Advertisement
تجارت

آئندہ مالی سال 2025/26 کے لیےوفاقی بجٹ خسارہ7 ہزار 222 ارب رہنے کا امکان

وفاقی حکومت کواخراجات پورا کرنے کیلئے قرضوں پر انحصار کرنا پڑسکتا ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Apr 21st 2025, 10:36 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
آئندہ مالی سال 2025/26 کے لیےوفاقی بجٹ خسارہ7 ہزار 222 ارب رہنے کا امکان

وزارت خزانہ نےیکم جولائی سےشروع ہونےوالےآئندہ مالی سال 2025/26 کے لیےوفاقی بجٹ خسارے کا تخمینہ 7 ہزار 222 ارب روپے لگایا ہے، صوبائی سرپلس کیلئے1360 ارب ، مجموعی بجٹ خسارے کا تخمینہ کم ہوکر 5ہزار 862ارب روپے یا جی ڈی پی4.4فیصد رہ جائیگا -

آئندہ مالی سال سودکی ادائیگی کے بعدوفاق کےپاس ترقیاتی منصوبوں، دفاع ،تنخواہوں،پینشن،سبسڈیز اور گرانٹس سمیت دیگر تمام اخراجات کےلیے صرف 2 ہزار 225 ارب روپےبچنے کا تخمینہ ہےجس کےنتیجے میں وفاقی حکومت کواخراجات پورا کرنے کیلئے قرضوں پر انحصار کرنا پڑسکتا ہے۔

ذرائع کےمطابق آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ خسارےکاتخمینہ 7ہزار 222ارب روپے یا جی ڈی پی کے5 اعشاریہ 5 فیصد لگایا گیا ہے تاہم صوبائی سرپلس کے لیے 1 ہزار 360 ارب روپے کا تخمینہ ہےاور صوبائی سرپلس شامل کرکے مجموعی بجٹ خسارے کا تخمینہ کم ہوکر 5 ہزار 862 ارب روپے یا جی ڈی پی کے 4اعشاریہ 4فیصد رہ جائے گا-

آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی حکومت کی مجموعی آمدنی کا تخمینہ 19ہزار111ارب روپے ہےجس میں ایف بی آرکی ٹیکس آمدنی 15ہزار270ارب اور3ہزار 841 ارب روپےکی نان ٹیکس آمدنی کا تخمینہ ہےتاہم این ایف سی ایوارڈ کےتحت صوبوں کو ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں سے8 ہزار780ارب روپےکی منتقلی کے بعد وفاقی حکومت کےپاس خالص آمدنی 10 ہزار 331ارب روپےرہ جانےکا تخمینہ ہے اور خالص آمدنی میں سودکی مد میں8ہزار106ارب روپےکی ادائیگی کےبعد یعنی وفاق کےپاس باقی تمام اخراجات کےلیےمحض2ہزار225ارب روپے ہی بچ سکیں گے.

 ذرائع وزارت خزانہ کاکہنا ہےکہ آئندہ مالی سال وفاقی حکومت کےمجموعی اخراجات کاتخمینہ17ہزار 553 ارب روپےلگایا گیا ہےجس میں سب زیادہ سود کی ادائیگی کے اخراجات کے لئےلگایا گیا ہے،باقی اخراجات میں دفاع،پینشن، تنخواہیں،ترقیاتی بجٹ، سبسڈیز اور گرانٹس سمیت دیگر شامل ہیں۔

Advertisement
سیز فائر کے باوجود امریکی جارحیت کا سلسلہ جاری، ایرانی ٹھکانوں فضائی  پر حملے،ایران کا بھرپور جواب

سیز فائر کے باوجود امریکی جارحیت کا سلسلہ جاری، ایرانی ٹھکانوں فضائی پر حملے،ایران کا بھرپور جواب

  • 16 hours ago
لبنان میں سیز فائر کی خلاف ورزی،ایران کا امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ معطل ، مذاکرات سے انکار

لبنان میں سیز فائر کی خلاف ورزی،ایران کا امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ معطل ، مذاکرات سے انکار

  • 11 hours ago
پنجاب حکومت کا آئندہ مالی سال ٹیکس فری بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ

پنجاب حکومت کا آئندہ مالی سال ٹیکس فری بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ

  • 15 hours ago
اوگرا نے ایک دفعہ پھر ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، نوٹیفکیشن جاری 

اوگرا نے ایک دفعہ پھر ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، نوٹیفکیشن جاری 

  • 15 hours ago
صدرِ زرداری نے وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری کی منظوری دے دی

صدرِ زرداری نے وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری کی منظوری دے دی

  • 11 hours ago
پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان شراکت داری اور باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان شراکت داری اور باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق

  • 16 hours ago
واشنگٹن :پیکجنگ  پلانٹ میں کیمیکل ٹینک پھٹنے سے 11 افراد ہلاک،متعدد زخمی 

واشنگٹن :پیکجنگ پلانٹ میں کیمیکل ٹینک پھٹنے سے 11 افراد ہلاک،متعدد زخمی 

  • a day ago
ملائیشیا،16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی

ملائیشیا،16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی

  • 15 hours ago
چین کے ساتھ کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے، وزیراعظم 

چین کے ساتھ کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے، وزیراعظم 

  • 14 hours ago
ٓآئندہ وفاقی بجٹ میں 1126 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کرنے کا تخمینہ

ٓآئندہ وفاقی بجٹ میں 1126 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کرنے کا تخمینہ

  • 17 hours ago
جنگ بندی کے باوجو د امریکہ حملے کر کے مذاکرات کے عمل کو پیچیدہ بناہ رہا ہے، ایران

جنگ بندی کے باوجو د امریکہ حملے کر کے مذاکرات کے عمل کو پیچیدہ بناہ رہا ہے، ایران

  • 17 hours ago
کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونا اچانک ہزاروں روپے سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونا اچانک ہزاروں روپے سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

  • 17 hours ago
Advertisement