انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک ریاض اور دیگر کے خلاف ثبوت موجود ہیں اور مقدمات درج ہیں اور انہیں عدالت میں ان کا سامنا کرنا چاہئے۔


وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی کو ناقابل تردید ثبوتوں کی بنیاد پر انیس کروڑ پاؤنڈ کے القادر ٹرسٹ کیس میں سزا سنائی گئی ہے۔
ٹیلی ویژن پر ایک پیغام میں کہا کہ یہ پاکستان کا بدعنوانی کا سب سے بڑا مقدمہ ہے ، انہوں نے کہا کہ شریک مجرم ملک ریاض کو بھی اس مقدمے میں مفرور قرار دیا گیا ہے اور نیب متحدہ عرب امارات کی حکومت سے رابطے سمیت اس کی واپسی کے لئے قابل اعتماد اقدامات کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب پہلی بار تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ایسے با اثر لوگوں کے خلاف کارروائی کررہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک ریاض اور دیگر کے خلاف ثبوت موجود ہیں اور مقدمات درج ہیں اور انہیں عدالت میں ان کا سامنا کرنا چاہئے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ نیب غیر جانبداری سے قانون کے مطابق کام کررہا ہے۔

امن کا وقت نہیں اپنے دشمنوں کو عبرتناک شکست دیں گے، سپریم لیڈر نے امریکا سے مذاکرات کی تجویز مسترد کر دی
- 4 minutes ago

حکومت عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے،وزیر اعظم
- 21 hours ago

وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سفارتی روابط کی اہمیت پر زور
- 18 hours ago

اسرائیلی کا ایرانی سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنے کا دعویٰ،ایران کی تردید
- 22 minutes ago

وزیر اطلاعات نے نام نہاد ترجمان طالبان حکومت کا بیان حقائق کے منافی قرار دے دیا
- 27 minutes ago

تجارت کیلئے مکمل سہولت فراہم کرنے پرایران کے شکر گزار ہیں،پاکستانی سفیر
- 11 minutes ago

حکومت کا وفاقی ملازمین کیلئے بڑا اعلان، عید سے پہلے تنخواہیں دینے کی ہدایت
- 18 hours ago

نیب نے نواز شریف اور مریم نواز کیخلاف چوہدری شوگر ملز کیس ختم کر دیا
- 19 hours ago

پی سی بی نے پی ایس ایل 11 کے ٹکٹس کی فروخت کا اعلان کردیا
- 20 hours ago

امریکا کو بڑا دھچکا:برطانیہ، فرانس،جرمنی، جاپان اور آسٹریلیا کا ٹرمپ کی اپیل پر جہاز بھیجنے سے انکار
- 21 hours ago
پاکستان کا اپنے آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزارنے کیلئے ایران سے رابطہ ،سنئیرحکام کی تصدیق
- 18 hours ago

فٹبال ورلڈ کپ:کشیدگی کے باعث ایران کا اپنے میچز امریکا سے منتقل کرنے کے لیے فیفا سے رابطہ
- 15 minutes ago











