Advertisement
پاکستان

کار سرکار میں مداخلت پرحلیم عادل شیخ اور 70 ساتھیوں کیخلاف مقدمہ درج

کراچی : سندھ حکومت کی جانب سے سپرہائی وے پرفارم ہاؤسز کے خلاف کارروائی کے دوران سرکاری عملے کو تشدد کا نشانہ بنانےپر حلیم عادل شیخ اور ان کے 70 ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 6 years ago پر Feb 8th 2021, 2:03 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

جی این این کے مطابق گزشتہ روز کراچی میں بقائی یونیورسٹی روڈ سپرہائی وے پر انسداد تجاوزت سیل نے دھاوا بولا اور آپریشن کرتے ہوئے متعدد فارم ہاوسز مسمار کر دیئے۔ پی ٹی آئی رہنما موقع پر پہنچے تو علاقہ مکینوں اور کارکنان کی جانب سے بھرپوراحتجاج کیا گیا، میشنری پر پتھراو کیا، عملے کو زدوکوب بھی کیا گیا۔

حلیم عادل شیخ نے دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت نے سیاسی انتقام میں قانونی فارم ہاوسز گرائے۔ جواب پیپلزپارٹی سے بھی فورا آیا، مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کی گئی جسے پی ٹی آئی اپوزیشن لیڈر کےخلاف کارروائی کارنگ دے رہی ہے، سعید غنی نے بھی انکی تائیدکی۔کارروائی کے خلاف متاثرین نے سپرہائی وے کے دونوں ٹریک دوگھنٹوں کے لیے بلاک کر دیئے۔ پولیس سےکامیاب مذکرات کے بعد احتجاج ختم کیا گیا۔

بعدازاں تھانہ میمن گوٹھ میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ سمیت 70 افراد کے خلاف واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ۔ مقدمہ میں کار سرکارمیں مداخلت، جان سے مارنے کی دھمکیاں سمیت دیگر دفعات درج گئیں ، جبکہ اقدام قتل،نقص امن، مالی نقصان پہنچانے، سرکاری ملازمین پر حملے کی دفعات بھی مقدمے میںشامل ہیں۔ 

دوسری جانب مسمارکیے گئے فارم ہاؤسزکے سکیورٹی گارڈ اورمنیجرکی جانب سے دو مقدمات کیدرخواستیں گڈاپ اورمیمن گوٹھ تھانے میں جمع کرا دی گئیں ۔۔ جس میں وزیراعلی سندھ اورڈائریکٹراینٹی انکروچمینٹطارق دھاریجو ۔ ضلعی انتظامیہ کے عملے اور50 سے زائدپولیس اہلکاروں کو نامزد کیاگیا ہے ۔  

 

 

Advertisement