Advertisement

فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے پر امریکا نے یونیسکو سے علیحدگی کا اعلان کردیا

یہ ادارہ ایک ایسے نظریاتی ایجنڈے کا بھی پرچار کرتا ہے جو امریکا فرسٹ خارجہ پالیسی سے متضاد ہے، ترجمان امریکی محکمہ خارجہ

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Jul 23rd 2025, 9:50 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے پر امریکا نے یونیسکو سے علیحدگی کا اعلان کردیا

امریکا نے اقوام متحدہ کےادارے یونیسکو سے علیحدگی اختیار کرنےکا اعلان کردیا۔

اسرائیل مخالف جذبات کا پرچار کرنے کا الزام لگا کر امریکا نے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس کا کہنا ہے کہ تعلیم، سائنس اور ثقافت سے متعلق اقوام متحدہ کی اس تنظیم یونیسکو میں شمولیت جاری رکھنا امریکا کے قومی مفاد میں نہیں۔

امریکا کا دعویٰ ہے کہ یونیسکو سماجی اور ثقافتی سطح پر تفریق پیدا کرنے والی پالیسیوں کو بڑھاوا دیتا ہے۔ یہ ادارہ ایک ایسے نظریاتی ایجنڈے کا بھی پرچار کرتا ہے جو امریکا فرسٹ خارجہ پالیسی سے متضاد ہے۔ یونیسکو کا فلسطینی ریاست تسلیم کرنا سنگین مسئلہ ہے جو کہ امریکی پالیسی کےمنافی ہے اور تنظیم میں اسرائیل مخالف موقف پھیلانے کا ذریعہ بنا ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ عالمی تنظیموں میں امریکی شرکت اس پالیسی پر مبنی ہوگی کہ امریکی مفادات کو پروان چڑھایا جائے۔

یونیسکو سے امریکا کی علیحدگی کا اطلاق 21 دسمبر 2026 سے ہوگا۔امریکا نے اپنے فیصلے سے یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل آدرے آزولے کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے۔

یہ دوسری بار ہوگا کہ ٹرمپ انتطامیہ یونیسکو سے علیحدگی اختیار کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ یونیسکو نے اکتوبر سن 2011 میں فلسطین کو تنظیم کا رکن بنالیا تھا جس پر اوباما دور حکومت میں امریکا نے ادارے کی 60 ملین ڈالر امداد فوری طور پر بند کر دی تھی

Advertisement