آپشن ختم ہوگئے ہیں، کہا جارہا ہے حکومت 18 ماہ کی مہمان ہے، پی ٹی آئی پر پابندی انتہائی بھونڈا اقدام ہوگا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قید کے دوران ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

عمران خان نے ستمبر 2023ء سے جولائی 2024ء تک کل 1635 افراد سے ملاقاتیں کیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قید کے دوران ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قید کے دوران ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں، عمران خان نے ستمبر 2023ء سے جولائی 2024ء تک کل 1635 افراد سے ملاقاتیں کیں۔

اڈیالہ جیل سے جاری اعداد و شمار کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے کمرہ ملاقات میں 454 ملاقاتیں ہوئیں، ملاقاتوں میں 88 وکلاء، 223 سیاسی دوست، 119 فیملی اور 14 اسپیشل ڈاکٹر شامل ہیں۔

جیل ذرائع کے مطابق اڈیالہ میں قائم عدالت میں بانی پی ٹی آئی سے 1181 ملاقاتیں ہوئیں جن میں وکلاء سے 591، فیملی سے 273 اور 317 میڈیا نمائندوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔

رپورٹس کے مطابق بانی چیئرمین نے اپنے بیٹوں سے واٹس ایپ پر 13 بار بات کی، ان ملاقاتوں کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
  
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

جیل ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی واٹس ایپ کے ذریعے بیٹوں سے 13 کالز کرائی گئیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ، سابق پرنسپل سیکریٹری کا بیان منظر عام پر آگیا

190 ملین پاؤنڈ سے متعلق معاملے کو کابینہ میں پیش کیا گیا تھا، اعظم خان

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ، سابق پرنسپل سیکریٹری کا بیان  منظر عام پر آگیا

190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کا ریکارڈ کروایا گیا بیان سامنے آگیا۔

اعظم خان نے اپنے بیان میں کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ سے متعلق معاملے کو کابینہ میں پیش کیا گیا تھا، شہزاد اکبر نے اپنا دستخط شدہ ایک نوٹ میرے پاس لے کر آئے تھے، نوٹ خفیہ معاہدے پر دستخط کا معاملہ کابینہ میں لانے کے لیے وزیرِ اعظم کی منظوری لینے کا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ شہزاد اکبر نے کہا بانی پی ٹی آئی عمران خان نے نوٹ کو کابینہ میں پیش کرنے کی اجازت دی ہے، وزیرَ اعظم سے اس کی تصدیق کے بعد فائل کابینہ سیکریٹری کو بھیج دی تھی۔

اعظم خان نے مزید کہا کہ کابینہ سیکرٹری سے جب معاملے پر بات ہوئی وہ میرے دفتر میں موجود تھے، میں اس معاملے کو کابینہ میں لانے کا حامی نہیں تھا، میں نے اس معاملے پر کابینہ میں شرکت نہیں کی تھی، میں وفاقی کابینہ میں ہونے والی اس معاملے پر بحث سے آگاہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اگست 2018 سے اپریل 2022 تک پرنسپل سیکرٹری کے طور پر تعینات رہا، معاہدے پر ہونے والے دستخط رازداری سے متعلق تھے، معاہدے پر ہونے والے دستخط کو میں نے پہنچان لیا تھا، معاہدے کے ساتھ ایک خفیہ تحریر موجود تھی، جسے سے متعلق بتایا نہیں گیا۔

اعظم خان نے 13 جولائی کو احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ کے روبرو بیان ریکارڈ کروایا تھا، اب تک 33 گواہان کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں جبکہ 20 جولائی کو وکلاء صفائی اعظم خان کے بیان پر جرح کریں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll