Advertisement

ایران کا جوہری پروگرام پر سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر غور

ایران کی جانب سے یہ بیان اس وقت آیا جب تین یورپی طاقتوں نے تہران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے عمل کا آغاز کیا تھا

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Aug 29th 2025, 12:58 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
ایران کا جوہری پروگرام پر سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر غور

تہران : ایران نےاسرائیل اور امریکہ کے ساتھ حالیہ 12 روزہ جنگ اور کشیدگی کےبعداپنے نیوکلئیر پروگرام پر سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کردی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو کہا کہ ایران مغربی ممالک کی طرف سے نیک نیتی دکھائے جانے کی صورت میں اپنے جوہری پروگرام پر منصفانہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

عباس عراقچی نے یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ کو ایک خط میں لکھا کہ انہوں نے ایران کی آمادگی کا اعادہ کیا ہے کہ وہ منصفانہ اور متوازن سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرے گا،ےتاہمبشرط یہ کہ دوسرے فریقین سنجیدگی اور نیک نیتی کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کامیابی کے امکانات کو نقصان پہنچائیں۔

خیال رہے کہ ایران کی جانب سے یہ بیان اس وقت آیا جب تین یورپی طاقتوں نے تہران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے عمل کا آغاز کیا تھا۔

اس سے قبل برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں عائد کرنے کا عمل شروع کیا تھا، جس پر ایران نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے یورپی ممالک کے اس اقدام کو غیر معقول اور غیر قانونی قرار دیا۔

تینوں یورپی ممالک نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ ایران نے جوہری پروگرام سے متعلق وعدوں کی پاسداری نہیں کی، ایران 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔

Advertisement