Advertisement

سلامتی کونسل میں غزہ میں مستقل جنگ بندی کی اہم قرارداد کو امریکہ نے ویٹو کر دیا

قرارداد کے حق میں سلامتی کونسل کے پاکستان سمیت باقی تمام 14 ارکان نے ووٹ دیا

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Jun 5th 2025, 9:13 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
سلامتی کونسل میں غزہ میں مستقل جنگ بندی کی  اہم قرارداد کو امریکہ نے ویٹو کر دیا

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں مستقل جنگ بندی کے مطالبے پر مبنی ایک اہم قرارداد کو امریکہ نے ویٹو کر دیا، جس کے نتیجے میں یہ قرارداد منظور نہ ہو سکی۔ قرارداد کے حق میں سلامتی کونسل کے باقی تمام 14 ارکان نے ووٹ دیا، جن میں پاکستان بھی شامل تھا۔

یہ قرارداد مصر، الجزائر، پاکستان اور دیگر ممالک کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس کا مقصد غزہ میں جاری خونریزی کا خاتمہ اور مستقل جنگ بندی کا نفاذ تھا۔ تاہم، امریکہ نے اپنے ویٹو کے حق کا استعمال کرتے ہوئے اس قرارداد کو روک دیا۔

امریکی نائب مندوب ڈوتھی شیا نے قرارداد کو ویٹو کرنے کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنی سلامتی کے تحفظ کا پورا حق حاصل ہے، اور ’اسرائیلی سکیورٹی کو نقصان پہنچانے والی کوئی بھی چیز قابل قبول نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’حماس کو شکست دینا اور اسے دوبارہ خطرہ نہ بننے دینا اسرائیل کا حق ہے۔‘

ڈوتھی شیا نے مزید کہا کہ امریکہ کی مخالفت پر کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ واشنگٹن پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ یکطرفہ طور پر ایسی کسی قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا جس سے اسرائیل کی دفاعی صلاحیت کو زک پہنچے۔

ادھر پاکستان سمیت دیگر مسلم اور ترقی پذیر ممالک نے اس قرارداد کی بھرپور حمایت کی اور جنگ بندی کو انسانیت کی ضرورت قرار دیا۔ تاہم، امریکہ کے ویٹو کے بعد ایک بار پھر غزہ میں قیامِ امن کی عالمی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

Advertisement
Advertisement