جی این این سوشل

دنیا

جوبائیڈن کیلئے مزید مشکلات، پارٹی رہنمائوں کا حمایت ختم ہونے کا خدشہ

کسی بھی وقت پوری جماعت کی طرف سے جو بائیڈن کی حمایت ختم ہوسکتی ہے، نینسی پیلوسی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

جوبائیڈن کیلئے مزید مشکلات، پارٹی رہنمائوں کا حمایت ختم ہونے کا خدشہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

امریکی ایوان نمائندگان کی سابق سپیکر نینسی پیلوسی نے ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدر جو بائیڈن کو صدارتی دوڑ میں رہنے کے لیے مکمل حمایت ختم ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی وقت پوری جماعت کی طرف سے جو بائیڈن کی حمایت ختم ہوسکتی ہے۔

پیلوسی ڈیموکریٹک پارٹی کی نمایاں رہنماؤں میں سے ایک ہیں ، انہوں نے کہا کہ فیصلہ ان پر منحصر ہے اور وقت ختم ہو رہا ہے۔

انہوں نے بائیڈن کو تجویر دی کے بائیڈن صدارتی دوڑ میں شامل رہنے کے عزم سے متعلق اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

پیلوسی نے کہا کہ یہ صدر پر منحصر ہے کہ وہ انتخاب لڑیں گے یا نہیں۔ ہم سب ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ یہ فیصلہ کریں کیونکہ وقت ختم ہو رہا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ خود ہی فیصلہ کریں۔ وہ جو بھی فیصلہ کریں گے ہم ان کے ساتھ چلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بائیڈن کے سیاسی مستقبل پر بحث نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد دوبارہ شروع ہونی چاہیے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے کہا کہ بڑے عطیہ دہندگان کو بائیڈن کی صدارت سنبھالنے کی صلاحیتوں کے بارے میں شدید تحفظات ہیں۔

وائٹ ہاؤس گذشتہ ماہ ہونے والی صدارتی بحث میں بائیڈن کی ناقص کارکردگی کے اثرات کے بعد مشکل سے دوچار ہے۔ خراب کارکردگی نے جوبائیڈن کے سیاسی مستقبل، دوبارہ الیکشن جیتنے اور ملک کی صدارت سنبھالنے کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

پاکستان

چیف جسٹس قاضی فائز ہمارے مقدمات نہ سنیں، عمران خان نے ججز کمیٹی میں درخواست دائر کر دی

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بنچ میں موجودگی سے آئین و قانون کے مطابق انصاف ملنے کی امید نہیں، درخواست

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چیف جسٹس قاضی فائز ہمارے مقدمات نہ سنیں، عمران خان نے  ججز کمیٹی میں درخواست دائر کر دی

بانی چیئرمین اور تحریک انصاف کے سپریم کورٹ میں مقدمات کے معاملے میں عمران خان نے چیف جسٹس کے خلاف سپریم کورٹ کمیٹی میں درخواست دائر کردی۔

عمران خان نے درخواست میں موقف اپنایا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرا، تحریک انصاف، سنی اتحاد کونسل یا پی ٹی آئی اراکین کا مقدمہ نہ سنیں۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ 2019 میں قانونی ماہرین کے مشورے پر قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس بھیجنے کی سفارش کی، میری آئینی ذمہ داری کو معزز چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ذاتی حملہ تصور کیا، غلط تاثر کی بنیاد پر سرینا عیسیٰ نے میرے خلاف عوام میں زہر اگلا۔

دائر درخواست میں کہا گیا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی اہلیہ کے اقدامات سے اتفاق کیا، درخواست گزار سمجھتا تھا کہ چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد قاضی فائز عیسیٰ ماضی کو بھلا دیں گے تاہم چیف جسٹس کے کنڈکٹ سے بالکل واضح ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

درخواست میں مزید موقف اپنایا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بنچ میں موجودگی سے آئین و قانون کے مطابق انصاف ملنے کی امید نہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹراکورٹ اپیل سے متعلق تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا جبکہ سابق وزیراعظم نے تحریری جواب میں اپیلیں خارج کرنے سمیت چیف جسٹس پاکستان پر اعتراض اٹھاتے ہوے کیس سے الگ ہونے کی بھی استدعا کی۔

علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان رؤف حسن نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کئی دفعہ چیف جسٹس کو بولا کہ وہ ہمارے کیسز سے خود کو الگ کر دیں، ہمیں یقین ہے نہ عامر فاروق سے اور نہ قاضی فائز عیسیٰ سے انصاف ملے گا، دونوں کا رویہ بھی ایک جیسا ہے۔

رؤف حسن کا کہنا تھا کہ عمران خان نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو پہلی دفعہ تحریری طور پر لکھا ہے، بانی چیئرمین کے خط میں جسٹس گلزار کے فیصلے کا ریفرنس بھی دیا ہے، چیف جسٹس پرعدم اعتماد کی بہت ساری وجوہات ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ پرعدم اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے انصاف نہ ملنے پر جیل میں بھوک ہڑتال کرنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

پنجاب حکومت نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی

پابندی کا اطلاق جمعے 26 جولائی سے اتوار 28 جولائی تک ہوگا، محکمہ داخلہ پنجاب

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پنجاب حکومت نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی

پنجاب حکومت نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں 3 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جس کے تحت صوبے میں جلسہ جلوس، ریلیوں، دھرنوں اور احتجاج پر پابندی ہو گی۔

ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ پابندی کا اطلاق جمعے 26 جولائی سے اتوار 28 جولائی تک ہوگا، امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کیلئے دفعہ 144 نافذ کی گئی۔

پابندی کا اطلاق دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

واضح رہے ک پاکستان تحریک انصاف نے 26 جولائی بروز جمعہ کو ملک بھر میں پر امن احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

علی امین گنڈاپور کی زیرصدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس ، دہشتگردوں کیخلاف بلاتفریق کارروائی کا فیصلہ

عسکری اداروں نے واضح کیا کہ صوبے میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا، دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی پولیس اور سی ٹی ڈی کرے گی، اعلامیہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

علی امین گنڈاپور کی زیرصدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس ، دہشتگردوں کیخلاف بلاتفریق کارروائی کا فیصلہ

 وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیرصدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس اختتام پذیر ہو گیا، جس میں شرکا نے بنوں امن جرگہ کے بیشتر مطالبات سے اتفاق کیا۔

ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور کی صدارت میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کے علاوہ بنوں جرگہ کے ارکان شریک ہوئے، ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔

ایپکس کمیٹی اجلاس کے شرکا نے بنوں امن جرگہ کے بیشتر مطالبات سے اتفاق کیا ہے، بعد ازاں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت منعقدہ ایپکس کمیٹی کے مشترکہ اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق دہشت گرد ہر صورت قابل مذمت ہیں، ان کے خلاف کارروائی ہوگی، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ اگر کوئی بھی مسلح غیرسرکاری شخص ملوث ہو تو اسے گرفتار کرکے کارروائی کی جائے۔

اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق پولیس مسلح گروہ کے دفاتر کے خلاف بلاتفریق کارروائی کرے گی، عسکری اداروں نے واضح کیا کہ صوبے میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا، دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی پولیس اور سی ٹی ڈی کرے گی۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ بارڈر کے قریب ایسے علاقوں میں جہاں پولیس کارروائی نہ کرسکے وہاں فوج کی مدد لی جائے گی، پولیس کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ ہر وقت گشت کو یقینی بنایا جائے۔

اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق موجودہ نفری اور گاڑیوں سے تمام صوبہ بشمول جنوبی اضلاع کو ترجیحی بنیادوں پر اضافی مدد فراہم کی جائے، نئی آسامیوں کی تخلیق میں جنوبی اضلاع کو ترجیح دی جائے، مشکوک علاقوں اور مدارس پر سی ٹی ڈی کارروائی کرے گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll