Advertisement
پاکستان

اردو کے نامور شاعر احمد فراز کی سترہویں برسی آج منائی جا رہی ہے

احمد فراز کو آدم جی ایوارڈ،ستارہ امتیاز،ہلال امتیاز،اباسین ایوارڈ،نقش ادب ایوارڈ سمیت لاتعداد ملکی و غیرملکی ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Aug 25th 2025, 5:54 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
اردو کے نامور شاعر احمد فراز کی سترہویں برسی آج منائی جا رہی ہے

ویب ڈیسک: اردو کے نامور شاعر احمد فراز کی سترہویں برسی آج (پیر) منائی جا رہی ہے۔

اردوزبان کے مایہ ناز شاعر احمد فراز بارہ جنوری انیس سواکتیس کو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید احمد شاہ تھا،انہوں نے اپنے ادبی سفرکا آغاز ریڈیو پاکستان پشاور کے اسکرپٹ رائٹر کے طور پر کیا اور بعد میں پشاور یونیورسٹی میں بطور لیکچراراپنی ملازمت کاآغازکیا۔

 دوران تعلیم انہوں نے اپنا پہلا شعری مجموعہ تنہا تنہا لکھا تھا۔احمد فراز کے مجموعہ کلام میں تنہا تنہا،درد آشوب،بے آواز گلی کوچوں میں،نابینا شہر میں آئینہ،نایافت،خواب گل پریشاں ہیں،جاناں جاناں،غزل بہانہ کروں اور دیگر قابل ذکر ہیں۔

وہ ترقی پسند مصنفین تحریک کے رکن تھے۔ 

احمد فراز کو آدم جی ایوارڈ،ستارہ امتیاز،ہلال امتیاز،اباسین ایوارڈ،نقش ادب ایوارڈ سمیت لاتعداد ملکی و غیرملکی ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہےاحمد فراز کی شاعری کے انگریزی، فرانسیسی، پنجابی، جرمن،روسی اور دیگر زبانوں میں بھی تراجم شائع ہو چکے ہیں۔

احمد فراز گردوں کے عارضے کا شکار تھے وہ علاج کیلئے امریکہ بھی گئے تھے جہاں سے وہ صحتیاب ہو کر آئے تھے 25 اگست 2008ءکو  اسلام آباد کے ایک اسپتال میں دم توڑ گئے تھے۔

Advertisement