قومی اسمبلی اجلاس، پی ٹی آئی کا جعفر ایکسپریس حملے پر بولنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج
عمر ایوب خان نے ریل گاڑی پر دہشتگرد حملے پر بولنے کی کوشش کی تاہم عبدالقادر پٹیل نے بولنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا


قومی اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کو جعفر ایکسپریس حملے پر بولنے کی اجازت نہیں ملی جس پر پی ٹی آئی نے احتجاج کیا ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس پریذائیڈنگ آفیسر عبدالقادر پٹیل کی صدارت میں شروع ہوا۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے نکتہ اعتراض پر بلوچستان میں ریل گاڑی پر دہشت گرد حملے پر بولنے کی کوشش کی تاہم عبدالقادر پٹیل نے بولنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ صدارتی خطاب پر بحث کے دوران بلوچستان کی صورتحال پر بات کرلینا۔
بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعہ میں شہید ہوئے افراد کے لیے دعائے مغفرت نہ کی گئی، پی ٹی آئی ارکان نے اپوزیشن لیڈر کو نہ بولنے دینے پر احتجاج شروع کردیا۔ اس دوران پریذائڈنگ آفیسر نے وقفہ سوالات شروع کرادیا۔
اپوزیشن رکن اقبال آفریدی نے کورم کی نشاندہی کردی اور کہا کہ بلوچستان میں اتنا بڑا حملہ ہوا اس پر بولنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ بعدازاں ایوان میں گنتی شروع کرادی گئی۔
وزیر توانائی سے متعلق وقفہ سوالات ہوئے تو وزیر توانائی کی عدم موجودگی پر پیپلز پارٹی کے ارکان برس پڑے۔ وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیر توانائی کچھ دیر میں ایوان میں پہنچ جائیں گے۔ سید نوید قمر نے کہا کہ اتنی بڑی کابینہ کس لئے بنائی ہے؟
جے یو آئی کے رکن نورعالم خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پانی سمیت کسی ایشو پر بات سنی نہیں جاتی تو وہ اپوزیشن میں آجائے، اپوزیشن میں آئیں مل کر ماحول گرم کریں گے۔ پریذائیڈنگ آفیسر عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ آپ کی تجویز پر غور کریں گے۔
وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مجھے وزیر توانائی نے نہیں بتایا کہ میں ان کی جگہ جواب دوں۔ عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ اتنی بڑی کابینہ کا آپس میں رابطہ ہی قائم نہیں ہوا کہ ایک وزیر دوسرے کو کچھ بتاہی دے
اجلاس کے دوران وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وقفہ سوالات میں پانی کے غیر معیاری نمونوں کا معاملہ اٹھایا گیا، عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ جب تک خالد مگسی وزیر نہیں بنے تھے تو ایوان میں ریگولر آتے تھے، چونکہ وزرا کے ایوان میں نہ آنے کی روایت ہے اس لئے اب خالد مگسی بھی وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی بننے کے بعد نہیں آئے۔ خالد مگسی اپنا ذکر ہوتے ہی ایوان میں آگئے۔
عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ خالد مگسی صاحب اب وزیر بن گئے ہیں دوچار ویلز خرید کردے دیں گے، نہ سائنس نہ ٹیکنالوجی نظر آتی ہے اللہ کرے اب ہی نظر آجائے۔ وفاقی وزیر سائنس خالد مگسی نے عبدالقادر پٹیل پر طنز کیا کہ آپ دوچار لانچیں دے دیں آپ کے پاس لانچیں ہوتی ہیں۔ عبدالقادر پٹیل خالد مگسی کے جواب پر خاموش ہوگئے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات پر بھی بات ہوئی۔ وزارت توانائی کی جانب سے گردشی قرضوں کے معاملے پر ایوان کو تحریری جواب دیا گیا جس میں بتایا گیا کہ رواں سال گردشی قرض میں اضافہ نہیں ہوا، حکومتی اقدامات سے گردشی قرضوں میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے، مالی سال کی پہلی ششماہی میں گردشی قرض 9 ارب کم ہوا ہے، جون 2024ء تک گردشی قرض 2393 ارب روپے تھا، دسمبر 2024ء تک گردشی قرض 2384 ارب روپے تک کم ہوا ہے۔

وزیر اعظم کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ،56 ارب روپے کا بوجھ حکومت برداشت کرے گی
- 20 گھنٹے قبل

لالی وڈ کے نامور نغمہ نگار الطاف باجوہ انتقال کر گئے
- 3 گھنٹے قبل

اسحاق ڈار کا چینی وزیر خارجہ سےٹیلیفونک رابطہ، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور امن کی بحالی پر زور
- ایک دن قبل

وزیراعظم کا ایرانی صدرِ ایرانی صدر ٹیلیفونک رابطہ،خطے میں کشیدگی اور امن کوششوں پر تبادلہ خیال
- 2 گھنٹے قبل

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: سعودی عرب،ترکیہ اور مصری وزرائے خارجہ کل پاکستان کا دورہ کریں گے
- 3 گھنٹے قبل

عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سوناآج پھر ہزاروں روپے مہنگا ،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 2 گھنٹے قبل

ارتھ آور 2026: وزیراعظم شہبازشریف کی قوم سے بھرپور شرکت اور توانائی بچانے کی اپیل
- 3 گھنٹے قبل

پی ایس ایل: کراچی کنگز کا کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 182 رنز کا ہدف
- ایک دن قبل

اسحاق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال
- 20 گھنٹے قبل

ایران کا سعودی عرب کی پرنس سلطان ائیر بیس پر میزائل حملہ،12 امریکی فوجی زخمی
- 2 گھنٹے قبل

حوثیوں کا اسرائیل پر میزائل حملہ ،جنگ میں باقاعدہ شمولیت کی دھمکی دے دی
- 3 گھنٹے قبل
ملک میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کا پلان تیار، اعلان آج متوقع
- 3 گھنٹے قبل




