ذرائع کے مطابق کابینہ کے متعدد وزرا نے پیپلز پارٹی کے نئے قائدِ ایوان کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔


وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے اپنے استعفے کے حوالے سے مشاورت کا عمل مکمل کرلیا ہے، اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ آج رات یا کل اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔
ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کا حتمی مرحلہ شروع ہونے والا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی آزاد کشمیر اسمبلی میں واضح اکثریت کے باعث چوہدری انوارالحق اپنے رفقا کے ہمراہ اپوزیشن بینچوں پر بیٹھیں گے۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے بھی اپوزیشن میں جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کے متعدد وزرا نے پیپلز پارٹی کے نئے قائدِ ایوان کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
آئینی ماہرین کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار موجود ہے۔ اگر وہ مستعفی ہوتے ہیں تو صدر آزاد کشمیر اسمبلی کا اجلاس طلب کریں گے۔ ریاستی آئین کے تحت وزیراعظم کے استعفے کے بعد 14 روز کے اندر نئے قائدِ ایوان کا انتخاب لازم ہے۔
یہ اسمبلی اب تک تین وزرائے اعظم کا انتخاب کرچکی ہے، اور موجودہ صورتحال میں چوتھے وزیراعظم کے انتخاب کی تیاری ہے۔ وزیراعظم اپنا استعفیٰ صدر آزاد کشمیر کو بھجوائیں گے۔ اگر اسمبلی سیشن میں ہے تو نئے وزیراعظم کا انتخاب فوراً کیا جائے گا، بصورت دیگر صدر 14 دن کے اندر اجلاس بلانے کے پابند ہوں گے۔
تحریکِ عدم اعتماد اسمبلی کے کل ارکان کے کم از کم 25 فیصد کے دستخطوں سے جمع کرائی جاسکتی ہے، اور اس کے ساتھ نئے وزیراعظم کا نام بھی پیش کرنا ضروری ہے۔ کوئی بھی رکن اسمبلی سیکرٹری کو عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا نوٹس دے سکتا ہے، جس کے بعد سیکرٹری اس کی نقل صدر اور دیگر متعلقہ ارکان کو بھیج دے گا۔
اگر تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوجائے تو اگلے چھ ماہ تک نئی تحریک نہیں لائی جاسکتی۔ وزیراعظم کو کسی بھی وقت اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم یہ اختیار تب ہی استعمال کیا جاسکتا ہے جب ان کے خلاف کوئی تحریکِ عدم اعتماد زیرِ التوا نہ ہو۔
اگر صدر وزیراعظم کی ایڈوائس پر اسمبلی تحلیل نہ کریں تو اسمبلی 48 گھنٹوں بعد خود بخود تحلیل ہوجائے گی۔ اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں 90 روز کے اندر عام انتخابات کرانا آئینی طور پر لازم ہوگا۔

فتنہ الہندوستان کی دہشتگردی کیخلاف بلوچستان کی سیاسی قیادت متحد، کوئٹہ دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت
- 3 دن قبل

سوات ایکسپریس وے پر وین کی مسافر بس کو ٹکر، 16 افراد جاں بحق، 7 زخمی
- 3 دن قبل

رواں سال عید الاالضحیٰ پر تین لالی وڈ فلمیں سینما گھروں کی زینت بنیں گی
- 3 دن قبل
امام مسجد نبوی کا مسلمانوں کے مابین اتحاد کے فروغ پر زور
- ایک دن قبل

وزیر اعظم کی صدر شی سے ملاقات،دونوں ممالک نےایک ناقابلِ شکست روایتی دوستی قائم کی،چینی صدر
- 3 دن قبل

آبنائے ہرمز سے مزید تیل اور ایل این جی بردار جہاز گزر کر پاکستان اور چین کو روانہ
- 3 دن قبل

اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوا تو وہ ایک بہترین معاہدہ ہوگا ورنہ کوئی ڈیل نہیں ہوگی،ٹرمپ
- 3 دن قبل

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی چینی وزیراعظم لی چیانگ سے غیر رسمی ملاقات
- 3 دن قبل

ملک بھر میں عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وجذبے سے منائی جا رہی ہے
- 6 گھنٹے قبل

پرنس رحیم الحسینی آغا خان کا گلگت بلتستان اور چترال کا تین روزہ دورہ مکمل کر واپس روانہ
- 3 دن قبل
پاکستان،چین دوستی کو آئندہ نسلوں کیلئے مزید مضبوط بنانا ہو گا،وزیراعظم
- ایک دن قبل
قوم کل عیدالاضحی مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- ایک دن قبل



