Advertisement
علاقائی

کے پی حکومت نے کفایت شعاری پالیسی ، نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد

نئی آسامیوں کی تخلیق پر بھی پابندی رہے گی تاہم ترقیاتی منصوبوں کے لیے وزیراعلیٰ کی اجازت سے آسامیاں قائم ہوپائیں گی

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Jul 4th 2024, 3:45 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
کے پی حکومت نے کفایت شعاری پالیسی ، نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد

خیبر پختونخوا حکومت نے قومی خزانے سے نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد کر دی۔

صوبائی حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری خرچ پر ورکشاپس، سیمینار اور بیرون ملک علاج سمیت نئی گاڑیوں کی خریداری نہیں ہو گی۔یہ فیصلے کفایت شعاری پالیسی کے رہنما اصول کے تحت کئے گئے ہیں۔

محکمہ خزانہ نے مالیاتی نظم و ضبط سے متعلق تمام محکموں اور اداروں کو مراسلہ ارسال کردیا ہے اور مالیاتی نظم وضبط کے لیے وضع کردہ رہمنا اصولوں کی منظوری صوبائی کابینہ نے دی ہے۔

محکمہ خزانہ کے پی سے جاری اعلامیے کے مطابق صوبائی حکومت نے مالی سال 25-2024 کے لیے اپنی کفایت شعاری پالیسی جاری کر دی ہے، جس کے تحت نئی آسامیوں کی تخلیق پر بھی پابندی رہے گی تاہم ترقیاتی منصوبوں کے لیے وزیراعلیٰ کی اجازت سے آسامیاں قائم ہوپائیں گی۔

اعلامیے کے مطابق ایمبولینسز، فائربریگیڈ، ٹریکٹرز، ٹرک، بسوں، مسافر گاڑیوں، قیدیوں کی گاڑیوں اور ریسکیو کے لیے درکار گاڑیوں کے علاوہ دیگر گاڑیوں کی خریداری پر بھی پابندی ہوگی۔

کفایت شعاری پالیسی کے تحت حکومت نے صوبائی اخراجات پر بیرون ملک علاج کرانے پر پابندی عائد کردی ہے اور بغیر کسی مناسب وجہ کے کنٹریکٹ ملازمین کے کنٹریکٹ میں توسیع نہیں دی جائے گی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام محکمے اپنے بجٹ کے اندر رہتے ہوئے اخراجات کریں گے اور کوئی ضمنی یا اضافی گرانٹ نہیں مانگیں گے اور صوبائی آمدن میں اضافے کے لیے صوبائی ریونیو ریویو کمیٹی کا اجلاس باقاعدگی کے ساتھ صوبائی وزیرخزانہ کی زیر صدارت منعقد کیاجائے گا۔

حکومت نے آگاہ کیا کہ محکمہ خزانہ کی منظوری سے ہی جاری سال کے دوران عارضی ملازمین کی بھرتی ہوپائے گی لیکن رخصت پر گئے ملازمین کی آسامیوں پر کوئی بھرتی نہیں ہوگی۔

محکمہ خزانہ نے بتایا کہ خالی آسامیوں پر سرپلس پول کی این او سی کے بغیر کوئی بھرتی نہیں ہوگی اور محکمہ خزانہ کی پیشگی کلیئرنس کے بغیر کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ زیر غور نہیں لایاجائے گا۔

صوبائی حکومت نے ہدایت کی ہے کہ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اگلے تین برسوں کے لیے ضلعی اور سیکٹورل پلان ترتیب دے گا۔

Advertisement