مِگ طیاروں کے غیر فعال ہونے کے بعد بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے اسکواڈرن کی تعداد 29 رہ گئی ہے جو کئی دہائیوں کے دوران کم ترین تعداد ہے


ویب ڈیسک : (احسان اللہ اسحاق )بھارتی فضائیہ نے 26ستمبر کو منعقد ہونے والی ایک تقریب کےدوران 62 سال سے زیر استعمال روسی ساختہ جنگی طیاروں مِگ 21 کو ریٹائر کر دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی فضائیہ نے 62 سالہ خدمات کے بعد اپنے مگ-21 طیاروں کو خیرباد کہہ دیا۔ اس حوالے سے خصوصی تقریب چندی گڑھ ایئر بیس پر منعقد کی گئی جہاں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سمیت فضائیہ کے اعلیٰ افسران اور سابق پائلٹس بھی شریک ہوئے۔
اس الوداعی تقریب میں 2 مختلف مگ-21 طیاروں نے بھارتی فضائیہ کے لیے آخری پروازیں مکمل کیں، جس کے بعد ان طیاروں کو فضائی خدمات سے سبگدوش کر دیا گیا۔

اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے مِگ21 کو ’طاقتور مشین اور قومی فخر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’مِگ21 صرف ایک طیارہ یا مشین نہیں بلکہ بھارت اور روس کے قریبی تعلقات کی علامت بھی ہے‘۔
علاوہ ازاں تقریب میں بھارتی فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل اے پی سنگھ نے مِگ 21 بائسن طیارے میں ’بادل 3‘ کے کال سائن کے ساتھ آخری پرواز کی۔
مگ 21 طیاروں کی تاریخ اور حادثات
مگ-21 سوویت یونین کے دور میں تیار کیا گیا، جس میں ایک سنگل انجن تھا،ایک زمانے تک دنیا کے بہترین طیاروں میں شمار ہوتے تھے، چونکہ یہ ایک سپرسونک طیارہ ہے، اس لیے اس کی حد رفتار 2,230 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ اس طیارے میں 4 میزائل نصب کیے جا سکتے ہیں۔
اس کی تیاری 1959 میں شروع ہوئی جب اسے پہلی بار سوویت فضائیہ میں شامل کیا گیا۔جبکہ بھارت نے یہ طیارے 60 کی دہائی میں بھارتی فضائیہ میں شامل کیے گئے تھے،جن کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھ کر 874 ہو گئی۔
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ میں سرکاری تصدیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 2012 تک 482 مگ طیارےحادثے کا شکار ہو کر تباہ ہوئے جن میں 171 پائلٹ ،جبکہ 50 کے قریب عام شہری اور تکنیکی عملے کے افراد جاں بحق ہوئے جبکہ اب تک مجموعی طور پر 490 طیارے، 200 سے زیادہ پائلٹ اور 60 سے زائد عام شہری اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

اس خراب ریکارڈ کے باعث بھارتی پائلٹس میں یہ طیارے ’فلائنگ کوفِن‘ یا ’اڑتے تابوت‘ کے نام سے مشہور ہیں،تاہم ان سب فضائی حادثوں کے باوجود بھارتی فضائیہ اور میڈیا کی جانب سے مگ-21 کی کارکردگی کو کافی بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، مگر زمینی صورتحال اور اعداد وشمار کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔
جنگی مہارتیں
بھارت نے مگ 21 طیارے آپریشن سیندور، کارگل جنگ، بالاکوٹ حملوں اور 1965 اور 1971 کی جنگوں میں استعمال کیے،جہاں پاکستان فضائیہ کےسامنے یہ جنگی طیارے خاطر خواہ کارگردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے۔
بھارت کی جانب سے ان جنگی طیاروں کا استعمال پہلی بار ستمبر 1965 میں ہونے والی 17 روزہ جنگ کے دوران کیا گیا،جب پاکستان ائیر فورس کے اسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر کی قیادت میں فضائیہ نےپٹھان کوٹ ائیربیس پر حملہ کیا تھا، حملے کے دوران پاکستان فضائیہ نے زمین پر کھڑے بیشتر مگ-21 طیاروں کو اڑنے سے پہلے ہی ملبے کا ڈھیر بنا دیا، جس کے بعد یہ طیارے جنگ ستمبر 1965ء میں کسی محاذ پر نظر نہیں آئے۔
اسکوڈران لیڈر سجاد حیدر ر کواس غیر معمولی کارنامہ کی بنا پر ''Saviour of Lahore‘‘ یعنی لاہور کے محافظ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایئر مارشل (ر) اصغر خان مرحوم کہا کرتے تھے کہ سجاد ان بہادر مردوں میں سے ہے جنہوں نے 1965ء کی جنگ میں ملک کے دفاع میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اسی طرح1971ء میں بھارت کو روس سے خصوصی معاہدے کی وجہ سے بڑی تعداد میں مگ-21 اور دوسرا روسی ساختہ اسلحہ مل گیا تھا جس نے بھارت کو کچھ برتری ضرور دی ، لیکن تب بھی یہ طیارے کوئی خاطر خواہ کارگردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے تھے۔
تاہم اس جنگ میں بھی مختلف اندازوں اور دعوؤں کے مطابق بھارتی فضائیہ کے60 سے 75 طیاروں کو نقصان پہنچا، جن میں 7 سے زائد مگ 21 طیارے بھی شامل تھے جبکہ 1999کی کارگل جھڑپوں میں ایک بھارتی مگ-21 پاکستان آرمی نے دوران پرواز مار گرایاتھا۔
2019 میں یہ طیارے ایک دفعہ پھر خبروں کی زینت بنےجب 2019 میںبھارت کی جانب سے پاکستان میں بالا کوٹ کے مقام پر ائیر سٹرائیک کی گئی جس میں بھارت نے متعدد دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا مگر وہ اس حوالے سے کوئی بھی ٹھوس ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا۔

اس دوران پاکستان ائیر فورس نے جوابی آپریشن جس کو’’ آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ ‘‘ کا نام دیا گیا تھا ،کرتے ہوئے ایک اور مگ-21 طیارہ پاکستانی حدود میں مار گرایا جو ونگ کمانڈر ابھی نندن اڑا رہے تھے۔ طیارے کی تباہی کے ساتھ پائلٹ بھی گرفتار کر لیا گیا،جسے بعدا زاں پاکستان کی جانب خیر سگالی اورامن کے پیغام کے تحت بھارت کے حوالے کر دیا گیا۔
اس واقعے نے دنیا بھر میں بھارتی فضائیہ کی صلاحیتوں پرمتعدد سوالات اٹھا دیے۔
اسکوڈارن کی تعداد میں کمی
دوسری جانب مِگ طیاروں کے غیر فعال ہونے کے بعد بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے اسکواڈرن کی تعداد 29 رہ گئی ہے جو کئی دہائیوں کے دوران کم ترین تعداد ہے۔جبکہ بھارت کو 42 اسکوڈارن کی تعدد درکار ہے۔
نئے جنگی طیاروں کے لیے 7 ارب ڈالر کا معاہدہ
دوسری جانب بھارت نے جنگی طیاروں کی کمی پورا کرنے اور نئے طیارے فضائی بیڑے میں شامل کرنے کے لیے سات ارب ڈالر کا آرڈر دیا ہے جس کے تحت 97 گھریلو طور پر ڈیزائن اور تیار کیے گئے "تیجس" لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے۔
تیجس لڑاکا طیاروں کا یہ آرڈر تعداد کے اعتبار سے بھارت کے ایک ہی بار دیے گئے بڑے آرڈرز میں سے ایک ہے۔ ان طیاروں کی پہلی کھیپ 2016 میں فضائیہ میں شامل ہوئی تھی، جب کہ تازہ آرڈر اس کے اپ گریڈڈ ورژن ایم کے ون اے، کے لیے ہے۔
دوسری جانب سے اس حوالے سے بھارتی وزارت دفاع نے کہا کہ ''ان طیاروں کی ترسیل 2027-28 میں شروع ہوگی اور چھ سال کی مدت میں مکمل کی جائے گی۔‘‘
خیال رہے کہ بھارت ہتھیار درآمد کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے۔ اس نے اپنی افواج کو جدید بنانے کو اولین ترجیح بنا رکھا ہے اور ملکی پیداوار کو بڑھانے کے لیے کوششیں کی ہیں۔

ملک میں سونے کی قیمت میں ہزارں روپے کا مزید اضافہ
- 4 hours ago

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات
- 4 hours ago

عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کردی
- an hour ago
چارٹر طیارہ حادثے کا شکار، دو پائلٹ سمیت 8 افراد ہلاک
- 3 days ago

بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈی جے کراچی میں سروں سے بھری شام سجانےکو تیار
- an hour ago

پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئر لائنز کو اربوں ڈالر کا نقصان
- 2 days ago
ملک میں سونے کی قیمتوں پھر بڑا اضافہ ریکارڈ
- 2 days ago
ٹیکسلا: ٹک ٹاکر شمسو بی بی کے قتل کا معمہ حل، والد اوربھائی نےقتل کیا
- 2 days ago
وزیراعظم اور ملائیشین ہم منصب کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، دوطرفہ تعاون پر گفتگو
- 2 days ago
پنجاب: اسکولوں کے اوقات کار تبدیل، نیا شیڈول جاری
- 2 days ago
شوہر کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نیا انکشاف
- 4 hours ago

عمران خان کی اسپتال منتقلی، پی ٹی آئی نے حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی
- 2 days ago

