Advertisement
پاکستان

سال 2025میں ساڑھے تین لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ گئے

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک چھوڑنے والوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، ماہرین، تکنیکی افراد اور خاص طور پر ڈاکٹرز و نرسز شامل ہیں

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Aug 5th 2025, 8:48 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سال 2025میں ساڑھے تین لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ گئے

ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، معاشی عدم استحکام اور کم تنخواہوں کے باعث رواں سال 2025 کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران تقریباً تین لاکھ 36 ہزار سے زائد پاکستانی شہری بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑ چکے ہیں۔

بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق، سال 2024 کے دوران مجموعی طور پر 7 لاکھ 27 ہزار 381 افراد نے ملک سے باہر ملازمت کے لیے رجوع کیا۔ 2025 کے صرف ابتدائی چھ ماہ میں ہی ساڑھے تین لاکھ سے زائد افراد کی بیرونِ ملک روانگی ایک سنگین رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک چھوڑنے والوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، ماہرین، تکنیکی افراد اور خاص طور پر ڈاکٹرز و نرسز شامل ہیں، جن کی بیرونِ ملک منتقلی سے پاکستان کے نظامِ صحت پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

عرب میڈیا ادارے ’گلف نیوز‘ کے مطابق، گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان سے نرسز کی ایک بڑی تعداد ملازمتوں کی تلاش میں خلیجی ممالک، برطانیہ اور کینیڈا منتقل ہو چکی ہے۔ ان نرسز کو بہتر تنخواہیں، محفوظ ماحول اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

2024 میں بیرونِ ملک جانے والی اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت میں نرسز کا تناسب 5.8 فیصد رہا۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان کو اپنی 24 کروڑ سے زائد آبادی کے لیے کم از کم 7 لاکھ نرسز درکار ہیں، لیکن 2020 تک صرف 1 لاکھ 17 ہزار نرسز رجسٹرڈ تھیں، جو نرسنگ کے شعبے میں شدید کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں نرسز اور دیگر ماہرین نجی ذرائع سے ملک چھوڑتے ہیں، جس کے باعث ان کا مکمل ڈیٹا حکومتی ریکارڈ میں شامل نہیں ہو پاتا۔

ماہرین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر "برین ڈرین" کا یہ سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف ہیلتھ کیئر سسٹم بلکہ دیگر شعبے بھی سنگین بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔

Advertisement