جی این این سوشل

دنیا

روس کے آرمی چیف اور سابق وزیر دفاع کی وارنٹ گرفتاری جاری

عالمی عدالت انصاف نے وارنٹ یوکرین پر حملوں کی پاداش میں جاری کئے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

روس کے آرمی چیف اور سابق وزیر دفاع کی وارنٹ گرفتاری جاری
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

عالمی عدالت انصاف نے روس کے آرمی چیف اور سابق وزیر دفاع کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے،وارنٹ یوکرین پر حملوں کی پاداش میں جاری کئے گئے،جو مبینہ جنگی جرائم کے مرتکب ہیں۔

آئی سی سی کے وارنٹ یوکرین جنگ کے حوالے سے عدالت کی کارروائیوں کے سلسلے میں تازہ ترین ہیں، جن میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کی گرفتاری کا وارنٹ بھی شامل ہے۔یہ وارنٹ پیر کو جاری کیے گئے لیکن منگل کو عام کیے گئے۔

آئی سی سی نے ایک بیان میں کہا کہ ان دونوں افراد پر شہریوں پر حملوں کی ہدایت دینے اور ضرورت سے زیادہ حادثاتی نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ یوکرین میں انسانیت کے خلاف جرم کے "غیر انسانی کارروائیوں" کا الزام ہے۔

آئی سی سی کے ججوں نے کہا کہ "اس بات پر یقین کرنے کے لیے شواہد موجود ہیں کہ یہ دونوں مشتبہ افراد روسی مسلح افواج کی طرف سے یوکرین کے انفراسٹرکچر کے خلاف 10 اکتوبر 2022 سے 9 مارچ 2023 تک کیے گئے میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔"

یوکرین نے اس اہم فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایوان صدر کے چیف آف اسٹاف اینڈری یرمک نے کہا کہ ہر ایک کو اپنے کئے کا جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔

واضح رہے کہ آئی سی سی کے پاس گرفتاری کے وارنٹ کو نافذ کرنے کے لیے اپنی پولیس فورس نہیں ہے۔ یہ اپنے 124 ممبران کے انصاف کے نظام پر انحصار کرتا ہے۔اصولی طور پر، وارنٹ کے تحت کسی کو بھی گرفتاری کے خوف سے آئی سی سی کے رکن ملک کا سفر کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔

پوٹن خود بیرون ملک سفر کر چکے ہیں، خاص طور پر کرغزستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، جو کہ آئی سی سی کے رکن ممالک نہیں ہیں۔

تاہم، انہوں نے جنوبی افریقہ میں برکس (برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ) کی میٹنگ کو نظر انداز کیا، جس سے وارنٹ پر عمل درآمد کی توقع کی جا سکتی تھی۔

پاکستان

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قید کے دوران ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

عمران خان نے ستمبر 2023ء سے جولائی 2024ء تک کل 1635 افراد سے ملاقاتیں کیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قید کے دوران ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قید کے دوران ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں، عمران خان نے ستمبر 2023ء سے جولائی 2024ء تک کل 1635 افراد سے ملاقاتیں کیں۔

اڈیالہ جیل سے جاری اعداد و شمار کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے کمرہ ملاقات میں 454 ملاقاتیں ہوئیں، ملاقاتوں میں 88 وکلاء، 223 سیاسی دوست، 119 فیملی اور 14 اسپیشل ڈاکٹر شامل ہیں۔

جیل ذرائع کے مطابق اڈیالہ میں قائم عدالت میں بانی پی ٹی آئی سے 1181 ملاقاتیں ہوئیں جن میں وکلاء سے 591، فیملی سے 273 اور 317 میڈیا نمائندوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔

رپورٹس کے مطابق بانی چیئرمین نے اپنے بیٹوں سے واٹس ایپ پر 13 بار بات کی، ان ملاقاتوں کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
  
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

جیل ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی واٹس ایپ کے ذریعے بیٹوں سے 13 کالز کرائی گئیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پی ٹی آئی کا ایڈہاک ججز کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان

تعطیلات کے دوران 4 اہڈہاک ججز کو 3 سال کے لیے سپریم کورٹ لانا بدنیتی پر مبنی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی کا ایڈہاک ججز کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ساتھ تعطیلات کے دوران 4 اہڈہاک ججز کو 3 سال کے لیے سپریم کورٹ لانا بدنیتی پر مبنی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج پارلیمنٹ ہاؤس میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی، جس میں ہمارے اور اتحادی جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ آج پارلیمانی کمیٹی نے اہم فیصلے کیے، سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کو لگانا مناسب نہیں سمجھتے۔ایڈہاک ججز آزاد عدلیہ کے لیے مضر ہے، ہم معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیج رہے ہیں، ججز اس معاملے کو متنازع نہ بنائیں، آج فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ میں لگانے والے ایڈہاک ججز کو لگایا گیا وہ بدنیتی پر مبنی ہے۔

بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ 4 ججز کو ایک ساتھ دوران تعطیلات لایا جا رہا ہے، 3 سال کے لیے ان چار کو لانا بدنیتی پر مبنی ہے۔ سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا، الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کرے، مخصوص نشستوں کےفیصلے پر عمل کرانا سپریم کورٹ کا کام ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرانا چیف جسٹس کی ذمہ داری ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہر صورت اس فیصلے پر عمل درآمد ہو۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کے 70 فیصد عوام کی ترجمان جماعت ہے، پی ٹی آئی پر کوئی بھی پابندی حکومت کے خاتمے کی طرف کاؤنٹ ڈاؤن ہوگا، پی ٹی آئی محب وطن پارٹی تھی، ہے اور رہے گی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا کہ ہمارے اتحادی جماعت کے ساتھیوں نے علامتی مارچ کیا ہے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سمیت تمام افراد کو رہا کیا جائے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف جعلی کیسزکی مذمت کرتے ہیں۔ بشریٰ بی بی پر جعلی کیس کیا گیا جس سے انہیں بری کردیا گیا، نیب ٹیم نے جھوٹے کیسز میں پھر گرفتار کیا جس کی مذمت کرتے ہیں، ہم ان تمام بوگس کیسز کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ ایڈہاک ججز ہمارے کیسز نہ سنیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ عمران خان کے خلاف مضامین لکھتی رہی ہیں، انہوں نے اپنا مائنڈ دیا، چیف جسٹس کو عمران خان سے متعلق کوئی کیس نہیں سننا چاہیئے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ میں ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ چیف الیکشن کمشنر اور اس کے دیگر ممبران فوری مستعفی ہوں ورنہ ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروئی ہونی چاہیئے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے کہا کہ جب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، سپریم کورٹ فیصلے سے مینڈیٹ عوامی نمائندوں کی طرف جارہا ہے۔حکمران ٹولے کے پاس آپشن ختم ہوگئے ہیں، کہا جارہا ہے حکومت 18 ماہ کی مہمان ہے، پی ٹی آئی پر پابندی انتہائی بھونڈا اقدام ہوگا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

توشہ خانہ ریفرنس، عمران خان اور بشریٰ بی بی سے تفتیش کا چوتھا مرحلہ مکمل

نیب کی ٹیم نے عمران خان اور بشریٰ بی بی سے چوتھی بار تفتیش کی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

توشہ خانہ ریفرنس،  عمران خان اور  بشریٰ بی بی سے تفتیش کا چوتھا مرحلہ مکمل

توشہ خانہ ریفرنس،قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے تفتیش کا چوتھا مرحلہ مکمل کرلیا، ٹیم نے ملزمان سے توشہ خانہ تحائف کے حوالے سے تفتیش کی۔

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ نئے ریفرنس کی تفتیش کے لیے نیب ٹیم ڈپٹی ڈائریکٹر محسن ہارون کی سربراہی میں اڈیالہ جیل پہنچی، تفتیشی ٹیم میں ڈپٹی ڈائریکٹر مستنصر عباس بھی شامل تھے۔

نیب کی تفتیشی ٹیم گیٹ 5 سے اڈیالہ جیل کے اندر داخل ہوئی اور عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے چوتھی مرتبہ تفتیش کی، جس کے بعد نیب ٹیم اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہوگئی۔

ٹیم نے ملزمان سے توشہ خانہ تحائف کے حوالے سے تفتیش کی، تفتیش میں ملزموں سے تحفے میں ملنے والے جیولری سیٹ سے متعلق چند سوالات کیے گئے۔قومی احتساب بیورو (نیب) کی تفتیشی ٹیم نے عمران خان اور بشریٰ بی بی سے تقریباً ایک گھنٹہ تک تفتیش کی۔

واضح رہے کہ نیب نے ملزمان کا احتساب عدالت سے 8روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر رکھا ہے ۔ ملزمان کو 22جولائی کو دورباہ تفتیشی پیش رفت رپورٹ کے ساتھ دوبارہ عدالت پیش کیا جائے گا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll