ان واقعات کی وجہ سے اشیاء اور اجناس، خصوصاً خوراک کی قیمتوں میں 2024 کے دوران مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔

.jpg&w=3840&q=75)
باب المندب کی آبی گزرگاہ میں تجارتی جہازوں پر حملے ایک سنگین عالمی چیلنج کے طور پر ابھرے ہیں، جن کے اثرات علاقائی حدود سے آگے تک پہنچ رہے ہیں۔یہ حملے عالمی معیشت کو غیر مستحکم کرنے اور خوراک کی عالمی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا باعث بن رہے ہیں۔
ان واقعات کی وجہ سے اشیاء اور اجناس، خصوصاً خوراک کی قیمتوں میں 2024 کے دوران مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اماراتی خبر رساں ادارے "وام” کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 2722 منظور کی جس میں ریڈ سی میں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی گئی اور ایسے تمام حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔اسی تناظر میں، اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کی کانفرنس ‘UNCTAD’ کی 2024 کی رپورٹ نے خبردار کیا گیا ہے کہ اہم سمندری راستوں میں خطرات کی وجہ سے عالمی معیشت کو بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر ریڈ سی اور پاناما کینال کا بحران جاری رہا تو 2025 تک عالمی صارف قیمتوں میں 0.6 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے،
جبکہ چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک میں یہ اضافہ 0.9 فیصد اور پراسیسڈ فوڈ کی قیمتوں میں 1.3 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ میں وضاحت کی گی کہ باب المندب کی گزرگاہ سے شپمنٹس کو متبادل راستے، جیسے کیپ آف گڈ ہوپ، منتقل کرنے سے فاصلے بڑھ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ایندھن کی کھپت، شپنگ عملے کی اجرت، اور انشورنس کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، اور بحری قزاقی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔حوثیوں کی جانب سے دھمکیوں کے باعث باب المندب اور ریڈ سی میں نیویگیشن کی سکیورٹی کو لاحق خطرات خوراک کی سلامتی خاص طور پر غریب ممالک اور کمیونٹیز کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایشیا اور یورپ کے درمیان متبادل راستے استعمال کرنے سے سامان کی ترسیل کا وقت کم از کم 14 دن بڑھ جائے گا
، جو ان اشیاء کی شیلف لائف کو متاثر کرے گا اور ان کی قیمتیں کم آمدنی والے طبقے کی استطاعت سے باہر کر دے گا۔2024 میں، حوثی ملیشیا نے ریڈ سی میں تجارتی جہازوں پر بار بار حملے کیے، جن میں سے بعض جہاز تیل اور گیس لے کر جا رہے تھے، تاکہ عرب خلیج سے دنیا کے مختلف حصوں تک توانائی کی ترسیل کے تحفظ کو خطرے میں ڈالا جا سکے۔عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 30 فیصد تیل اور 40 فیصد خشک کارگو ریڈ سی اور سویز کینال کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔
حوثیوں کی دھمکیوں کے آغاز سے ہی متحدہ عرب امارات نے باب المندب کے علاقے اور ریڈ سی میں سمندری نیویگیشن پر حملوں کے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔جنوری 2024 میں اماراتی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیاکہ متحدہ عرب امارات باب المندب اور ریڈ سی میں سمندری نیویگیشن پر حملوں کے نتائج کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کی اطالوی ہم منصب سے ملاقات،دونوں ممالک کا 10,500 ورک ویزوں پر اتفاق
- 13 hours ago

ہیری بروک کی شاندار اسنچری، انگلینڈنے پاکستان کو شکست دیکر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا
- a day ago

اسلام آباد، پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے،لوگ گھروں سے باہر نکل آئے
- 11 hours ago

سونے کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 13 hours ago

بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال منتقل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
- 13 hours ago

تربت میں نامعلوم مسلح افرادکا گھر پرحملہ، ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق
- 13 hours ago

ورلڈ بینک کےکنٹری ڈائریکٹر کی وزیرِ خزانہ سے ملاقات،ترقیاتی تعاون اور اصلاحاتی ترجیحات پر تبادلۂ خیال
- 13 hours ago

لاہور: بسنت کے دوران 17 اموات ہوئیں،محکمہ داخلہ نے رپورٹ جمع کرا دی
- 12 hours ago

سپر ایٹ : نیوزی لینڈ نے سری لنکا کو باآسانی 61 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا
- 6 hours ago

وزیراعظم شہباز شریف کی قطری ہم منصب سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات اور عالمی پیشرفت پر تبادلہ خیال
- a day ago
گورننس فورم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بہترین فورم ثابت ہوگا،شہباز شریف
- 11 hours ago

سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان اور خیبر پختونخوا کارروائیاں، 34خارجی دہشتگرد جہنم واصل
- 7 hours ago






.jpg&w=3840&q=75)



