پی ٹی آئی کا لاہور میں جلسہ ، کارکنان کی آمد شروع، علی امین گنڈا پور کا قافلہ چکری پہنچ گیا
ڈپٹی کمشنر لاہور نے جلسے کی اجازت کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں کئی شرائط عائد کی گئی ہیں


لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آج لاہور میں سیاسی پاور شو کا مظاہرہ کرے گی اس حوالے سے جلسے کیلئے میدان سجا دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو لاہور میں کاہنہ مویشی منڈی میں جلسے کی مشروط اجازت دی ہے۔
کرسیاں، قناتیں اور سٹیج کا سامان جلسہ گاہ میں لگنا شروع ہو گیا، مرکزی سٹیج کیلئے کنٹینر بھی جلسہ گاہ پہنچا دیا گیا۔
مقامی کارکنان نے بھی جلسہ گاہ کا رخ کر لیا، کارکنان پارٹی بینرز اور پوسٹرز اٹھائے جلسہ گاہ میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں جبکہ جلسے میں شرکت کے لیے ملک کے مختلف شہروں سے بھی قافلے رواں دواں ہیں جبکہ خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی کا مرکزی قافلہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں لاہور پہنچے گا۔
پی ٹی آئی کے جلسے کے پیش نظر اسلام آباد لاہور موٹروے کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، لاہور موٹروے ٹول پلازہ پر گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ گئیں، یوٹرن نہ ہونے کے باعث راوی روڈ سے گاڑیاں واپس موڑی جا رہی ہیں، خیبرپختونخوا سے آنے والے قافلوں کے لیے لاہور کے راستے مکمل طور پر بند ہیں۔
ادھر ذرائع کے مطابق جہلم میں جی ٹی روڈ پر ٹول پلازہ کے قریب پولیس تعینات کر دی گئی، پی ٹی آئی کارکنان کی متوقع گرفتاری کےلیے پولیس تعینات کی گئی ہے۔
دوسری جانب جلسے میں شرکت کے لیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں پی ٹی آئی کا قافلہ صوابی سے روانہ ہوگیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور کا قافلہ چکری پہنچ چکا ہے۔
اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر مرکزی کنٹینر پر پہنچ گئے، تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی اعجاز شفیع، رانا شہباز بھی کنٹینر پر پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پوری رات کنٹینر لگائے رکھے، ہمارا کنٹینر نہیں آنے دیا گیا، اب بھی راستے بند ہیں ، ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد میں جلسہ گاہ پہنچا ہوں۔
خیال رہے کہ ڈپٹی کمشنر لاہور نے جلسے کی اجازت کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں کئی شرائط عائد کی گئی ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پی ٹی آئی کے منتظمین کو سٹیج، خواتین اور مردوں کے انکلوژر کی سکیورٹی یقینی بنانی ہوگی اور بھگدڑ روکنے اور مناسب پارکنگ کا انتظام پرائیویٹ سکیورٹی اور رضاکاروں کے ذریعے یقینی بنانا ہوگا۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جلسے کے دوران ریاست یا اداروں کے خلاف نعرے اور بیان نہیں دیے جائیں گے۔ اشتہاری مجرموں کو جلسے میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی اور کسی کو زبردستی اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ جلسے میں کوئی افغان پرچم نہیں لہرایا جا سکتا اور کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت یا کسی ملک سے تعلق رکھنے والے فرد کا پتلا یا جھنڈا جلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
شرائط میں شامل ہے کہ اسلحے کی نمائش سختی سے منع ہوگی اور آتش بازی کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔ منتظمین ایس پی ماڈل ٹاؤن اور ایس پی سکیورٹی لاہور سے تعاون کریں گے، ٹریفک پولیس جلسے کے لیے تفصیلی ٹریفک پلان اور ایڈوائزری جاری کرےگی۔
ضلعی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے منتظمین کو خبردار کیا ہے کہ جلسے کی سکیورٹی کا انتظام ان کی ذمہ داری ہوگی اور کسی بھی ناگہانی واقعے کی صورت میں وہ ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے۔
بڑی خوشخبری: اہم عرب ملک کی نئی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان
- 4 دن قبل
عبداللہ طاہر قتل کیس: مرکزی مبینہ شوٹر کی شناخت، 6 سہولت کار گرفتار
- 15 گھنٹے قبل
پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر
- 4 دن قبل
خاتون فٹبالر سمندر میں اچانک ڈوب گئ، کہاں پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی؟
- 14 گھنٹے قبل
پولیس کا جنون، لڑکی نے خودکشی کیوں کی؟
- 15 گھنٹے قبل
آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ میں معلوماتی و تربیتی سیشنز
- 15 گھنٹے قبل
طلبہ کی موجیں: 4 اگست کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے
- 4 دن قبل
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق
- 3 دن قبل

لاہور: غازی آباد تھانے میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی، 78 اہلکار معطل
- 9 گھنٹے قبل
پاکستانی عمرہ زائرین کے لیے نئی لگنے والی شرط کیا ہے؟
- 15 گھنٹے قبل
پاکستان علماء کونسل کا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان
- 3 دن قبل

سینئرجج جبری ریٹائر، وجہ سامنے آگئی
- 3 دن قبل


