Advertisement
پاکستان

آرمی ایکٹ اور سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کا بل قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے  بھی  منظور

سینیٹ میں بلز کی منظوری کا عمل شروع ہوا تو اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Nov 5th 2024, 3:19 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
آرمی ایکٹ اور سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کا بل قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے  بھی  منظور

آرمی ایکٹ اور سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کا بل قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے  بھی  کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ضمنی ایجنڈے کی تحریک پیش کی جسے سینیٹ نے کثرت رائے سے منظور کرلی۔

سب سے پہلے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کا بل پیش کیا، سینیٹ نے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کا ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

سینیٹ میں بلز کی منظوری کا عمل شروع ہوا تو اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

سینیٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل پیش کیا گیا تو اپوزیشن اراکین نے چور چور کے نعرے لگائے۔

اپوزیشن کے اس شور کے دوران سینیٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد ہائی کورٹ ایکٹ 2010 میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا، جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

سینیٹ  نے آرمی ایکٹ 2024 ترمیمی بل کی بھی منظوری دے دی جبکہ ائیر فورس ایکٹ ترمیمی بل 2024 کی کثرت رائے سے منظوری دی گئی، بل وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پیش کیا۔

آرمی ایکٹ ترمیمی بلز کی منظوری کے بعد تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کی مدت ملازمت 3 سال سے بڑھ کر 5 سال ہو گئی ہے۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے سینیٹ میں پیش کیا گیا پاکستان بحریہ ایکٹ میں مزید ترامیم 2024 کا بل بھی کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

واضح رہے کہ بلز کی منظوری کے بعد سینیٹ اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔

Advertisement