Advertisement

اسرائیل اور شام کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ، خونریزی کے بعد امن کی امید

تھامس باراک نے کہا کہ سیز فائر کے بعد تمام متحارب گروپوں سے مطالبہ ہے کہ وہ ہتھیار ڈال کر شام کی تعمیر نو کے عمل میں شامل ہوں

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Jul 19th 2025, 7:11 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
اسرائیل اور شام کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ، خونریزی کے بعد امن کی امید

 

اسرائیل اور شام کے درمیان کئی روز سے جاری شدید لڑائی اور خونریزی کے بعد فریقین نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ ترکیہ میں تعینات امریکی سفیر تھامس باراک کے مطابق یہ سیز فائر معاہدہ ترکیہ، اردن اور دیگر علاقائی ممالک کی سفارتی کوششوں کی بدولت ممکن ہوا۔

تھامس باراک نے کہا کہ سیز فائر کے بعد تمام متحارب گروپوں سے مطالبہ ہے کہ وہ ہتھیار ڈال کر شام کی تعمیر نو کے عمل میں شامل ہوں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ وقت باہمی مفاہمت اور عوامی بحالی کا ہے، نہ کہ مزید تباہی کا۔

شام کے دروز اکثریتی علاقوں میں حالیہ فرقہ وارانہ فسادات کے نتیجے میں کم از کم 300 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔ ان جھڑپوں نے شام کی اندرونی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا، جس کا فائدہ بعض بیرونی قوتوں نے بھی اٹھانے کی کوشش کی۔

تین روز قبل اسرائیل نے دمشق میں واقع شامی وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا تھا اور دروز اکثریتی علاقے سے شامی فورسز اور متحارب گروپوں کے انخلاء کا مطالبہ کیا تھا۔ اس حملے نے خطے میں کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا تھا۔

Advertisement