Advertisement

اسرائیلی حکومت نے متحدہ عرب امارات سے اپناسفارتی عملہ واپس بلا لیا،مگر کیوں؟

ایرانی حمایت یافتہ گروپوں بشمول حماس، حزب اللہ اور دیگر عالمی جہادی تنظیموں نے اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں،رپورٹس

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Aug 2nd 2025, 12:20 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
اسرائیلی حکومت نے متحدہ عرب امارات سے اپناسفارتی عملہ واپس بلا لیا،مگر کیوں؟

تل ابیب: اسرائیلی حکومت نے متحدہ عرب امارات سے اپنے سفارتی مشن کے بیشتر عملے کو فوری طور پر واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر امارات سے اسرائیلی سفیر اور عملے کی واپسی کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیاہےجبکہ صہیونی حکومت نے خطے میں موجود اپنی تمام سفارت خانوں کو سیکیورٹی الرٹ جاری کردیا ہے۔

صہیونی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ گروپوں بشمول حماس، حزب اللہ اور دیگر عالمی جہادی تنظیموں نے اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا کہ خصوصاً یہودی تعطیلات اور ہفتہ وار عبادت (شبات) کے دوران یو اے ای میں مقیم اسرائیلی اور یہودی شہریوں کو ممکنہ حملوں کا نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 2020 میں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں سے ہونے والے ابراہام معاہدے کے تحت یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان رسمی تعلقات قائم ہوئے تھے، جس کے بعد سے اماراتی سرزمین پر اسرائیلی اور یہودی برادری کی موجودگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

 تاہم، اب اس خطے میں اسرائیلیوں کے لیے سیکیورٹی صورتحال کو لے کر پیدا ہونے والے نئے خدشات نے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔

 

 

Advertisement
Advertisement