عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے وزیر اعلیٰ کے پی کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع
یہ پٹیشن وفاقی وزارتِ داخلہ، پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ، آئی جی جیل خانہ جات پنجاب اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو فریق بناتے ہوئے دائر کی گئی ہے۔


خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
گزشتہ روز جیل کے دورے کے دوران سہیل آفریدی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ عمران خان، جو اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں، اس وقت 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، جب کہ ان پر 9 مئی کے واقعات سے متعلق انسداد دہشت گردی کے مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جیل کے باہر تقریباً دو گھنٹے انتظار کرتے رہے، مگر ملاقات نہ ہونے پر واپس لوٹنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وہ صوبائی کابینہ کی تشکیل سے قبل عمران خان سے مشورہ کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے دورے سے قبل وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا تھا، لیکن جواب نہیں ملا۔ یہاں تک کہ جب انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو فون کیا تو وہاں سے بھی کوئی ردعمل نہیں آیا۔
ڈان نیوز کو موصولہ معلومات کے مطابق، سہیل آفریدی کی جانب سے دائر کی گئی رِٹ پٹیشن میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بطور وزیر اعلیٰ، وہ صوبائی نظم و نسق، کابینہ سازی، عوامی فلاح، معاشی امور اور بین الصوبائی تعلقات جیسے اہم معاملات میں عمران خان سے رہنمائی حاصل کرنے کے قانونی و اخلاقی طور پر پابند ہیں۔
یہ پٹیشن وفاقی وزارتِ داخلہ، پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ، آئی جی جیل خانہ جات پنجاب اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو فریق بناتے ہوئے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل، سید علی بخاری کے مطابق، 15 اکتوبر 2025 کو باضابطہ طور پر عمران خان سے ملاقات کی درخواست دونوں متعلقہ محکموں کو ارسال کی گئی، جسے انہوں نے وصول بھی کر لیا، مگر اس پر کوئی عمل درآمد نہ ہوا۔
وزیر اعلیٰ آفریدی نے اس معاملے پر چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کو بھی خط تحریر کیا ہے، جس میں عوامی مفاد اور صوبائی حکمرانی کے تناظر میں عمران خان سے ملاقات کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے پارٹی قائد سے مشاورت کی سخت ضرورت ہے، خاص طور پر جب پنجاب نے بین الصوبائی تجارت، جیسا کہ گندم کی ترسیل، پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
سہیل آفریدی نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ وہ وفاقی حکومت کی جانب سے طلب کیے گئے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے، کیونکہ وہ پہلے عمران خان سے پالیسی مشورہ لینا چاہتے تھے۔ ان کے بقول، بغیر رہنمائی اجلاس میں شرکت عوامی مینڈیٹ کی توہین کے مترادف ہے۔
یاد رہے کہ سہیل آفریدی پیر کو خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے، جب کہ اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے استعفے کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال پائی گئی۔
پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سہیل آفریدی کے انتخاب کو آئینی قرار دیتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا کو فوری حلف برداری کی ہدایت جاری کی، اور متنبہ کیا کہ مقررہ وقت پر عمل نہ ہوا تو اسپیکر اسمبلی کو حلف لینے کا اختیار حاصل ہوگا۔
.jpeg&w=3840&q=75)
پنجاب میں جدید زرعی آلات کی مقامی تیاری کیلئے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق
- 2 days ago

سعودی عرب کا دفاع، پاکستان کا دفاع ہے: طاہراشرفی
- 3 days ago

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ڈیٹا سینٹر سکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا
- 2 days ago

اداکارہ و ماڈل روما مائیکل نے جیون ساتھی چن لیا
- 34 minutes ago
لاہور: آوارہ کتوں کا دو کم سن بچوں پر حملہ، دونوں شدید زخمی
- 3 days ago
وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو ''فور اسٹار جنرل''کے عہدے پر ترقی دینے کااعلان
- 2 days ago
پنجاب حکومت کا پرواز کارڈ اسکیم کے تحت اوورسیز روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز سے اشتراک
- 37 minutes ago
ملک میں یومِ تکریمِ شہداء پر خطباتِ جمعہ میں قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت
- 2 days ago

مون سون نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، محکمۂ صحت ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ سے الرٹ
- 2 days ago
لیجنڈ گلوکارعطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا اپنی تدفین کے حوالے سے انکشاف
- 2 days ago

سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بڑی کمی، خریداروں کے چہرے کھل اٹھے
- 2 days ago

لاہور: غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا حکم
- 2 days ago


