مودی حکومت کا ادھمپور-سری نگر-بارہمولہ ریل لنک منصوبہ کشمیر کو زیر تسلط رکھنے کی کوشش ہے
ریل لنک خطے میں غیر کشمیریوں کی آباد کاری کو تیز کر سکتا ہے، اس طرح کشمیر کی آبادیاتی ساخت تبدیل ہو سکتی ہے اور خطے کی شناخت کو نقصان پہنچ سکتا ہے،کشمیری عوام


بھارت میں مودی حکوت کی جانب سے مقبوضہ جموں کشمیر میں زیر تعمیر ادھمپور-سری نگر-بارہمولہ ریل لنک منصوبہ کشمیر کو زیر تسلط رکھنے کی کوشش ہے،مودی حکومت کا یہ منصوبہ جنوری 2025 میں مکمل ہو کر فعال ہو جائے گا۔
کشمیری عوام ادھمپور-سری نگر-بارامولا ریل لنک منصوبے کو بھارت کی اس حکمت عملی کا حصہ سمجھتے ہیں جس کے ذریعے اس نے 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر پر کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کی۔
بھارت اس یو ایس بی آر ایل کو ایک انفراسٹرکچر منصوبہ کے طور پر پیش کرتا ہے جو رابطے اور ترقی کے لیے ہے، لیکن یہ حقیقت میں سیکیورٹی کو مزید مستحکم کرتا ہے اور علاقے میں فوجی نقل و حرکت کو تیز کرتا ہے،کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ اس سے مزید فوجی تسلط اور آبادیاتی تبدیلیاں ہوں گی۔
کشمیریوں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ ریل لنک خطے میں غیر کشمیریوں کی آباد کاری کو تیز کر سکتا ہے، اس طرح کشمیر کی آبادیاتی ساخت تبدیل ہو سکتی ہے اور خطے کی شناخت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بھارت فوجی انفراسٹرکچر بنا رہا ہے اور ایک ہی وقت میں کمیونیکیشن نیٹ ورک قائم کر رہا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں تقریباً 10 لاکھ فوجی اہلکاروں کو مستحکم کیا جا سکے، جس سے علاقے میں طاقت کا توازن خطرے میں پڑ رہا ہے۔
اگست 2019 کے بعد کشمیریوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہو گیا جب مودی حکومت نے یکطرفہ طور پر اور غیر قانونی طور پر جموں و کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کر دی اور اسے براہ راست مرکزی حکومت کے کنٹرول میں لے لیا۔
پچھلے پانچ سالوں میں، بھارت نے وادی میں غیر کشمیریوں کو آباد کرنے سمیت کئی تجاویز پر عمل درآمد کیا ہے، جسے بہت سے لوگ خطے کی مسلم اکثریتی آبادی کو ہندو اکثریت میں تبدیل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔
نئے قوانین کے نفاذ کے بعد، کشمیری فلسطین اور کشمیر کے درمیان مماثلتیں دیکھ رہے ہیں، انہیں یہ خوف ہے کہ بھارت کی دوسری ریاستوں سے ہندوؤں کو وادی میں لا کر "قبضے کے اسرائیلی ماڈل" کی نقل تیار کر رہا ہے۔۔
کشمیری بھارت کی نوآبادیاتی خواہشات سے آگاہ ہیں کیونکہ حالیہ برسوں میں علاقے نے اپنی خود مختاری کھو دی ہے۔
نئی ریلویز بھارت کے بڑھتے ہوئے کنٹرول اور غیر ضروری تبدیلیوں کی نمائندگی کرتی ہے، جبکہ ماہرین ماحولیات اس کے شدید ماحولیاتی اثرات کی انتباہ کر رہے ہیں۔
کشمیریوں کا یقین ہے کہ اقوام متحدہ کے تحت متنازعہ علاقے میں عوام کی بڑی منتقلی ہو گی، جو آخرکار علاقے کی شناخت اور خوبصورتی کو تباہ کر دے گی اور بھارت کے نوآبادیاتی منصوبوں کے سامنے سر جھکانے کا باعث بنے گی۔
بھارت کا خیال ہے کہ کشمیر تک ریل روٹ قائم کرنے سے متنازعہ علاقے پر اس کا کنٹرول مضبوط ہو گا۔ تاہم، اس اقدام سے علاقائی سلامتی کو خطرہ ہونے اور عالمی سطح پر اثرات کی توقع ہے۔

ٹرمپ کا سابق امریکی میجرکو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا حکم
- 11 hours ago

پاکستانی وفد آج مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی سٹرٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرے گا
- 2 days ago

نائب وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، فلسطین، کشمیر و علاقائی امور پر گفتگو
- 8 hours ago

پاکستان کے ثقافتی اور میوزک کے رنگ اب سعودی عرب میں سجیں گے
- 5 hours ago

لاہور: مبینہ اجتماعی زیادتی کی شکار لڑکی کا وطن واپسی سے انکار
- 3 days ago
نواب شاہ کے رہائشی مریض میں منکی پاکس کی تصدیق
- 11 hours ago

سری لنکا کیخلاف ٹی 20 سیریزکیلئے صاحبزادہ فرحان کپتان مقرر، ون ڈے ٹرائی سیریزمیں شاہین آفریدی کپتان برقرار
- a day ago

لاہور میں مس پاکستان کے سالانہ مقابلے، فاتحین کے ناموں کا اعلان
- a day ago
نائیجیریا: فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ
- a day ago

پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ ’فتح 4‘ کروز میزائل کے توسیعی ورژن کا کامیاب تجربہ
- 6 hours ago

اہلیہ پرتشدد کے الزام میں خاتون ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرکے شوہرگرفتار کر لیا گیا
- a day ago

نواب شاہ: تیز رفتار کار اور آئل ٹینکر کی ٹکر سے خواتین اور بچوں سمیت 6 افراد ہلاک
- a day ago




