Advertisement

ایرانی سپریم لیڈر نے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کی ٹرمپ کی تجویز کو مسترد کر دیا

امریکا مذاکرات نہیں چاہتا بلکہ اپنے مطالبات مسلط کرنے کا خواہاں ہے، آیت اللہ خامنہ ای

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Mar 9th 2025, 3:19 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
ایرانی سپریم لیڈر نے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات  کی ٹرمپ کی تجویز کو مسترد  کر دیا

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کرنے کی ٹرمپ کی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مذاکرات نہیں چاہتا بلکہ اپنے مطالبات مسلط کرنے کا خواہاں ہے

غیرملکی میڈیا کے مطابق اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ہفتے کے روز ایک تقریر میں کہا کہ ایران کو مذاکرات کے نام پر دھمکیاں قبول نہیں ہیں، امریکا کی مذاکرات کی پیشکش صرف اپنے مقصد کیلئے ہے۔ یہ مسئلہ دھونس سے حل نہیں ہوگا، یہ لوگ اپنی خواہشات مسلط کرنا چاہتے ہیں، ایران انکی امیدیں پوری نہیں ہونے دے گا۔

ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ بعض غنڈہ گردی کرنے والی حکومتوں کے مذاکرات پر اصرار کا مقصد مسائل کو حل کرنا نہیں ہے بلکہ غلبہ حاصل کرنا اور اپنے مطالبات مسلط کرنا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران یقینی طور پر ان کی توقعات کو قبول نہیں کرے گا۔

امریکی مطالبات کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ وہ ایران کی دفاعی صلاحیت محدود کرنے اور بین الاقوامی اثر و رسوخ بڑھناے کا مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ نہ کریں، فلاں سے نہ ملیں فلاں چیزیں نہ بنائیں یا میزائل کا ہدف مخصوص رینج سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو دیے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہوں نے ایران کی قیادت کو خط لکھا ہے جس میں ان سے نیوکلیور ڈیل کے حوالے سے بات چیت کرنے کا کہا۔

صدر ٹرمپ کا خط میں کہنا تھا کہ امید ہے ایرانی قیادت بات چیت چاہتی ہے کیونکہ یہ ایران کے لیے بہتر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہیں اس خط کی ضرورت ہے ورنہ دوسری صورت میں ہمیں پھر کچھ کرنا پڑے گا، کیونکہ اب کوئی نیا نیوکلیر ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی آمیز لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بات کرو یا پھر ہم کچھ کرتے ہیں، کیونکہ اب کوئی نیا نیو کلیر ہتھیار بننے نہیں دیں گے۔

Advertisement