حکومت نے مقامی صنعتوں کو اپنی پیدا کردہ بجلی کی پیشکش کرتے ہوئے ،پانچ ہائیڈرو پاور پلانٹس سے قریبی صنعتی زونز کو سستی بجلی فراہم کرنے کا ماڈل بھی متعارف کرا دیا


خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں معاشی اقدامات کوفروغ دینے کے لیے مقامی صنعتوں کوبجلی دینے کی پیشکش کردی،
پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن(پیڈو) نے صنعتوں کاروں سے تجاویزبھی طلب کرلی ہے۔ حکام کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے مقامی صنعتوں کو اپنی پیدا کردہ بجلی کی پیشکش کرتے ہوئے ،پانچ ہائیڈرو پاور پلانٹس سے قریبی صنعتی زونز کو سستی بجلی فراہم کرنے کا ماڈل بھی متعارف کرا دیا ہے۔ مچئی، شیشی، جبوڑی، کروڑہ اور رنولیا کی 43.5 میگاواٹ بجلی سے مقامی صنعت کوبہت زیادہ فائدہ ہوگا۔
اس سے قبل بھی خیبرپختونخوا حکومت نے وہیلنگ پراجیکٹ کے ذریعے پہلے سے ہی 18 میگاواٹ بجلی دی ہے،مقامی صنعتوں کومذید 43 میگاواٹ بجلی دینے سے معاشی ہداف حاصل کرنے میں آسانی ہوگی لہذا صوبائی حکومت کا فیصلہ ہے کہ صوبے میں معیشت کومستحکم کرنے کے لیے مقامی صنعتوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ضروری ہے، اب 43 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ کودینے کی بجائے مقامی سطح پر تقسیم ہوگی۔جس کے مثبت نتائج بہت جلد سامنے آئینگے۔
صنعت کار عاطف شہزاد نے جی این این کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے اس فیصلے کوخوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 43 میگاواٹ بجلی نیشنل گریڈمیں دینے کے بجائے صنعت کاروں میں تقسیم کرناخوش آئنداقدام ہے،حکومت کوزبانی جمع خرچ کی بجائے عمل قدامات کرنے چائیے،اس اقدام سے نہ صرف مقامی صنعتوں کو فائدہ ہو گا ،بلکہ انڈسٹریل کا پہیہ بھی چلے گااورروزگار کے مواقع بھی پیداہونگے۔
صنعت کاروں کے مطابق اس وقت ہماری صنعتیں انتہائی برے حالات میں ہیں،کارخانوں کی زبوں حالی کی بنیادی وجہ بجلی کی ہائی کاسٹ ہے،جب آپکی کاسٹ زیادہ ہو،تو پھر اس کے لیے نہ صرف انڈسٹریل چلانا ناممکن ہوتا ہے بلکہ اس کے اثرات معاشرے پر پڑتے ہیں اور اس سے بے روزگاری اوربداعتمادی میں اضافہ ہوجاتاہے،لہذا حکومت کوچاہیے کہ ہماری صنعتوں کو پروموٹ کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔
یہ وہ صوبہ ہے جس میں افغانستان بارڈرکی وجہ سے اکثراوقات بدامنی کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے ہیں، صنعتوں کو کم قیمت پر بجلی دینے سے صنعت کارآسانی کیساتھ اپنا کام کرینگےاوراس سے صنعت کاپہیہ چلے گا ،جس سے عوام میں خوشحالی آئے گی۔
صنعت کاروں کاحکومت سے شکوہ ہے کہ اس وقت ہر صنعت کے لیے لگائے گئے بجلی کے ٹرانسفارمر پر وفاقی حکومت نے بجلی کے علاوہ فکسڈچارج بھی عائد کر دئیے ہیں، کارخانہ مکمل بند ہونے کی صورت میں بھی فکسڈچارجزدینے پڑرہے ہیں۔ جو صنعتیں بند ہیں ان کو بھی پیسکو والے بھار ی برکم بل بھجواارہے ہیں جو زیادتی ہے۔
صوبائی حکومت کو چاہیے کہ سب سے پہلے ہمیں سستے ریٹ پربجلی دیکر بعد میں دوسرے صوبوں میں تقسیم کی جائے،وفاقی حکومت کی مہنگی بجلی نے ہمارا جینا محال کیا ہوا ہے ،صنعتوں کواپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے سستی بجلی کی فراہمی بہت جلد ضروری ہے ،صوبائی حکومت اس کے ساتھ ساتھ صوبے میں امن و امان پر قابو پانے کے لیے بھی اقدامات اٹھائے،تاکہ صنعت کاربغیر خوف کے اپناکام جاری رکھ سکے۔
رپورٹ: (سیف شیرانی رپورٹر جی این این)

شادی سے انکار یا بلیک میلنگ؟ نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے بعد فائرنگ
- 4 hours ago
بالی وڈ اسٹارمادھوری ڈکشت 24 سال بعد ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہوں گی
- a day ago
گوگل جیمنائی کے صارفین کی تعداد کتنی ہو گئی؟
- a day ago
امریکی فوجی ہیلی کاپٹر تباہ
- 7 hours ago
وزیراعظم کی کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے 3 سالہ آڈٹ کرانے کی ہدایت
- 2 days ago

نادرانے مشین متعارف کر وا دی، عوام کو کیا فائدہ ہو گیا؟
- a day ago

انمول پنکی کو بڑا ریلیف، 3 مقدمات میں بری
- 4 hours ago

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا اجرا کر دیا
- a day ago

قوم کل یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- 4 hours ago
ناروے کے وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال
- 5 hours ago
ایک اور لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- a day ago

ملک میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی
- 6 hours ago





.jpeg&w=3840&q=75)


