شیخ حسینہ واجد کے طلبا سے سوشل میڈیا خطاب کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین نے بنگلہ دیش کے بانی کے آبائی گھر کو آگ لگائی

بنگلہ دیش میں طلبا انقلاب کے باعث حکومتی تبدیلی کے بعد سے شیخ حسینہ واجد کی پارٹی زیرعتاب ہے۔ سابق وزیراعظم حسینہ واجد ملک سے مفرور ہیں تاہم مخالفین کی جانب سے اب بھی ان کے خلاف احتجاج کیے جاتے ہیں۔
غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کے طلبا سے سوشل میڈیا خطاب کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین نے بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کے آبائی گھر کو آگ لگا دی ہے۔ مظاہرین نے معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کے فیملی میوزیم کو توڑ دیا۔
یہ احتجاج سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی آن لائن تقریر کے جواب میں کیا گیا ہے۔ مظاہرین نے دھان منڈی 32 میں بلڈوزر مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا اور شام 9 بجے مکان کو منہدم کرنے کی دھمکی دی تھی، تاہم مظاہرین منصوبہ تبدیل کرتے ہوئے رات 8 بجے سے پہلے ہی وہاں پہنچ گئے۔
احتجاجی مظاہرین ایک ریلی کی شکل میں شیخ مجیب الرحمان کی رہائش گاہ پر پہنچے اور مرکزی دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہوگئے اور توڑ پھوڑ کی۔
مظاہرین نے کہاکہ شیخ مجیب الرحمان کا خاندان آمریت اور فسطائیت کی علامت ہے، انہوں نے ملک میں مجیب ازم اور فاشزم کے کسی بھی نشان کو مٹانے کے اپنے ارادوں کا اظہار کیا۔ احتجاجی مظاہرین شیخ حسینہ واجد کے خلاف بھی نعرے لگاتے رہے، اور انہیں واپس لا کر پھانسی دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
احتجاجی مظاہرین میں سے کچھ لوگ گھر کی دوسری منزل پر چڑھ گئے، اور شیخ مجیب الرحمان کی تصویروں اور دیگر اشیا کو نقصان پہنچایا۔
شیخ حسینہ، جو اگست 2024 سے بھارت میں مقیم ہیں اور ایک بڑے طلبہ احتجاج کے بعد اقتدار سے بے دخل ہو گئی تھیں، انہوں نے یہ بیان اپنی جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری ایک ورچوئل خطاب میں دیا۔ انہوں نے ڈھاکہ کے 32 دھان منڈی میں واقع اپنی والد کی رہائش گاہ پر حملے کے مقصد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’اس گھر سے ڈرنے کی کیا وجہ ہے؟ میں بنگلہ دیش کے عوام سے انصاف مانگتی ہوں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ تاریخ اپنا انتقام ضرور لیتی ہے۔
خیال رہے کہ بدھ کی رات، ایک بڑے ہجوم نے ڈھاکہ میں شیخ مجیب الرحمان کی رہائش گاہ پر حملہ کر کے اسے نذر آتش کر دیا تھا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب شیخ حسینہ نے آن لائن اپنے کارکنان کو نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی زیر قیادت عبوری حکومت کے خلاف احتجاج کی اپیل کی۔

روٹی تو مل ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟
- 7 hours ago

کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی
- 7 hours ago

وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ
- 7 hours ago

پاکستان اور چین سدابہار شراکت دار ہیں، چین کے ساتھ دوستی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،صدر مملکت
- 11 hours ago

اسحاق ڈارکا یورپی یونین کی نائب صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، مکالمے اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ
- 13 hours ago

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 11 پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کوششیں جاری ہیں،دفتر خارجہ
- 14 hours ago

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
- 13 hours ago

وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم
- 7 hours ago

تھیٹر پروڈیوسرز کی پنجاب آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب عالم چودھری سے ملاقات
- 14 hours ago

آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے،ایرانی صدر
- 13 hours ago

افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت منظرعام پر آگئے
- 12 hours ago

خلیج فارس میں نئے باب کا آغاز، آبی راستوں پر دشمن کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا،سپریم لیڈر
- 11 hours ago









