Advertisement
پاکستان

پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

صدارتی آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے، کالعدم قرار دیا جائے، درخواست

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Sep 21st 2024, 5:28 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

وزیراعظم، وفاقی کابینہ کی منظوری اور صدر مملکت کی جانب سے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجرآرڈیننس پر دستخط ہونے کے ساتھ ہی صدارتی آرڈیننس لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج ہوگیا۔

صدارتی آرڈیننس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔ درخواست اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی۔

درخواست گزار نے کہا کہ صدارتی آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے، آرڈیننس سےمتعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے، صدارتی آرڈیننس کو کلعدم قرار دے۔صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات کو کم یا زیادہ نہیں کیا جاسکتا، عدالت پٹیشن کے حتمی فیصلہ تک صدارتی آرڈیننس پر عمل درآمد روکنے کا حکم جاری کرے۔

واضح رہے کہ  وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں مقدمات کو سماعت کے لیے مقرر کرنے اور بینچز کی تشکیل کے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کر دی ہے۔

گزشتہ روز صدر مملکت نے ترمیمی آرڈیننس پر دستخط کیے جس کے تحت جسٹس آف پاکستان کے اختیارات میں اضافہ ہوگیا اور ساتھ ہی اس پرعمل بھی شروع ہوگیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ کے بینچ بنانے کے لیے قائم تین رکنی کمیٹی میں جسٹس منیر اختر کی جگہ جسٹس امین الدین کو شامل کرلیا تھا۔

Advertisement