درآمدات اور برآمدات میں بڑھتا ہوا فرق کامرس اینڈ ٹریڈ کے زیر تربیت افسران کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ٹریڈ اینڈڈویلپمنٹ اسلام آباد کے ڈائریکٹرقذافی رند نے کہا کہ کامرس اینڈ ٹریڈ کے زیر تربیت آفسران کی کامن ٹریننگ پروگرام کے بعد مختلف شعبوں کیلئے سپشلائزڈ ٹریننگ پروگرام بھی منعقد کئے جاتے ہیں


درآمدات اور برآمدات میں بڑھتا ہوا فرق کامرس اینڈ ٹریڈ کے زیر تربیت آفسران کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔
فیصل آباد:درآمدات اور برآمدات میں بڑھتا ہوا فرق کامرس اینڈ ٹریڈ کے زیر تربیت آفسران کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے جس پر قابو پانے کیلئے انہیں ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کے سٹیک ہولڈر زسے قریبی رابطوں اور مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ یہ بات میاں فرخ اقبال چیئرمین پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن(نارتھ زون) نے زیر تربیت کامر س اینڈ ٹریڈ آفسروں کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے ایسوسی ایشن کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن گارمنٹس بنانے والے یونٹس کی ملکی سطح پر واحد نمائندہ تنظیم ہے۔ ہمارے چارآفسز ہیں ہیڈ آفس کراچی کے علاوہ ریجنل آفس لاہور، فیصل آباد اور سیالکوٹ میں واقع ہے۔2000سے زائد ممبران پر مشتمل ہوزری سیکٹر تقریبا پانچ لاکھ خاندانوں کو روزگار مہیا کرتا ہے سب سے زیادہ نوکریاں مہیا کرنے والا ادارہ ہونے کا اعزاز بھی رکھتا ہے۔ پی ایچ ایم اے کے ممبران گارمنٹس کی برآمدات سے تقریبا 4.4 بلین ڈالر کا زر مبادلہ کماتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل میں کمی کی بنیادی وجہ سٹیک ہولڈرز اور پالیسی میکرز کے درمیان رابطے کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں بیرونی قرضوں پر انحصار کم کر کے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کو بڑھانا چاہئے تاکہ ملک کیلئے قیمتی زر مبادلہ کمایا جاسکے کیونکہ جو ممالک معاشی طور پر مضبوط ہوتے ہیں وہ نہ صرف اندرونی طور پر خوشحال بلکہ بین الاقوامی برادری میں بھی انہیں عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ٹریڈ اینڈڈویلپمنٹ اسلام آباد کے ڈائریکٹرقذافی رند نے کہا کہ کامرس اینڈ ٹریڈ کے زیر تربیت آفسران کی کامن ٹریننگ پروگرام کے بعد مختلف شعبوں کیلئے سپشلائزڈ ٹریننگ پروگرام بھی منعقد کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان زیرتربیت افسران کے یہاں دوروں کا مقصد اصل سٹیک ہولڈرز سے قریبی رابطوں کو بڑھانا ہے تاکہ وہ اپنی پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں زمینی حقائق کو سمجھتے ہوئے قابل عمل اور بزنس فرینڈلی فیصلے کر سکیں۔
محمد امجد خواجہ سابق چیئرمین پی ایم ایچ اے نے کہا کہ اس وقت ٹیکسٹائل انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہے کیونکہ بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے کے ساتھ ساتھ حکومت نے بجٹ میں مزید ٹیکسز کا بوجھ بھی ڈال دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے کچھ نمائندے بزنس کمیونٹی کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھتے حالانکہ ہماراسیکٹر قیمتی ذرمبادلہ کمانے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگاربھی مہیا کررہا ہے۔
نوشہرہ میں فائرنگ سے اسسٹنٹ کمشنرمانسہرہ زخمی
- 5 دن قبل

پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے انٹربینک کنسورشیم کی صدارت سنبھال لی
- 3 دن قبل

سرگودھا ریجن پولیس کے 8 شہداء کے ورثاء میں پلاٹوں کے کاغذات تقسیم
- 6 دن قبل

وزیراعظم کی ہدایت پر پیٹرول کی مد میں 15 روپے فی لیٹر کا بوجھ ریفائنریز پرمنتقل کر دیاگیا: وزیر پیٹرولیم
- 3 دن قبل

پاکستان، سنگاپور کا مختلف شعبوں میں تعاون مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار
- 6 دن قبل
ٹرائی نیشن سیریز:آئی سی سی نے پاکستان پر فائنل میں سلو اوور ریٹ پر جرمانہ عائد کر دیا
- 3 دن قبل

پاکستان سعودی عرب اور حرمین شریفین کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
- 5 دن قبل

پاکستانی نژاد امریکی اداکار فاران طاہر کی اٹھارہ سال بعد ہالی وڈ واپسی
- 5 دن قبل

اداکار معمر رانا کی بیوی نے لاہور کی فیملی عدالت سے خلع لے لیا
- 5 دن قبل
قلعہ عبداللّٰہ: نامعلوم افراد کی فائرنگ، 3 افراد ہلاک
- 3 دن قبل

ملک میں سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی
- 5 دن قبل
علی ظفر کی اداکاری میں واپسی، ویب سیریز ’گینگ آف خراسان‘ کی پہلی جھلک جاری
- 3 دن قبل





