جی این این سوشل

پاکستان

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا

اسلام آباد :وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں 22 نکاتی ایجنڈا پر غور کیا جائے گا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا
وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا

اجلاس میں کابینہ میں ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد رپورٹ پیش کی جائے گی۔ وفاقی کابینہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اتھارٹی ایکٹ اور کیپیٹل ٹیریٹری مینٹیننس آف پبلک آرڈر ایکٹ 2019ء میں ترمیم کی منظوری دے گی۔

وفاقی کابینہ سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ایئرپورٹ اتھارٹی آرڈیننس کی منظوری دے گی جبکہ کابینہ مالی سال 2021ء کے لیے ایس ای سی پی کے آڈیٹرز تعینات کرنے کی منظوری دے گی۔

کابینہ کو جی ٹونٹی ممالک کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے سے متعلق اقدام پر بریفنگ بھی دی جائے گی۔

اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سیکیورٹی آف سٹیبلشمنٹ ایکٹ 2019ء کا معاملہ کابینہ ایجنڈا میں شامل ہے۔

وفاقی کابینہ پیمرا کونسل آف کمپلینٹس لاہور میں سحر زرین کی تعیناتی، چیئرمین ای او بی آئی کی کنٹریکٹ پر تعیناتی جبکہ فیڈرل گورنمنٹ پراپرٹی مینجمٹ اتھارٹی کے قیام کی منظوری دے گی۔

کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے گزشتہ تین اجلاسوں کے فیصلوں کی توثیق کابینہ ایجنڈا میں شامل ہے جبکہ کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے فیصلوں کی توثیق بھی کی جائے گی۔

 

پاکستان

آرٹیکل 63 اے نظر ثانی کیس: جسٹس منیب اختر کا لارجر بینچ میں شمولیت سے انکار

جسٹس منیب اختر کو بینچ میں واپس لانےکی کوشش کریں گے ورنہ بینچ کی تشکیل ازسرنو ہو گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آرٹیکل 63 اے نظر ثانی کیس: جسٹس منیب اختر کا  لارجر بینچ میں شمولیت سے انکار

آرٹیکل 63 اے نظر ثانی کیس: جسٹس منیب اختر کا سپریم کورٹ کے لارجر بینچ میں شمولیت سے انکار کر دیا، جسٹس منیب اختر کو بینچ میں واپس لانےکی کوشش کریں گے ورنہ بینچ کی تشکیل ازسرنو ہو گی۔

آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے پر نظرثانی اپیلوں پر سماعت جسٹس منیب اختر کے عدالت میں پیش نہ ہونے کے باعث ملتوی کر دی گئی۔

آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے پر نظرثانی اپیلوں پر سماعت سپریم کورٹ میں شروع ہوئی تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مظہر عالم کمرہ عدالت پہنچے تاہم جسٹس منیب اختر کمرہ عدالت میں نہیں آئے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلالیا اور ریمارکس دیے کہ کیس کے حوالے سے لارجر بینچ آج بنا تھا، کیس کا فیصلہ ماضی میں 5 رکنی بینچ نے سنایا تھا۔

جسٹس منیب اختر نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط تحریر کر دیا، دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منیب اختر کا خط پڑھ کر سنایا۔

جسٹس منیب اختر نے اپنے خط میں لکھا میں کیس سننے سے معذرت نہیں کر رہا، ایک بار بینچ بن چکا ہو تو کیس سننے سے معذرت صرف عدالت میں ہی ہو سکتی ہے۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے بینچ تشکیل دیا ہے، کمیٹی کے تشکیل کردہ بینچ کا حصہ نہیں بن سکتا، بینچ میں بیٹھنے سے انکار نہیں کر رہا، بینچ میں شامل نہ ہونے کا غلط مطلب نہ لیا جائے، میرے خط کو نظر ثانی کیس ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ بینچ کل دوبارہ بیٹھے جبکہ بیرسٹرعلی ظفر نے کمیٹی پر تحفظات کا اظہار کر دیا اور کہا کہ کمیٹی تب ہی بینچ بناسکتی ہے جب تینوں ممبران موجود ہوں۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ایسےخط کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی روایت نہیں ہے، جسٹس منیب کا خط عدالتی فائل کا حصہ نہیں بن سکتا، مناسب ہوتا جسٹس منیب اختربینچ میں آکر اپنی رائے دیتے، میں نے اختلافی رائے کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے، نظرثانی کیس دو سال سے زائد عرصہ سے زیرالتواء ہے۔63 اے کا مقدمہ بڑا اہم ہے، جج کا مقدمہ سننے سے انکار عدالت میں ہوتا ہے، جسٹس منیب اختر کی رائے کا احترام ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ قانون کا تقاضا ہے نظرثانی اپیل پر سماعت وہی بینچ کرے، سابق چیف جسٹس کی جگہ میں نے پوری کی، جسٹس اعجازالاحسن کی جگہ جسٹس امین الدین کو شامل کیا گیا، ہم جسٹس منیب اختر سے درخواست کریں گے کہ بینچ میں بیٹھیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منیب اختر کو بینچ میں شامل ہونے کی درخواست کر دی اور کہا کہ جسٹس منیب اختر کو بینچ میں واپس لانےکی کوشش کریں گے ورنہ بینچ کی تشکیل ازسرنو ہو گی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا امید ہے جسٹس منیب اختر دوبارہ بینچ میں شامل ہو جائیں گے، جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں، دونوں صورتوں میں کل کیس کی سماعت ہو گی۔

سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے تشریح کے فیصلے پر نظرثانی اپیلوں پر سماعت کل صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

لاپتہ افراد کیس، عدالت نے وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو طلب کرلیا

جب ایک کیس میں ضمانت ہوجائے تو پھر کیسے کسی کو جیل کے باہر سے گرفتار کرتے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

لاپتہ افراد کیس، عدالت نے  وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو طلب کرلیا

پشاور ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کیس میں وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو طلب کرلیا۔

ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کیس کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار نے کہا کہ میرے بیٹے کو پولیس نے اٹھایا ہے، اسے عدالت سے ضمانت ملی، لیکن پشاور جیل سے باہر نکلتے ہی سی ٹی ڈی نے اٹھالیا۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ جب ایک کیس میں ضمانت ہوجائے تو پھر کیسے کسی کو جیل کے باہر سے گرفتار کرتے ہیں، یہ اس عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے، وزیراعلی کو بلا لیں، اسد قیصر کیس میں عدالت قرار دے چکی ہے، ایک کیس میں ضمانت ہونے کے بعد دوسرے درج مقدمے میں گرفتار نہیں کرسکتے، ایسے اور بھی کیسز ہیں جن میں ضمانت ہونے کے بعد لوگوں کو دوبارہ گرفتار کیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کسی کو کیسے ضمانت کے باوجود جیل کے گیٹ سے گرفتار کرسکتے ہیں، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور 5 بجے تک کسی بھی وقت عدالت میں پیش ہوجائیں میں عدالت میں ہی موجود ہوں۔

اس پر ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا امن وا مان سے متعلق اجلاس میں مصروف ہیں، اس لیے پیش نہیں ہوسکتے جبکہ کیس ہم ہی دیکھ رہے ہیں۔

جس پر چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک کیس نہیں ہے، ایسے اور بھی کیسز ہے جن میں ضمانت ہونے کے بعد لوگوں کو دوبارہ گرفتار کیا ہے، آپ کال کرکے پوچھ لیں، وقت ہو تو آج پیش ہو نہیں تو جمعے کو پیش ہوجائیں کیونکہ ہم قانون پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

توشہ خانہ 2 کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستیں مسترد

بانی چیئرمین اور بشری بی بی کی درخواست ضمانت پر سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

توشہ خانہ 2 کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستیں مسترد

بانی چیئرمین پی ٹی آئی و سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی توشہ خانہ 2 کیس میں درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی۔

عمران خان اور بشری بی بی کی درخواست ضمانت پر سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کی۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی طرف سے پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی اپنی ٹیم کے ساتھ پیش ہوئے جبکہ عمران خان اور بشری بی بی کی وکالت بیرسٹر سلمان صفدر نے کی۔

اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے توشہ خانہ ٹو کیس میں فیصلہ سنا دیا جس میں جج نے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔

واضح رہے کہ عمران خان اور بشری بی بی پر توشہ خانہ 2 کیس میں 2 اکتوبرکو فردجرم عائد کی جائے گی۔

13 جولائی کو نیب نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت نکاح کیس میں ضمانت ملنے کے فوری بعد توشہ خانہ کے ایک نئے ریفرنس میں گرفتار کرلیا تھا۔

نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق توشہ خانہ ٹو کیس 7 گھڑیوں سمیت 10 قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے۔

تاہم نیب ترامیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد احتساب عدالت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ 2 ریفرنس نیب سے ایف آئی اے کو منتقل کردیا تھا۔

توشہ خانہ ٹو کیس کی تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) نے تین رکنی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم(جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll