Advertisement
پاکستان

ٹی ٹی پی، بعض سیاسی قوتیں ریاستی اداروں کو کمزور کرنےمیں مصروف عمل

ٹی ٹی پی شرعی نظام کے نام پر اور پاکستان تحریک انصاف کھوکھلی 'جمہوریت' کے نام پر ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت کو ہوا دے رہی ہیں

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Mar 16th 2025, 10:05 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
ٹی ٹی پی، بعض سیاسی قوتیں ریاستی اداروں کو کمزور کرنےمیں  مصروف عمل

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بعض سیاسی قوتیں یکساں طور پر پاکستان کے ریاستی اداروں کو کمزور کرنے، عوامی اعتماد کو مجروح کرنے، اور ملک میں انتشار پھیلانے کی کوششوں میں مبینہ طور پرمصروف ہیں۔

 تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتی ہے جبکہ  پاکستان تحریک انصاف احتجاج اور تشدد کے ذریعے افراتفری پیدا کرکے ریاستی مشینری کو غیر مستحکم کرتی ہیں۔

جبکہ تحریک انصاف والے کہیں گے کہ ان کی فتنہ الخوارج سے کوئی نظریاتی ہم آہنگی نہیں ہے، لیکن عملی طور پر ان کا ہدف یکساں ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی شرعی نظام کے نام پر اور تحریک انصاف کھوکھلی 'جمہوریت' کے نام پر ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت کو ہوا دیتی ہیں، جس سے دہشت گردوں کو موثر کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔

تحریک انصاف کی پرتشدد کارروائیاں اور فوج مخالف بیانیہ اور عسکری قیادت کو متنازعہ بنانے کی کوششیں دراصل فتنہ الخوارج کے "جرنیلی ٹولہ" کے بیانیے کو تقویت دیتا ہے۔ یہ باہمی مخاصمت ریاست کے خلاف مشترکہ محاذ آرائی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اب یہ فرق کرنا مشکل ہے کہ تحریک انصاف کا بیانیہ کیا اور تحریک طالبان کا بیانیہ کیا ہے۔

سیاسی عدم استحکام دہشت گردوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتا ہے۔ جب سیاسی قوتیں ریاستی اداروں کے خلاف عوامی غیض و غضب کو بھڑکاتی ہیں تو ٹی ٹی پی جیسے گروہ سیکیورٹی فورسز کی توجہ منتشر کرکے اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں یہ کہنا کہ ٹھیک ہوگا کہ سیاسی عدم استحکام دراصل فتنہ ہے اور فتنے کی مدد ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ انتشار اور خانہ جنگی کی صورت میں سب سے زیادہ فائدہ دہشت گرد اٹھاتے ہیں۔ لہٰذا، جو قوتیں فوج، عدلیہ اور دیگر اداروں کو کمزور کرنے پر تُلی ہوئی ہیں، وہ دانستہ طور پر فتنہ الخوارج  کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا سبب بن رہی ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ تحریک طالبان کے "الخندق آپریشن" کا اعلان اسی وقت کیا گیا جب ملک کو سیاسی بحران کا بھی سامنا ہے۔

Advertisement
ایران امریکہ امن مذاکرات میںوزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کا کردار لائق تحسین ہے، جے ڈی وینس

ایران امریکہ امن مذاکرات میںوزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کا کردار لائق تحسین ہے، جے ڈی وینس

  • 19 گھنٹے قبل
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا

  • 26 منٹ قبل
ایران کی دھمکی کام کر گئی، نیتن یاہو کا لبنان جنگ بندی کا اعلان 

ایران کی دھمکی کام کر گئی، نیتن یاہو کا لبنان جنگ بندی کا اعلان 

  • ایک دن قبل
پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کا آغاز

پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کا آغاز

  • 19 گھنٹے قبل
 پاکستان کی نامور اداکارہ لیلیٰ نے ڈائریکشن کے میدان میں قدم رکھ دیا

 پاکستان کی نامور اداکارہ لیلیٰ نے ڈائریکشن کے میدان میں قدم رکھ دیا

  • ایک دن قبل
مریم نواز کے ویژن کے تحت عظمیٰ بخاری فنکاروں کی بہتری اور کلچر کو فروغ کیلئے دن رات کوشاں ہیں،شازیہ رضوان

مریم نواز کے ویژن کے تحت عظمیٰ بخاری فنکاروں کی بہتری اور کلچر کو فروغ کیلئے دن رات کوشاں ہیں،شازیہ رضوان

  • 35 منٹ قبل
علاقائی فورم اجلاس: پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کا علاقائی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

علاقائی فورم اجلاس: پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کا علاقائی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

  • 19 گھنٹے قبل
وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی ایرانی وفد سے ملاقات، مذاکرات کے حوالے سےتبادلہ خیال

وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی ایرانی وفد سے ملاقات، مذاکرات کے حوالے سےتبادلہ خیال

  • ایک دن قبل
ایران امریکا مذاکرات کا پہلا سیشن اختتام پذیر،فریقین کا حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے روڈ میپ پر اتفاق

ایران امریکا مذاکرات کا پہلا سیشن اختتام پذیر،فریقین کا حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے روڈ میپ پر اتفاق

  • ایک گھنٹہ قبل
وزیر اعظم نے ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی  بل کی شقوں پر نظر ثانی کیلئے کمیٹی قائم کر دی 

وزیر اعظم نے ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل کی شقوں پر نظر ثانی کیلئے کمیٹی قائم کر دی 

  • ایک دن قبل
پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں سے لبنان جنگ کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے، عباس عراقچی

پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں سے لبنان جنگ کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے، عباس عراقچی

  • ایک گھنٹہ قبل
 معاہدوں پرصرف کاغذی دستخط کافی نہیں ، بلکہ ان پر  عملدرآمد بھی ضروری ہے،محمد مخبر

 معاہدوں پرصرف کاغذی دستخط کافی نہیں ، بلکہ ان پر  عملدرآمد بھی ضروری ہے،محمد مخبر

  • ایک دن قبل
Advertisement