Advertisement
پاکستان

علی امین کا استعفیٰ تاحال منظور نہ ہو سکا، وزیراعلیٰ کو تحریک عدم اعتماد سے ہٹانے کی تیاری

علی امین کا استعفیٰ ابھی تک ان کے پرنسپل سیکرٹری تک نہیں پہنچا، جب استعفیٰ ملے گا تو اسے دیکھ کر فیصلہ کروں گا،گورنر فیصل کریم

GNN Web Desk
شائع شدہ 10 months ago پر Oct 11th 2025, 3:23 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
علی امین  کا استعفیٰ تاحال منظور نہ ہو سکا، وزیراعلیٰ کو تحریک عدم اعتماد سے ہٹانے کی تیاری

پشاور:وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ 48 گھنٹوں سے زائد وقت گزرنے کے باوجود و بھی منظور نہ ہو سکا جس کے باعث نئے وزیر اعلی کا انتخاب معمہ بن گیا ہے،جس کے بعد وزیر اعلی کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کی رات گئے تک اسپیکر ہاؤس میں اہم بیٹھک ہوئی۔ جس میں وزیراعلیٰ کے استعفے کے بعد پیدا ہونے والے آئینی و سیاسی بحران پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ رات کو ہونے والے اجلاس میں تجویز زیر غور آئی تھی کہ فوری طور پر خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے، اور اگر گورنر کی جانب سے وزیراعلیٰ کا استعفیٰ منظور نہ کیا گیا تو تحریکِ عدم اعتماد پیش کی جائے، جبکہ اس حوالے سے تمام تر تیاریاںمکمل کی جا چکی ہیں۔

اسمبلی ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں چھٹی کے باوجود تمام عملہ موجود ہے، اور آج سہ پہر 3 بجے کے پی اسمبلی کا اجلاس بلائے جانے کا امکان ہے تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔

دوسری جانب علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ استعفیٰ گورنر کو بھیج چکا ہوں، ڈرامے بازی بند ہونی چاہیے جبکہ گورنر کے پی کا کہنا ہے کہ علی امین کا استعفیٰ ابھی تک ان کے پرنسپل سیکرٹری تک نہیں پہنچا، جب استعفیٰ ملے گا تو اسے دیکھ کر فیصلہ کروں گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر استعفے کو ہاتھ سے نہ لکھے جانے کی بنیاد پر اعتراض لگا سکتے ہیں، جس کے باعث استعفے کی منظوری مزید تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔

خیال رہے کہ اس وقت کے پی اسمبلی کے 145 رکنی ایوان میں سے آزاد اراکین کی تعداد 93 ہے جبکہ اپوزیشن اراکین کی تعداد 52 ہے۔ اگر علی امین گنڈا پور کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جاتی ہے تو  اس کی منظوری کے لیے 73 ووٹ درکار ہوں گے۔

Advertisement
Advertisement