ہندوستان کے اندرونی معاملات حکومتی دعوؤں کے بالکل برعکس ہیں


ہندوستان کے تلخ حقائق آشکار ہوگئے، ہندوستانی وزیر دفاع کا متضاد بیان بے نقاب ہوگیا، اندرونی معاملات حکومتی دعوؤں کے بالکل برعکس ہیں۔
نام نہاد معاشی طاقت کے اندرونی تلخ حقائق بہت کچھ آشکار کر رہے ہیں،2024 میں ہندوستان کی آبادی 1.45 بلین تک پہنچ گئی ہے، ہندوستان کے تقریبا 83 ملین لوگ اب بھی غربت کے لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور یومیہ 2.15 ڈالر سے کم پر زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
بھارت میں 163 ملین لوگ صحت، تعلیم اور زندگی کے بنیادی حقوق سے محروم ہیں، 1.8 ملین ہندوستانی بے گھر رہے ہیں، تقریباً 100 ملین کچی آبادیوں میں رہتے ہیں۔آبادی کا 15 فیصد یعنی تقریباً 210 ملین لوگ اب بھی صفائی کی بنیادی سہولیات اور بیت الخلا سے محروم ہیں، فروری 2020 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت کے دوران، کچی آبادیوں کو چھپا دیا گیا تھا۔
2024 میں یومیہ 80 سے بڑھ کر ریپ کی تعداد 86 یومیہ ہو گئی، ہندوستان خواتین کے لیے خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ نیشنل ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن (این اے سی او) کی رپورٹ کے مطابق، بھارت میں 8 لاکھ سے زیادہ جنسی کارکن کام کرتے ہیں، بھارت نے مالی سال 2024-25 کے لیے اپنے دفاعی بجٹ میں 74.3 بلین ڈالر مختص کیے، جو کل حکومتی اخراجات کا 15 فیصد بنتا ہے۔
اس ملک میں ایک ہی وقت میں، جی ڈی پی کا صرف 5.5 فیصد انفراسٹرکچر اور فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاتا ہے، ہندوستان کے لوگ اسرائیل میں نوکریوں کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے ہیں۔ غزہ میں تنازع کی وجہ سے ہندوستان نے اپنے شہریوں کو فلسطینی مزدوروں کے متبادل کے طور پر پیش کیا ہے، بی جے پی نے حکومت ترقی کے غلط نمبر دنیا کے سامنے پیش کیے۔
ہندوستانی معیشت کی حقیقی عکاسی یہ ہے کے اپنے لوگوں کو ملازمتیں بھی نہیں دے سکتے، بھارت طاقت اور علاقائی تسلط پیش کرتا ہے جبکہ اس کے اندرونی تضادات ناقابل تردید ہیں۔
بھارت اپنے جوہری ہتھیاروں اور اسلحے کو وسعت دینے، جنوبی ایشیا کے خطہ کو عسکری بنانے اور اقلیتوں کا صفایا کرنے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کرتا ہے، بھارت میں عسکریت پسندی کی وجہ سے لاکھوں شہریوں کو غربت اور محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ بھارت بنسبت اپنے عوام پر اپنے دفاع، فوجی توسیع، ماورائے عدالت قتل اور سرحد پار خلاف ورزیوں پر زیادہ خرچ کرتا ہے۔

ملتان میں دریائے چناب کے سیلاب نے مویشیوں اور فصلوں کو تباہ کر دیا
- 14 گھنٹے قبل

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کر دی
- 14 گھنٹے قبل

پشاور اور ملحقہ علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال، پی ڈی ایم اے کا ریسکیو آپریشن جاری
- 12 گھنٹے قبل

امریکا کا یوکرین کو جدید فضائی دفاعی نظام دینے کا فیصلہ
- 13 گھنٹے قبل
سیلاب متاثرہ خواتین اور بچوں کو ریلیف کیمپوں میں سنگین مسائل کا سامنا
- 10 گھنٹے قبل

دریائے ستلج میں وہاڑی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب برقرار
- ایک منٹ قبل

تین ملکی سیریز: پاکستان کا متحدہ عرب امارات کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
- 13 گھنٹے قبل

پاکستان کی ٹرائی نیشن سیریز میں مسلسل دوسری فتح، یو اے ای کو 31 رنز سے شکست
- 10 گھنٹے قبل

صدر پاکستان کی جانب سے (این ایف سی) کی تشکیل میں تبدیلی کی منظوری
- 16 گھنٹے قبل

وزیراعظم شہباز شریف چین کے 6 روزہ دورے پر پہنچ گئے، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت کریں گے
- 14 گھنٹے قبل

لاہور: بھارتی دہشت گرد عثمان عرف عبدالرحمٰن کو 20 سال قید کی سزا
- 13 گھنٹے قبل

مریم نواز کا سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے لیے انتظامیہ کو بروقت اقدامات کی ہدایت
- 12 گھنٹے قبل